شاعری

شعاعیں ایسے مرے جسم سے گزرتی گئیں

شعاعیں ایسے مرے جسم سے گزرتی گئیں لہو میں جیسے مرے کرچیاں اترتی گئیں نہ جانے چہرے ہوں آئندہ نسل کے کیسے بس ایک خوف سے میری رگیں سکڑتی گئیں مجھے تو لگتے ہیں ناخن بھی اپنے زہر بجھے میرے لیے تو مری انگلیاں بھی مرتی گئیں جزیرے کتنے گراں پانیوں کی گود میں ہیں پناہ کے لئے سوچیں مری ...

مزید پڑھیے

قیام و نقل عجائب کے ترجماں تو نہیں

قیام و نقل عجائب کے ترجماں تو نہیں عمل ہر ایک مسلسل ہے ناگہاں تو نہیں یہ مرکزے کی حرارت کشش کا باعث ہے جو ہو وہ سرد تو پھر یہ زمیں بھی ماں تو نہیں محیط چاروں طرف سے ہے اک خلائے بسیط زمیں یہ اپنی فقط زیر آسماں تو نہیں ہوا اڑائے انہیں اور کہیں بھی لے جائے یہ ٹیلے ریت کے پکی ...

مزید پڑھیے

دیکھنے میں لگتی تھی بھیگتی سمٹتی رات

دیکھنے میں لگتی تھی بھیگتی سمٹتی رات پھیلتی گئی لیکن بوند بوند بٹتی رات تتلیاں پکڑنے کا آ گیا زمانہ یاد تیز تیز بڑھتے ہم دور دور ہٹتی رات کیوں پہاڑ جیسا دن خاک میں ملا ڈالا پہلے سوچ لیتے تو گرد میں نہ اٹتی رات پیار سے کیا رخصت ایک اک ستارے کو چھا رہی پھر آنکھوں میں آسماں سے ...

مزید پڑھیے

بوسیدہ خدشات کا ملبہ دور کہیں دفناؤ

بوسیدہ خدشات کا ملبہ دور کہیں دفناؤ جسموں کی اس شہر پنہ میں تازہ شہر بساؤ سارے جسم کا ریشہ ریشہ سوچ کی قوت پائے پھر ہر سانس کا حاصل چاہے صدیوں پر پھیلاؤ اپنا آپ نہیں ہے سب کچھ اپنے آپ سے نکلو بدبوئیں پھیلا دیتا ہے پانی کا ٹھہراؤ مدت سے کیوں چاٹ رہے ہو لفظوں کی دیواریں سینے میں ...

مزید پڑھیے

پانی میں بھی پیاس کا اتنا زہر ملا ہے

پانی میں بھی پیاس کا اتنا زہر ملا ہے ہونٹوں پر آتے ہر قطرہ سوکھ رہا ہے اندھے ہو کر بادل بھاگے پھرتے ہیں گاتے گاتے ایک پرندہ آگ ہوا ہے پھول اور پھل تو تازہ کونپل پر آتے ہیں پیلا پتہ اس وحشت میں ٹوٹ رہا ہے گردش گردش چلنے سے ہی کٹ پائے گا چاروں جانب ایک سفر کا جال بچھا ہے اسی پیڑ ...

مزید پڑھیے

کسی پہ بار دگر بھی نگاہ کر نہ سکے

کسی پہ بار دگر بھی نگاہ کر نہ سکے کوئی بھی شوق بحد گناہ کر نہ سکے اجڈ پنے میں طلب کر گئے جواز خطا خضر کے ساتھ بھی ہم تو نباہ کر نہ سکے دیار ہجر بسایا ہے جو کہ برسوں میں دم وصال کی خاطر تباہ کر نہ سکے اماں طلب نہ ہوئے دشت بے پناہ میں ہم سواد جاں بھی مگر حرف راہ کر نہ سکے سفر مآب ...

مزید پڑھیے

غبار نور ہے یا کہکشاں ہے یا کچھ اور

غبار نور ہے یا کہکشاں ہے یا کچھ اور یہ میرے چاروں طرف آسماں ہے یا کچھ اور جو دیکھا عرش تصور سے بارہا سوچا یہ کائنات بھی عکس رواں ہے یا کچھ اور میں کھوئے جاتا ہوں تنہائیوں کی وسعت میں در خیال در لا مکاں ہے یا کچھ اور فراق عمر کی حد کیوں لگائی ہے اس نے مرا وجود ہی اس کو گراں ہے یا ...

مزید پڑھیے

ہم اپنے کھیتوں میں ہوش بوئیں گے فصل آور حواس دیں گے

ہم اپنے کھیتوں میں ہوش بوئیں گے فصل آور حواس دیں گے زمیں کے ننگے بدن کو آخر پہاڑ کب تک لباس دیں گے فروش گاہوں سے جنس تازہ کبھی کی نایاب ہو چکی ہے یہ کار با اضطراب چمکے ہم اپنی جانوں کی راس دیں گے ہم آب بردوش ڈائنوں کے گلے میں کانٹے اتار دیں گے کہ ان کے ہونٹوں سے خون برسے کچھ ایسی ...

مزید پڑھیے

کبھی جو نور کا مظہر رہا ہے

کبھی جو نور کا مظہر رہا ہے وہ کن تاریکیوں میں مر رہا ہے کسی سورج کا ٹکڑا توڑ لائیں زمیں کا جسم ٹھنڈا پڑ رہا ہے کہیں آثار ڈھونڈیں زندگی کے کبھی یہ چاند میرا گھر رہا ہے متاع آسماں بھی لٹ نہ جائے ستارے پر ستارہ گر رہا ہے ہوا میں لفظ لکھے جا رہے ہیں کوئی زخمی پرندہ اڑ رہا ہے

مزید پڑھیے

وفور شوق کی رنگیں حکایتیں مت پوچھ

وفور شوق کی رنگیں حکایتیں مت پوچھ لبوں کا پیار نگہ کی شکایتیں مت پوچھ کسی نگاہ کی نس نس میں تیرتے نشتر وہ ابتدائے محبت کی راحتیں مت پوچھ وہ نیم شب وہ جواں حسن وہ وفور نیاز نگاہ و دل نے جو کی ہیں عبادتیں مت پوچھ ہجوم غم میں بھی جینا سکھا دیا ہم کو غم جہاں کی ہیں کیا کیا عنایتیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4222 سے 4657