شاعری

عشق صادق جو اسیر طمع خام نہ تھا

عشق صادق جو اسیر طمع خام نہ تھا سعیٔ ناکام کے غم سے مجھے کچھ کام نہ تھا طور کے لطف خصوصی کی قسم پہلے بھی میرے دل پر اثر جلوہ گہ عام نہ تھا دوست کے حسن توجہ سے نہیں شاداب تک نگہ غم زدہ میں کیا کوئی پیغام نہ تھا حسرت خوں شدہ ہر آن نئی شان میں تھی رنگ جو صبح کو دیکھا وہ سر شام نہ ...

مزید پڑھیے

حسن ان کا اپنے ذوق دید میں پاتا ہوں میں

حسن ان کا اپنے ذوق دید میں پاتا ہوں میں سامنے ہو کر وہ چھپتے ہیں تڑپ جاتا ہوں میں عشرت جلوہ بھی ہو جائے جہاں حیرت زدہ اے خیال دوست اس منزل پہ گھبراتا ہوں میں دیکھتا ہوں اپنے غم خواروں کی جب بے دردیاں حسن بے پردہ کی رہ رہ کر قسم کھاتا ہوں میں انتظار اس کا ہے کتنا جاں گسل کیونکر ...

مزید پڑھیے

نیا مے کدے میں نظام آ گیا

نیا مے کدے میں نظام آ گیا اٹھیں بندشیں اذن عام آ گیا نظر میں وہ کیف دوام آ گیا کہ گویا کسی کا پیام آ گیا محبت میں وہ بھی مقام آ گیا کہ مژگاں پہ خوں لب پہ نام آ گیا سر راہ کانٹے بچھاتا ہے شوق جنوں کو بھی کچھ اہتمام آ گیا نہ الزام ان پر نہ اغیار پر یہ دل آپ ہی زیر دام آ گیا بدل ہی ...

مزید پڑھیے

ایسی تنہائی ہے اپنے سے بھی گھبراتا ہوں میں

ایسی تنہائی ہے اپنے سے بھی گھبراتا ہوں میں جل رہی ہیں یاد کی شمعیں بجھا جاتا ہوں میں آ گئی آخر غم دل وہ بھی منزل آ گئی مجھ کو سمجھاتے تھے جو اب ان کو سمجھاتا ہوں میں زندگی آزادہ رو بحر حقیقت بے کنار موج آتی ہے تو بڑھتا ہی چلا جاتا ہوں میں بزم فکر و ہوش ہو یا محفل عیش و نشاط ہر جگہ ...

مزید پڑھیے

دبی آواز میں کرتی تھی کل شکوے زمیں مجھ سے

دبی آواز میں کرتی تھی کل شکوے زمیں مجھ سے کہ ظلم و جور کا یہ بوجھ اٹھ سکتا نہیں مجھ سے اگر یہ کشمکش باقی رہی جہل و تمدن کی زمانہ چھین لے گا دولت علم و یقیں مجھ سے تمہیں سے کیا چھپانا ہے تمہاری ہی تو باتیں ہیں جو کہتی ہے تمنا کی نگاہ واپسیں مجھ سے نگاہیں چار ہوتے ہی بھلا کیا حشر ...

مزید پڑھیے

ترے دیار میں کوئی غم آشنا تو نہیں

ترے دیار میں کوئی غم آشنا تو نہیں مگر وہاں کے سوا اور راستا تو نہیں سمٹ کے آ گئی دنیا قریب مے خانہ کوئی بتاؤ یہی خانۂ خدا تو نہیں لبوں پر آج تبسم کی موج مچلی ہے کوئی مجھے کسی گوشے سے دیکھتا تو نہیں بنا لیں راہ اسی خار زار سے ہو کر جنون شوق کا یہ فیصلہ برا تو نہیں سبب ہو کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

ہے وہی معرکۂ نیکی و شر میرے بعد

ہے وہی معرکۂ نیکی و شر میرے بعد تھم نہ جائیں کہیں یاران سفر میرے بعد کم ہیں ایسے جو کریں عرض ہنر میرے بعد آج غم ناک سے ہیں اہل نظر میرے بعد چند ساعت کے لئے رک بھی گیا رو بھی لیا کارواں پھر بھی ہے سرگرم سفر میرے بعد جذب تھیں جس میں مرے خون وفا کی چھینٹیں بن گیا سجدہ گہہ خلق وہ در ...

مزید پڑھیے

آنکھ کچھ بے سبب ہی نم تو نہیں

آنکھ کچھ بے سبب ہی نم تو نہیں یہ کہیں آپ کا کرم تو نہیں ہم نے مانا کہ روشنی کم ہے پھر بھی یہ صبح شام غم تو نہیں عشق میں بندشیں ہزار سہی بندش دانہ و درم تو نہیں تھا کہاں عشق کو سلیقۂ غم وہ نظر مائل کرم تو نہیں مونس شب رفیق تنہائی درد دل بھی کسی سے کم تو نہیں وہ کہاں اور کہاں ستم ...

مزید پڑھیے

ہے خموش آنسوؤں میں بھی نشاط کامرانی

ہے خموش آنسوؤں میں بھی نشاط کامرانی کوئی سن رہا ہے شاید مری دکھ بھری کہانی یہی تھرتھراتے آنسو یہی نیچی نیچی نظریں یہی ان کی بھی نشانی یہی اپنی بھی نشانی یہ نظام بزم ساقی کہیں رہ سکے گا باقی کہ خوشی تو چند لمحے غم و درد جاودانی ہیں وجود شے میں پنہاں ازل و ابد کے رشتے یہاں کچھ ...

مزید پڑھیے

گو وسیع صحرا میں اک حقیر ذرہ ہوں

گو وسیع صحرا میں اک حقیر ذرہ ہوں رہروی میں صرصر ہوں رقص میں بگولا ہوں ہر سمدر منتھن سے زہر ہی نکلتا ہے میں یہ زہر جیون کا ہنس کے پی بھی سکتا ہوں یہ بھری پری دھرتی اک اننت میلا ہے اور سارے میلے میں جیسے میں اکیلا ہوں یوں تو پھول پھبتا ہے ہر حسین جوڑے پر جس نے چن لیا مجھ کو میں اسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4229 سے 4657