عشق صادق جو اسیر طمع خام نہ تھا
عشق صادق جو اسیر طمع خام نہ تھا سعیٔ ناکام کے غم سے مجھے کچھ کام نہ تھا طور کے لطف خصوصی کی قسم پہلے بھی میرے دل پر اثر جلوہ گہ عام نہ تھا دوست کے حسن توجہ سے نہیں شاداب تک نگہ غم زدہ میں کیا کوئی پیغام نہ تھا حسرت خوں شدہ ہر آن نئی شان میں تھی رنگ جو صبح کو دیکھا وہ سر شام نہ ...