شاعری

جو ذہن و دل کے زہریلے بہت ہیں

جو ذہن و دل کے زہریلے بہت ہیں وہی باتوں کے بھی میٹھے بہت ہیں چلو اہل جنوں کے ساتھ ہو لیں یہاں اہل خرد سستے بہت ہیں مری بے چہرگی پر ہنسنے والو تمہارے آئنے دھندلے بہت ہیں ذرا یادوں کے ہی پتھر اچھالو نواح جاں میں سناٹے بہت ہیں تری بالا قدی بدنام ہوگی یہاں کے بام و در نیچے بہت ...

مزید پڑھیے

جو فقط شوخیٔ تحریر بھی ہو سکتی ہے

جو فقط شوخیٔ تحریر بھی ہو سکتی ہے وہ مرے پاؤں کی زنجیر بھی ہو سکتی ہے صرف ویرانہ ہی غمگینی کا باعث تو نہیں عہد ماضی کی وہ تصویر بھی ہو سکتی ہے چشم حسرت سے جو ٹپکی ہے لہو کی اک بوند صبح امید کی تنویر بھی ہو سکتی ہے رنج و غم ٹھوکریں مایوسی گھٹن بے زاری میرے خوابوں کی یہ تعبیر بھی ...

مزید پڑھیے

جو پلکوں پر مری ٹھہرا ہوا ہے

جو پلکوں پر مری ٹھہرا ہوا ہے وہ آنسو خون میں ڈوبا ہوا ہے فرشتے خوان لے کر آ رہے ہیں صحیفہ طاق میں رکھا ہوا ہے کوئی انہونی شاید ہو گئی پھر غبار کارواں ٹھہرا ہوا ہے کسی کی خواہشیں پابستہ کر کے یہ کب سوچا حرم رسوا ہوا ہے وہ اک لمحہ جو تیرے وصل کا تھا بیاض ہجر پر لکھا ہوا ہے مجھے ...

مزید پڑھیے

ہم شعلہ بدست اتنی محبت سے جلے ہیں

ہم شعلہ بدست اتنی محبت سے جلے ہیں جو دیکھنے والے تھے وہ حسرت سے جلے ہیں خوشبو سے جلے ہیں کبھی صورت سے جلے ہیں بد خواہ حسد کرنے کی عادت سے جلے ہیں جل جائے جہاں خون نہیں کھولتا ان کا ہم برف زدہ لوگوں کی فطرت سے جلے ہیں کب شعلگی لو دینے سے آئی ہے کبھی باز یہ حسن نظر والے عنایت سے ...

مزید پڑھیے

روز اول ہی خطا کار بنایا گیا ہوں

روز اول ہی خطا کار بنایا گیا ہوں اور پھر اشرف مخلوق بتایا گیا ہوں ٹوٹنے اور بکھرنے پہ ہے واویلا کیوں دیکھیے کتنی بلندی سے گرایا گیا ہوں اختیارات سے تقدیر سے کیا لینا ہے وقت کی گرد میں تنکا سا اڑایا گیا ہوں زندگی ایک ڈگر پر ہی کہاں چلتی ہے کبھی دیوار کبھی دل سے لگایا گیا ...

مزید پڑھیے

رفاقتوں کا بھرم توڑ جانے والا نہیں

رفاقتوں کا بھرم توڑ جانے والا نہیں مقابلے میں اگر آیا تر نوالہ نہیں پڑی ہوئی ہے نسب قیس سے ملانے کی کسی نے دشت مکمل مگر کھنگالا نہیں یہاں بلند صدائیں لگا غبار اڑا دیار عشق ہے تہذیب کا حوالہ نہیں ہمارے عہد کے سقراط مصلحت بیں ہیں کسی کے ہاتھ میں بھی زہر کا پیالا نہیں سفر میں ...

مزید پڑھیے

اپنے الفاظ و معانی سے نکل آیا ہے

اپنے الفاظ و معانی سے نکل آیا ہے وہ کہانی کی روانی سے نکل آیا ہے کھینچ لائی ہے ہمیں چاندنی شب میں خوشبو سانپ بھی رات کی رانی سے نکل آیا ہے خود کو روپوش کیا کتنے ہی کرداروں میں پھر بھی فن کار کہانی سے نکل آیا ہے جاگ اٹھی ہے تڑپ دور چلے جانے سے راستہ نقل مکانی سے نکل آیا ہے پھوٹ ...

مزید پڑھیے

بیٹھا ہوں اپنی ذات کا نقشہ نکال کے

بیٹھا ہوں اپنی ذات کا نقشہ نکال کے اک بے زمین ہاری ہوں صحرا نکال کے ڈھونڈا بہت مگر کوئی رستہ نہیں ملا اس زندگی سے تیرا حوالہ نکال کے الماری سے ملے مجھے پہلے پہل کے خط بیٹھا ہوا ہوں آپ کا وعدہ نکال کے ویرانیوں پہ آنکھ چھما چھم برس پڑی لایا ہوں میں تو دشت سے دریا نکال کے آسانیاں ...

مزید پڑھیے

رگ جاں میں اتر کر بولتا ہے

رگ جاں میں اتر کر بولتا ہے حقیقت جب سخنور بولتا ہے کسی سے کب وہ ڈر کر بولتا ہے زبان حق قلندر بولتا ہے عطا ہوتی ہے جس کو چشم بینا تو قطرے میں سمندر بولتا ہے نہیں ہیرا چمکتا بے تراشے ترش جائے تو پتھر بولتا ہے وہ جھوٹا ہے جو بے تحقیق باتیں کسی سے سن کے اکثر بولتا ہے وہی ہے معتبر ...

مزید پڑھیے

تیرا ہر راز چھپائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی

تیرا ہر راز چھپائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی خود کو دیوانہ بنائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی ساقیٔ بزم کے مخصوص اشاروں کی قسم جام ہونٹوں سے لگائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی اس نمائش گہہ عالم میں کمی ہے اب تک اشک آنکھوں میں چھپائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی شب کی دیوی کا سکوت اور ہی کچھ کہتا ہے پھر بھی دو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4253 سے 4657