شاعری

آندھیاں چلتی رہیں افلاک تھراتے رہے

آندھیاں چلتی رہیں افلاک تھراتے رہے اپنا پرچم ہم بھی طوفانوں میں لہراتے رہے کاٹ کر راتوں کے پربت عصر نو کے تیشہ زن جوئے شیر و چشمۂ نور سحر لاتے رہے کاروان ہمت جمہور بڑھتا ہی گیا شہر یار و حکمراں آتے رہے جاتے رہے رہبروں کی بھول تھی یا رہبری کا مدعا قافلوں کو منزلوں کے پاس ...

مزید پڑھیے

خرد والو جنوں والوں کے ویرانوں میں آ جاؤ

خرد والو جنوں والوں کے ویرانوں میں آ جاؤ دلوں کے باغ زخموں کے گلستانوں میں آ جاؤ یہ دامان و گریباں اب سلامت رہ نہیں سکتے ابھی تک کچھ نہیں بگڑا ہے دیوانوں میں آ جاؤ ستم کی تیغ خود دست ستم کو کاٹ دیتی ہے ستم رانو تم اب اپنے عزا خانوں میں آ جاؤ یہ کب تک سرد لاشیں بے حسی کے برف خانوں ...

مزید پڑھیے

شکست شوق کو تکمیل آرزو کہیے

شکست شوق کو تکمیل آرزو کہیے جو تشنگی ہو تو پیمانہ و سبو کہیے خیال یار کو دیجیے وصال یار کا نام شب فراق کو گیسوئے مشک بو کہیے چراغ انجمن حیرت نظارہ تھے وہ لالہ رو جنہیں اب داغ آرزو کہیے مہک رہی ہے غزل ذکر زلف خوباں سے نسیم صبح کی مانند کو بہ کو کہیے شکایتیں بھی بہت ہیں حکایتیں ...

مزید پڑھیے

چشم بد مست کو پھر شیوۂ دلداری دے

چشم بد مست کو پھر شیوۂ دلداری دے دل آوارہ کو پیغام گرفتاری دے عشق ہے سادہ و معصوم اسے اپنی طرح جوہر تیغ ادا خنجر عیاری دے جو دکھے دل ہیں انہیں دولت درماں ہو عطا درد کے ہاتھ میں مت کاسۂ ناداری دے کتنی فرسودہ ہے یہ جرم و سزا کی دنیا سرکشی دل کو نیا ذوق گنہ گاری دے شاخ گل کب سے ہے ...

مزید پڑھیے

ستاروں کے پیام آئے بہاروں کے سلام آئے

ستاروں کے پیام آئے بہاروں کے سلام آئے ہزاروں نامہ ہائے شوق اہل دل کے کام آئے نہ جانے کتنی نظریں اس دل وحشی پہ پڑتی ہیں ہر اک کو فکر ہے اس کی یہ شاہیں زیر دام آئے اسی امید میں بیتابی جاں بڑھتی جاتی ہے سکون دل جہاں ممکن ہو شاید وہ مقام آئے ہماری تشنگی بجھتی نہیں شبنم کے قطروں ...

مزید پڑھیے

درد ہر رنگ سے اطوار دعا مانگے ہے

درد ہر رنگ سے اطوار دعا مانگے ہے لحظہ لحظہ مرے زخموں کا پتا مانگے ہے اتنی آنکھیں ہیں مگر دیکھتی کیا رہتی ہیں یہ تماشا تو خدا جانیے کیا مانگے ہے سب تو ہشیار ہوئے تم بھی سیانے بن جاؤ دیکھو ہر شخص وفاؤں کا صلہ مانگے ہے کان سنتے تو ہیں لیکن نہ سمجھنے کے لئے کوئی سمجھا بھی تو مفہوم ...

مزید پڑھیے

کسے بتائیں کہ کیا غم رہا ہے آنکھوں میں

کسے بتائیں کہ کیا غم رہا ہے آنکھوں میں ہر ایک سلسلہ درہم رہا ہے آنکھوں میں یہاں نہ ساون و بھادوں نہ جیٹھ ہے نہ اساڑھ بس ایک خون کا موسم رہا ہے آنکھوں میں لہو کی آنکھ تھی وہ یا گلو بریدہ تھا یہ کیسے خوف کا عالم رہا ہے آنکھوں میں کبھی ہے درد کا چہرہ کبھی سکون نظر یہ اہتمام تو پیہم ...

مزید پڑھیے

غم کا گماں یقین طرب سے بدل گیا

غم کا گماں یقین طرب سے بدل گیا احساس عشق حسن کے سانچے میں ڈھل گیا ساتھ ان کے لے رہا ہوں میں گل گشت کے مزے یہ خواب ہی سہی مرا جی تو بہل گیا مجبور عشق چشم فسوں ساز سے ہوں میں جادو مجھی پہ دوست کا چلنا تھا چل گیا میں انتظار عید میں تھا عید آ گئی ارمان دید دامن عشرت میں پل گیا ہے ...

مزید پڑھیے

لائے گی رنگ آپ کی یہ دل لگی کچھ اور

لائے گی رنگ آپ کی یہ دل لگی کچھ اور بڑھ کر رہے گی اب مری آشفتگی کچھ اور مجھ پر کھلیں گے اور ابھی راز ہائے عشق دل کو ملے گی لذت بے چارگی کچھ اور میری حیات عشق ہے تمہید انبساط جلوے دکھائے گی مجھے خود رفتگی کچھ اور ان کی طرف ہے چشم‌ سخن گو دم اخیر اس کے سوا نہیں اثر زندگی کچھ ...

مزید پڑھیے

برہم کن دل یوں کبھی برہم نہ ہوا تھا

برہم کن دل یوں کبھی برہم نہ ہوا تھا حیرت اثر ایسا مرا عالم نہ ہوا تھا ان شوخ نگاہوں نے تڑپ اور بڑھا دی اللہ ابھی درد جگر کم نہ ہوا تھا اب بھی مجھے خودداریٔ جاناں میں نہیں شک پہلے بھی مرا دل متوہم نہ ہوا تھا اے پیر مغاں اس کی بقا میں مجھے شک ہے واقف اثر جام سے کیا جم نہ ہوا تھا وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4227 سے 4657