جو سخت تر ہے وہ مشکل ابھی نہیں آئی
جو سخت تر ہے وہ مشکل ابھی نہیں آئی
بڑھو کہ سرحد منزل ابھی نہیں آئی
حیات ڈھونڈے گی جائے اماں نہ پائے گی
وہ آزمائش قاتل ابھی نہیں آئی
سن بلوغ کو پہونچا نہیں جنوں شاید
کہ قید طوق و سلاسل ابھی نہیں آئی
نہ جانے ہوں گے یہاں قتل کتنے حق والے
سمجھ میں سازش باطل ابھی نہیں آئی
خدا کا شکر ہے باقی ہے روشنی کی تمیز
کہ صبح شام کے قابل ابھی نہیں آئی
کسی کی یاد میں جلنا مجھے نہیں آتا
کہ رخ پہ روشنیٔ دل ابھی نہیں آئی
پڑاؤ ڈال نہ اخترؔ رہے سفر جاری
فصیل شام مقابل ابھی نہیں آئی