یوں جو کھلتا ہے زمانے کا بھرم اچھا ہے

یوں جو کھلتا ہے زمانے کا بھرم اچھا ہے
ہم پہ ہوتے ہیں زمانے کے ستم اچھا ہے


وہ قدم کیا جو تجسس میں رہے منزل کے
بڑھ کے خود چوم لے منزل وہ قدم اچھا ہے


ہے تمنائے اسیری تو کبھی اس میں الجھ
گیسوئے وقت کا پیچ اچھا ہے خم اچھا ہے


امن و انصاف و مساوات کی خاطر لوگو
تم اٹھاؤ جو بغاوت کا علم اچھا ہے


قطرے ملتے ہیں تو وہ ہوتے ہیں دریا میں شمار
ہم ملا کر جو چلیں اپنے قدم اچھا ہے


شیشۂ دل میں تو ہے دوست کے عرفاں کی شراب
شیشۂ دل سے کہاں ساغر و جم اچھا ہے


مل کے کچھ کرنے کا اب آیا ہے وقت اے یارو
جس قدر ہم میں رہے فاصلہ کم اچھا ہے


اخترؔ آ کر چمن گنگ و جمن کو دیکھے
جو یہ کہتا ہے کہ گلزار ارم اچھا ہے