شاعری

ناز بت مہوش پر قربان دل و جاں ہے

ناز بت مہوش پر قربان دل و جاں ہے یہ شان خدا شاہد غارت گر ایماں ہے جو بات بھی ہے پیاری جو چال بھی ہے اچھی آن اس کی نہیں مخفی شان اس کی نمایاں ہے ہم راہ چلوں اس کے کچھ بات کروں اس سے مدت سے یہ حسرت ہے مدت سے یہ ارماں ہے وہ مجھ کو دکھاتے ہیں ہر آن نیا جلوہ میرے لیے ہر جلوہ سرمایۂ ...

مزید پڑھیے

راز چشم مے گوں ہے کیف مدعا میرا

راز چشم مے گوں ہے کیف مدعا میرا غیر کی نظر سے ہے دور میکدہ میرا واسطے کی خوبی نے سہل منزلیں کر دیں حسن عشق کا رہبر عشق رہنما میرا کر دیا مجھے بے خود ان کی بے نیازی نے کہہ رہا ہوں خود ان سے دل سنبھالنا میرا ہائے خوف بدنامی وائے فکر ناکامی بے وفا کے ہاتھوں میں حاصل وفا میرا لطف ...

مزید پڑھیے

جس کے ایماں پر بت کافر ہنسے

جس کے ایماں پر بت کافر ہنسے اللہ اللہ وہ ہنسے کیونکر ہنسے حسن ماہ و ماہوش سحر آفریں ہائے جادوگر پہ جادوگر ہنسے قلقل مینا دکھائے جب اثر میں ہنسوں ساقی ہنسے ساغر ہنسے کیونکر آتی ہے ہنسی کس کو خبر ان پہ میں حیراں ہوں جو مجھ پر ہنسے اک پتے کی بات کہتا ہوں سنو کوئی ہنس کر روئے یا ...

مزید پڑھیے

فرق جب لذت احساس میں پایا نہ گیا

فرق جب لذت احساس میں پایا نہ گیا درد دیکھا نہ گیا تم کو دکھایا نہ گیا چٹکیاں کون یہ رہ رہ کے لئے جاتا ہے میرے دل میں تو مری جاں کوئی آیا نہ گیا لطف یوں رنجش بے جا کے لئے پہروں تک بے سبب روٹھنے والے کو منایا نہ گیا خواب پر کیف کا منظر بھی نشاط آور تھا دوست کو اس لئے کچھ دیر جگایا ...

مزید پڑھیے

اے کشمکش الفت جی سخت پریشاں ہے

اے کشمکش الفت جی سخت پریشاں ہے مرنے کی بھی حسرت ہے جینے کا کا بھی ارماں ہے ساحل سے نہیں لگتی غرقاب نہیں ہوتی کشتی ہے تھپیڑوں میں یہ بھی کوئی طوفاں ہے میں کیا مری الفت کیا تو اور مجھے پوچھے بس اے ستم آرا بس حسرت ہے نہ ارماں ہے یہ موج تبسم کیا ظالم اسے دھو دے گی جو رنگ پشیمانی ...

مزید پڑھیے

گم انہیں میں ہوں ان کا دھیان کب نہیں آتا

گم انہیں میں ہوں ان کا دھیان کب نہیں آتا یاد انہیں بھلانے کا کوئی ڈھب نہیں آتا ضبط گریہ کی تلقیں ختم کر بس اے ہمدم بات بات پر رونا بے سبب نہیں آتا کس پہ جان دیتا ہوں راز ہی میں رہنے دے نام اس دل آرا کا تا بہ لب نہیں آتا کیا کہوں اسے پہلے دیکھتا تھا کس ڈھب سے جو حسیں نظر مجھ کو آہ ...

مزید پڑھیے

اک حسیں کو دل دے کر کیا بتائیں کیا پایا

اک حسیں کو دل دے کر کیا بتائیں کیا پایا لذت فنا چکھی زیست کا مزا پایا منزلوں کی سختی کا غم نہیں خوشی یہ ہے کس ہجوم حسرت میں ہم نے راستہ پایا قدر اس کی پہچانیں آپ یا نہ پہچانیں اپنے دل کو ہم نے تو حسب مدعا پایا بے خودی کی حسرت کیا بے سبب میں کرتا تھا آ کے ہوش میں سمجھا بے خودی میں ...

مزید پڑھیے

حسن کو سمجھتا ہے عشق ہم زباں اپنا

حسن کو سمجھتا ہے عشق ہم زباں اپنا ہے حقیقت ایسی ہی یا ہے یہ گماں اپنا فاش ہم کریں کیونکر راز مدعا یابی گم حصول مقصد میں حاصل بیاں اپنا کارساز ہے کتنی دید و باز دید اپنی مل گیا صلہ ہم کو بعد امتحاں اپنا لطف رنجش بے جا آج دونوں پاتے ہیں مسکرا رہے ہیں وہ دل ہے شادماں اپنا ان کی دل ...

مزید پڑھیے

پوچھو نہ کچھ ثبوت خرد میں نے کیا دیا

پوچھو نہ کچھ ثبوت خرد میں نے کیا دیا ایک مست ناز کو دل بے مدعا دیا اب کیا گلہ کروں عدم التفات کا میری نگاہ یاس نے سب کچھ جتا دیا بڑھتے ہوئے شعور میں گم ہو رہا ہوں میں احساس حسن آپ نے اتنا بڑھا دیا دیکھی نہ جب تجلیٔ تکرار آشنا بے رنگیوں کا رنگ خودی نے جما دیا ہے شاد بے دلی پہ تہی ...

مزید پڑھیے

جب اپنے دل پہ اپنا کچھ اختیار دیکھا

جب اپنے دل پہ اپنا کچھ اختیار دیکھا بیگانہ خو حسیں کو بیگانہ وار دیکھا پیہم تجلیوں کی مجھ میں سکت کہاں تھی نظریں چرا چرا کر سوئے نگار دیکھا آج اپنی بے خودی کو عرفاں کی روشنی میں اس ماہ سیم تن کا آئینہ دار دیکھا تیری عنایتوں سے انجام بیں نظر میں آغاز عشق ہی میں انجام کار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4228 سے 4657