شاعری

پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئے

پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئے کئی ستارے ملے اس گلی میں بکھرے ہوئے مری کہانی سے پہلے ہی جان لے پیارے کہ حادثے ہیں مری زندگی میں بکھرے ہوئے دھنک سی آنکھ کہے بانسری کی لے میں مجھے ستارے ڈھونڈ کے لا نغمگی میں بکھرے ہوئے میں پر سکون رہوں جھیل کی طرح یعنی کسی خیال کسی ...

مزید پڑھیے

ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف

ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف تیرے لیے میں پاؤں پہ اپنے جم کے کھڑا تھا ایک طرف ایک اک کر کے ہر منزل کی سمت ہی بھول رہا تھا میں دھیرے دھیرے کھینچ رہا تھا تیرا رشتہ ایک طرف دونوں سے میں بچ کر تیرے خواب و خیال سے گزر گیا دل کا صحرا ایک طرف تھا آنکھ کا دریا ایک طرف آگے آگے ...

مزید پڑھیے

اے دنیا تیرے رستے سے ہٹ جائیں گے

اے دنیا تیرے رستے سے ہٹ جائیں گے آخر ہم بھی اپنے سامنے ڈٹ جائیں گے ہم خود کو آباد کریں گے اپنے دل میں تیرے آنکھ جزیرے سے اب کٹ جائیں گے دھند سے پار بھی کام کریں گی اپنی نظریں آنکھ کے سامنے سے یہ بادل چھٹ جائیں گے آخر ڈھل جائے گا ''جیون روگ'' کا سورج ہم بھی ''اوکھے دن'' ہیں لیکن کٹ ...

مزید پڑھیے

وقت بے رحم ہے مقتل کی زمینوں جیسا

وقت بے رحم ہے مقتل کی زمینوں جیسا اور ہمدرد ہے مخلص کی دعاؤں جیسا کوئی منظر نہیں برسات کے موسم میں بھی اس کی زلفوں سے پھسلتی ہوئی دھوپوں جیسا آبلوں کی طرح رہنے نہ دیا اشکوں کو میری پلکوں نے کیا کام ببولوں جیسا سنگ دل ہے نہ فریبی نہ جفاکار ہے وہ میرا محبوب ہے معصوم فرشتوں ...

مزید پڑھیے

ہاتھ جب موسم کے گیلے ہو گئے ہیں

ہاتھ جب موسم کے گیلے ہو گئے ہیں زخم دل کے اور گہرے ہو گئے ہیں بانٹتے تھے جو بہار زندگانی بند اب وہ بھی دریچے ہو گئے ڈوب جائے گا ہمارے ساتھ وہ بھی یہ جو سوچا ہاتھ ڈھیلے ہو گئے ہیں لاج رکھنی پڑ گئی ہے دوستوں کی ہم بھری محفل میں جھوٹے ہو گئے ہیں اے غم ماضی تجھے میں نذر کیا دوں خشک ...

مزید پڑھیے

قسمت میں درد ہے تو دوا ہی نہ لاؤں گا

قسمت میں درد ہے تو دوا ہی نہ لاؤں گا آئینۂ یقیں پہ سیاہی نہ لاؤں گا یا تو مرے بیان پہ منصف یقیں کرے یا پھر سزا لکھے میں گواہی نہ لاؤں گا اس دور نا شناس میں کچھ بھی کہوں مگر اب داستاں میں ذکر وفا ہی نہ لاؤں گا اپنوں سے جنگ ہے تو بھلے ہار جاؤں میں لیکن میں اپنے ساتھ سپاہی نہ لاؤں ...

مزید پڑھیے

لمحہ لمحہ یہی سوچوں یہی دیکھا چاہوں

لمحہ لمحہ یہی سوچوں یہی دیکھا چاہوں تیری آنکھوں میں تو بس اپنا ہی چہرہ چاہوں یہ بھی کیا بات کہ میں تیری انا کی خاطر تیری قامت سے زیادہ ترا سایا چاہوں مجھ سے الفت بھی نہیں ہے تو نہ جانے پھر کیوں تیری محفل میں فقط اپنا ہی چرچا چاہوں وہ تو گونگا ہے مگر مجھ کو یہ ضد ہے کیسی اپنی ...

مزید پڑھیے

سمندر سب کے سب پایاب سے ہیں

سمندر سب کے سب پایاب سے ہیں کناروں پر مگر گرداب سے ہیں ترے خط میں جو اشکوں کے نشاں تھے وہی اب کرمک شب تاب سے ہیں چہک اٹھتا ہے ساز زندگانی ترے الفاظ بھی مضراب سے ہیں دلوں میں کرب بڑھتا جا رہا ہے مگر چہرے ابھی شاداب سے ہیں ہمارے زخم روشن ہو رہے ہیں مسیحا اس لیے بیتاب سے ہیں وہ ...

مزید پڑھیے

جو قطرے میں سمندر دیکھتے ہیں

جو قطرے میں سمندر دیکھتے ہیں تجھے منظر بہ منظر دیکھتے ہیں قبائے درد جب سے زیب تن ہے خوشی کو اپنے اندر دیکھتے ہیں چلو امن و اماں ہے میکدے میں وہیں کچھ پل ٹھہر کر دیکھتے ہیں کبھی تنہائی نے تنہا نہ چھوڑا تماشہ پھر بھی گھس کر دیکھتے ہیں کرم فرمائی ہے سورج کی یہ بھی اسے اپنے برابر ...

مزید پڑھیے

کہاں سے لائیں گے آنسو عزا داری کے موسم میں

کہاں سے لائیں گے آنسو عزا داری کے موسم میں بہت کچھ رو چکے ہم تو اداکاری کے موسم میں اتر آؤں گا میں بھی زینۂ ہستی سے یوں اک دن کہ جیسے رنگ رخ اترے ہے ناداری کے موسم میں تمہارے خط کبھی پڑھنا کبھی ترتیب سے رکھنا عجب مشغولیت رہتی ہے بیکاری کے موسم میں بجز میرے زمانے کی قبا رنگین ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4252 سے 4657