شاعری

ہو نہ کچھ اور اس آغاز کا انجام کہیں

ہو نہ کچھ اور اس آغاز کا انجام کہیں ساقیا لب سے لگا دے تو لب جام کہیں وہ دل آرام جو پہلو میں نہیں ہے اپنے دل بیتاب کو آتا نہیں آرام کہیں صدمہ ہائے شب ہجراں سے گرا جاتا ہوں اے تمنائے شب وصل مجھے تھام کہیں شام سے ہوتی ہیں دل پر جو بلائیں نازل کھول بیٹھے نہ ہوں وہ زلف سیہ فام ...

مزید پڑھیے

نہ توڑ شیشوں کو او گل بدن تڑاق پڑاق

نہ توڑ شیشوں کو او گل بدن تڑاق پڑاق یہ دل شکن ہے صدائے شکن تڑاق پڑاق برنگ غنچۂ گل چپ ہو کیوں جواب تو دو مرا سخن کا ہے یہ ہو سخن تڑاق پڑاق ابھی اٹھے ترا بیمار ناتواں غش سے جو دے تو بوسہ سیب ذقن تڑاق پڑاق ہزاروں شیشۂ دل کوہ غم پہ اے تنویرؔ مدام توڑے ہے چرخ کہن تڑاق پڑاق

مزید پڑھیے

نہ سنی پر نہ سنی اس نے دل زار کی عرض

نہ سنی پر نہ سنی اس نے دل زار کی عرض کون سنتا ہے بھلا ایسے گنہ گار کی عرض چلو آہستہ کہ ہوتی ہے قیامت برپا فتنۂ حشر نے یہ اس سے کئی بار کی عرض جنبش لب ہے دم نزع یہ کچھ کہتا ہے سن تو لو اپنے ذرا مائل گفتار کی عرض ذکر اغیار سے چھڑکا کئے زخموں پہ نمک دم کشتن نہ سنی کشتۂ تلوار کی ...

مزید پڑھیے

جا نہ تو حسرت دیدار ابھی باقی ہے

جا نہ تو حسرت دیدار ابھی باقی ہے اک رمق مجھ میں دم یار ابھی باقی ہے کیوں نہ دیکھوں انہیں نظروں سے خریدار کی میں حسن کی گرمئ بازار ابھی باقی ہے سب ہوئے حسرت و ارماں تو شب غم میں شہید رہ گیا اک یہ گنہ گار ابھی باقی ہے مل کے بھی مجھ سے کھٹکتے رہے ہر بات پہ وہ خار نکلا خلش خار ابھی ...

مزید پڑھیے

وہ سر شام گئے ہجر کی ہے رات شروع

وہ سر شام گئے ہجر کی ہے رات شروع اشک جاری ہیں ہوا موسم برسات شروع جذبۂ دل نے مرے کچھ تو کری ہے تاثیر پھر ہوئے ان کے جو الطاف و عنایات شروع مجھ کو دکھلاؤ نہ تم رنگ حنا اس کو جلاؤ بھیجنی جس نے کری تم کو یہ سوغات شروع کبھو وحشت کبھو شدت کبھو غم کی کثرت کہ جو پہلے تھے ہوئے پھر وہ ہی ...

مزید پڑھیے

راہی طرف ملک عدم ہوئی چکا تھا

راہی طرف ملک عدم ہوئی چکا تھا تو آ گیا میں ورنہ صنم ہوئی چکا تھا بٹھلاتی نزاکت نہ اسے گر دم رفتار پامال یہ دل زیر قدم ہوئی چکا تھا سرگرم سخن مجھ سے جو وہ آ کے نہ ہوتا ٹھنڈا میں تہ تیغ ستم ہوئی چکا تھا دیکھا بت نو خط نے جو مجھ کو تو کیا چاک نامہ تو رقیبوں کو رقم ہوئی چکا تھا وہ ...

مزید پڑھیے

ہیں شام ہی سے رنج و قلق جان پر اب تو

ہیں شام ہی سے رنج و قلق جان پر اب تو ہم کو نہیں امید کہ پکڑیں سحر اب تو دیوانہ کوئی ہوئے تو ہو اس کی بلا سے اپنے ہی پری پن پہ پڑی ہے نظر اب تو سائے سے چہک جاتے تھے یا پھرتے ہو شب بھر واللہ کہ تم ہو گئے کتنے نڈر اب تو جاں کو تو خبر بھی نہیں اوپر ہی سے اوپر دل لے گئی اس شوخ کی نیچی نظر ...

مزید پڑھیے

ہو گیا موسم سہانا شاعری کرنے لگے

ہو گیا موسم سہانا شاعری کرنے لگے کھول یادوں کا خزانہ شاعری کرنے لگے اک دفعہ اس نے کہا تھا کچھ لکھو میرے لیے مل گیا ہم کو بہانہ شاعری کرنے لگے تیر اور تلوار تو کب کے پرانے ہو گئے جب لگانا تھا نشانہ شاعری کرنے لگے محفلوں میں چٹکلے پڑھنے لگے کچھ لوگ جب ان سبھی کو کر روانہ شاعری ...

مزید پڑھیے

سب ہنر آتے ہیں ان کو عاشقی کو چھوڑ کر

سب ہنر آتے ہیں ان کو عاشقی کو چھوڑ کر سب ادائیں ہیں مکمل سادگی کو چھوڑ کر مسکرا کر دے رہا وردان سورج اب اسے جس نے جگنو کو چنا تھا چاندنی کو چھوڑ کر تیسرا وہ لفظ جانے کب سنائیں گے ہمیں کب کہیں گے کچھ الگ ہاں اور جی کو چھوڑ کر یاد ہوں اشعار جس کو یہ اسی کے ہے سپرد ہم مریں گے صرف ...

مزید پڑھیے

برس گیا جو بدن پر جمال تھا اس کا

برس گیا جو بدن پر جمال تھا اس کا اتر گیا جو سمندر خیال تھا اس کا بکھر گئی جو زمیں پر بہار تھی اس کی پھر اس کے بعد سمٹنا محال تھا اس کا کدھر گئی شب دل کی نڈھال سی بستی کہاں گیا غم رفتہ سوال تھا اس کا ملا تو شام کے سائے میں ایک پل وہ بھی بس ایک ہجر کی صورت وصال تھا اس کا وہ ایک پھول ...

مزید پڑھیے
صفحہ 421 سے 4657