شاعری

نکلے لوگ سفر پر شب کے جنگل میں

نکلے لوگ سفر پر شب کے جنگل میں روشنی بھر دے کرنوں والے پل پل میں او بادل کب پیاس بجھانے آئے گا وقت گزرتا جائے تیری کل کل میں چیخیں ایسی پھوٹ رہی ہیں بستی سے جیسے کوئی ڈوب رہا ہو دلدل میں کون سکوں دے بھیگی رت کے پنچھی کو انگاروں کا ڈھیر لگا ہے جل تھل میں خاموشی سے چھپ چھپ طارقؔ ...

مزید پڑھیے

جو کہا اس نے وہ کئے ہی بنی

جو کہا اس نے وہ کئے ہی بنی صوفیوں کو بھی مے پئے ہی بنی ایسی باتیں بنائیاں اس نے کچھ نہ بن آئی دل دیے ہی بنی اب بھی آ جائے اس تمنا میں پر نہ موئے ہجر میں جئے ہی بنی کافر عشق ہو گئی آخر ان بتوں کا کہا کئے ہی بنی تھا جو رسوائیوں کا ڈر ان کو جیب کے چاک کو لئے ہی بنی رات ساقی بغیر تھام ...

مزید پڑھیے

لہو کو پالتے پھرتے ہیں ہم حنا کی طرح

لہو کو پالتے پھرتے ہیں ہم حنا کی طرح بدل گئے ہیں مضامیں تری وفا کی طرح ہم اعتبار وفا کا گماں کریں بھی تو کیا وہ آج صورت گل ہیں تو کل صبا کی طرح اسے تو سنگ رعونت نے کر دیا گھائل میں ٹوٹ ٹوٹ گیا شیشۂ انا کی طرح جھٹک کے لے گیا بھیگی رتوں کے امکانات نکل گیا مرے صحرا سے پھر ہوا کی ...

مزید پڑھیے

ہم جیسوں کے جتنے سپنے ہوتے ہیں

ہم جیسوں کے جتنے سپنے ہوتے ہیں سارے تجھ سے ملتے جلتے ہوتے ہیں دور رہیں تو یاد بہت آتی سب کی ساتھ رہیں تو گھر میں جھگڑے ہوتے ہیں اک دن میں ہی پار سمندر نہیں ہوگا اچھے شعر بھی ہوتے ہوتے ہوتے ہیں بائیں طرف اب بھی الماری خالی ہے دائیں طرف ہی میرے کپڑے ہوتے ہیں ہولی پر بھی کام نہیں ...

مزید پڑھیے

ہمارا من یہیں لگتا بھلے یہ گھر پرانا ہے

ہمارا من یہیں لگتا بھلے یہ گھر پرانا ہے اسی پر نیند آتی ہے یہ جو بستر پرانا ہے تمہارا عشق ہے پہلا نیا تم کو لگے گا ہی مگر میرے لیے تو یار سب منظر پرانا ہے طریقے سے لگا رکھا ہے کھڑکی میں جو سالوں سے بہت ٹھنڈی ہوا دیتا میرا کولر پرانا ہے یہ دولت اور شہرت کچھ بدل پائی نہیں میرا وہی ...

مزید پڑھیے

بات ایسی ہے نہیں وہ بات ہی کرتا نہیں

بات ایسی ہے نہیں وہ بات ہی کرتا نہیں جب ہمیں ہوتی ضرورت بس تبھی کرتا نہیں باپ بچوں کے لیے جادوگری کرتا نہیں بس مسلسل کام کرنے میں کمی کرتا نہیں کس قدر اس کو ستایا ہے خدا نے عشق میں جو نہیں کافر ہے پھر بھی بندگی کرتا نہیں دشمنوں سے بھی بہت بد تر ہے میرا دوست وہ غلطیوں پر جو میری ...

مزید پڑھیے

پھر چاہو تم جتنی ان بن کر لینا

پھر چاہو تم جتنی ان بن کر لینا لیکن پہلے مجھ کو درپن کر لینا بوسہ کرنے جب میں آگے بڑھ جاؤں تم بھی ٹیڑھی اپنی گردن کر لینا جان ہنسی کو اپنی چھوٹی انگلی کر غم کو میرے پھر گوردھن کر لینا میری دھڑکن تیز چلانی ہے تم کو تھوڑی دھیمی اپنی دھڑکن کر لینا جس محفل میں کیول ہم دونوں ہوں ...

مزید پڑھیے

غم دل کی زباں اہل تشدد کم سمجھتے ہیں

غم دل کی زباں اہل تشدد کم سمجھتے ہیں نہ دل کو دل سمجھتے ہیں نہ غم کو غم سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہنسنا ہے دل انساں کی کمزوری نوائے زندگی کو زیست کا ماتم سمجھتے ہیں جنون کشت و خوں کو نام دیتے ہیں شجاعت کا اماوس کی شب تاریک کو پونم سمجھتے ہیں رواداری کو ہم سمجھے ہوئے ہیں درد کا ...

مزید پڑھیے

مجھ کو دماغ گرمئ بازار ہے کہاں

مجھ کو دماغ گرمئ بازار ہے کہاں افسردگی میں لذت گفتار ہے کہاں یاران مصلحت میں نہیں جوہر وفا اہل غرض میں خوبیٔ کردار ہے کہاں لاکھوں کی بھیڑ میں بھی ہوں سب سے الگ تھلگ اس شہر میں غریب کا غم خوار ہے کہاں جلووں کو بھی ہے چشم تماشا کی جستجو وہ پوچھتے ہیں طالب دیدار ہے کہاں کانٹوں ...

مزید پڑھیے

بیزار زندگی سے دل مضمحل نہیں

بیزار زندگی سے دل مضمحل نہیں شاید بقدر ظرف ابھی درد دل نہیں اپنا تو اس نے ساتھ نبھایا ہے عمر بھر کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ غم مستقل نہیں دیوانۂ مفاد ہے بیگانۂ خلوص وہ اہل عقل و ہوش سہی اہل دل نہیں شعلے کہاں سے آئیں گے کیسے کھلیں گے پھول زخموں کی آگ دل میں اگر مستقل نہیں وہ تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 422 سے 4657