پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئے
پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئے کئی ستارے ملے اس گلی میں بکھرے ہوئے مری کہانی سے پہلے ہی جان لے پیارے کہ حادثے ہیں مری زندگی میں بکھرے ہوئے دھنک سی آنکھ کہے بانسری کی لے میں مجھے ستارے ڈھونڈ کے لا نغمگی میں بکھرے ہوئے میں پر سکون رہوں جھیل کی طرح یعنی کسی خیال کسی ...