جو ذہن و دل کے زہریلے بہت ہیں
جو ذہن و دل کے زہریلے بہت ہیں وہی باتوں کے بھی میٹھے بہت ہیں چلو اہل جنوں کے ساتھ ہو لیں یہاں اہل خرد سستے بہت ہیں مری بے چہرگی پر ہنسنے والو تمہارے آئنے دھندلے بہت ہیں ذرا یادوں کے ہی پتھر اچھالو نواح جاں میں سناٹے بہت ہیں تری بالا قدی بدنام ہوگی یہاں کے بام و در نیچے بہت ...