شاعری

جو خود کو پائیں تو پھر دوسرا تلاش کریں

جو خود کو پائیں تو پھر دوسرا تلاش کریں اس اک حیات میں اب اور کیا تلاش کریں ستارہ گو ہے یہ شب اس کو غور سے سن لیں اور اس کا دن جو کہیں کھو گیا تلاش کریں ہم اپنی بات کو دیوار ہی میں چنوا دیں نظر شبیہ سماعت صدا تلاش کریں ہے باب جاں پہ رکا عکس میہماں آ کر سر وجود کوئی آئنہ تلاش ...

مزید پڑھیے

بکھر رہی ہے جو قوت وہ پھر منظم ہو

بکھر رہی ہے جو قوت وہ پھر منظم ہو شکست ہو تو ضروری نہیں کہ ماتم ہو ستارے سمت نما ہیں تو اکتفا کیسی زمین پر بھی کہیں جگنوؤں کا پرچم ہو وہ وقت پیٹ پہ پتھر ہی باندھنے کا ہے کہ جب زمین پہ ہی خندقوں کا موسم ہو وہی تو وقت مناسب ہے معجزے کے لئے کچھ اور آتش قحط و محال برہم ہو تلاش کرتے ...

مزید پڑھیے

تیرے بکھرے لفظ بھی افکار سے عاری نہیں

تیرے بکھرے لفظ بھی افکار سے عاری نہیں اس حقیقت سے تو کوئی شخص انکاری نہیں پھیلتا جاتا ہے اک سرطان تیرے جسم میں نشتروں کے خوف سے مت کہہ یہ بیماری نہیں گزرے وقتوں یہ عبارت میں تو کھو کر رہ گیا وقت کے ماتھے کی تحریروں کا تو قاری نہیں تیری ہر آواز ان کے شور میں دب جائے گی ان کا مقصد ...

مزید پڑھیے

زبان چپ ہے مگر ذہن رو رہا ہے لہو

زبان چپ ہے مگر ذہن رو رہا ہے لہو کہ جیتے جاگتے لوگوں کا سو رہا ہے لہو تمام عمر ملا زہر اس تسلسل سے کہ اپنے آپ میں تریاک ہو رہا ہے لہو رگوں میں اتری ہے جو شے وہ نا موافق ہے کہ سارے جسم میں کانٹے سے بو رہا ہے لہو بس ایک دائرے میں رقص کر رہے ہیں حواس خیال ہے کہ بگولہ بلو رہا ہے ...

مزید پڑھیے

ذرا ہٹے تو وہ محور سے ٹوٹ کر ہی رہے

ذرا ہٹے تو وہ محور سے ٹوٹ کر ہی رہے ہوا نے نوچا انہیں یوں کہ بس بکھر ہی رہے ہیں بے نشاں جو اڑے تھے بگولہ زد ہو کر زمیں پہ لیٹنے والے زمین پر ہی رہے بہار جھاڑیوں پر ٹوٹ ٹوٹ کر برسی دعائیں مانگتے اشجار بے ثمر ہی رہے خوشا یہ سایہ و خوشبو کہ طائر خوش رنگ نہ پھر یہ وقت رہے اور نہ یہ ...

مزید پڑھیے

اندھیری بستیاں روشن منارے ڈوب جائیں گے

اندھیری بستیاں روشن منارے ڈوب جائیں گے زمیں روتی رہی تو شہر سارے ڈوب جائیں گے جھلس دیں گی جو صحرائی ہوائیں ریشمی سائے دھوئیں کے زہر میں رنگیں نظارے ڈوب جائیں گے ابھی سے کشتیاں سب ساحلوں کی سمت رخ موڑیں کہ جب طوفان آیا پھر اشارے ڈوب جائیں گے بڑھے گی ان کی لو کوئی اگر سینچے ...

مزید پڑھیے

اپنے ناخن اپنے چہرے پر خراشیں دے گئے

اپنے ناخن اپنے چہرے پر خراشیں دے گئے گھر کے دروازے پہ کچھ بھوکے صدائیں دے گئے جاگتے لوگوں نے شب ماروں کی جب چلنے نہ دی دن چڑھے وہ روشنی کو بد دعائیں دے گئے خود ہی اپنے ہاتھ کاٹے اور آنکھیں پھوڑ لیں دیوتاؤں کو پجاری کیا سزائیں دے گئے ایک اپنی ذات کے نقطے کو مرکز مان کر حوصلوں کے ...

مزید پڑھیے

سارا دن بے کار بیٹھے شام کو گھر آ گئے

سارا دن بے کار بیٹھے شام کو گھر آ گئے خواب میں چلنے لگے دیوار سے ٹکرا گئے میں بھری سڑکوں پہ بھی بے چاپ چلنے لگ گیا گھر میں سوئے لوگ میرے ذہن پر یوں چھا گئے میرا بیٹا میرے دشمن کی ہی تصویریں بنائے میرے ابا اس کی کاپی دیکھ کر گھبرا گئے جب بھی سورج ڈوبتے دیکھا میں خوش ہونے لگا پر ...

مزید پڑھیے

کبھی سر پہ چڑھے کبھی سر سے گزرے کبھی پاؤں آن گرے دریا

کبھی سر پہ چڑھے کبھی سر سے گزرے کبھی پاؤں آن گرے دریا کبھی مجھے بہا کر لے جائے کبھی مجھ میں آن بہے دریا گاتا ہوں میرے سر میں سر مل جائے اس کی لہروں کا میری آنکھ میں آنسو دیکھے تو پھر اپنی آنکھ بھرے دریا میں اپنی اسے سناتا ہوں وہ اپنی مجھے سناتا ہے میں چپ تو وہ بھی چپ ہے اور میں ...

مزید پڑھیے

پیش ہر عہد کو اک تیغ کا امکاں کیوں ہے

پیش ہر عہد کو اک تیغ کا امکاں کیوں ہے ہر نیا دور نئے خوف میں غلطاں کیوں ہے شہر کے شہر ہی بے ہوش پڑے پوچھتے ہیں زندگی اپنے عمل داروں سے نالاں کیوں ہے آئنہ عکس معطل تو نہیں کرتا کبھی اتنا بے آب مگر آئینۂ جاں کیوں ہے پھر سے مطلوب خلائق ہے گواہی کوئی بر سر کوہ سیہ شعلۂ لرزاں کیوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4221 سے 4657