شاعری

الفتوں کے ساغر میں سازشیں ملاتے ہیں

الفتوں کے ساغر میں سازشیں ملاتے ہیں دوستی کے پردے میں دشمنی نبھاتے ہیں خاک کر کے بیٹھے ہیں آشیاں ہمیں اپنا بجلیاں دکھا کر یوں آپ کیا ڈراتے ہیں شام تیرے ماتھے پہ رات یوں عبادت ہے جگنو بھی چمکتے ہیں تارے جھلملاتے ہیں کوئی جانے والے کو کس طرح یہ سمجھائے واپسی میں دن اتنے آپ کیوں ...

مزید پڑھیے

فیصلہ کوئی مرے حق میں ہوا ہے شاید

فیصلہ کوئی مرے حق میں ہوا ہے شاید موسم گل مرے آنگن میں رکا ہے شاید مدتوں بعد کیا رابطہ اس نے تو لگا اس کو احساس پشیمانی ہوا ہے شاید آؤ اک بار کتابوں کو کھنگالا جائے پھول جو اس نے دیا تھا وہ رکھا ہے شاید نغمہ زن تار نفس میں ہیں اسی کی یادیں دھڑکنوں میں بھی وہی بول رہا ہے شاید اس ...

مزید پڑھیے

یہ شہر دل ہے یہاں صبح شام کچھ بھی نہیں

یہ شہر دل ہے یہاں صبح شام کچھ بھی نہیں تمہاری یاد سے بڑھ کر ہے کام کچھ بھی نہیں بدل کے رکھ دی ہیں تاریخ کی کتابیں سب نشاں مٹا کے وہ کہتے ہیں نام کچھ بھی نہیں عجب فضا ہے سیاست کی دور حاضر میں غریب کچھ بھی نہیں ہے عوام کچھ بھی نہیں شرافتوں میں ضرورت کے لگ گئے پیوند رہ طلب میں حلال ...

مزید پڑھیے

چراغ جل تو رہا ہے ضیا نہیں آتی

چراغ جل تو رہا ہے ضیا نہیں آتی ہوا بھی تیز ہے لیکن ہوا نہیں آتی عجیب ہجر کا عالم ہے کیا کیا جائے سوائے دل کے کسی کی صدا نہیں آتی توقعات کی چادر سمیٹ لیتے ہیں ہمارے لب پہ کبھی بد دعا نہیں آتی تمہارے عشق نے بخشی ہے بیکلی گرچہ وفا کی راہ میں ہم کو جفا نہیں آتی سیاہ ہو گیا دل اس کا ...

مزید پڑھیے

لفظ مل جائیں تو اشعار کی تشکیل کروں

لفظ مل جائیں تو اشعار کی تشکیل کروں ورنہ کس طرح خیالات کی ترسیل کروں حق محبت کا کہاں ہوتا ہے مرنے سے ادا حق تو یہ ہے کہ تجھے روح میں تحلیل کروں آپ تو اپنی انا سے نہیں نکلے باہر مجھ سے کہتے ہیں کہ میں نظریہ تبدیل کروں تشنگی تو ہے مری ذات میں صحرا کی طرح کیسے سوکھی ہوئی آنکھوں کو ...

مزید پڑھیے

جان جاتی نہیں اور جاں سے گزر جاتے ہیں

جان جاتی نہیں اور جاں سے گزر جاتے ہیں ہم جدائی کے بھی احساس سے مر جاتے ہیں باندھ کر رخت سفر سوچ رہی ہوں کب سے جن کا گھر کوئی نہیں ہوتا کدھر جاتے ہیں جن کو تاریکی میں راتوں کی منور دیکھا صبح ہوتی ہے تو پھر جانے کدھر جاتے ہیں جب بھی خودداری کی دیوار کو ڈھانا چاہیں اپنے اندر کی صدا ...

مزید پڑھیے

دل پر کسی کی بات کا ایسا اثر نہ تھا

دل پر کسی کی بات کا ایسا اثر نہ تھا پہلے میں اس طرح سے کبھی در بدر نہ تھا چاروں طرف تھے دھوپ کے جنگل ہرے بھرے صحرا میں کوئی میرے علاوہ شجر نہ تھا تارے بھی شب کی جھیل میں غرقاب ہو گئے میری اداسیوں کا کوئی ہم سفر نہ تھا فرقت کی آنچ تھی نہ تری یاد کی تپش دل سرد پڑ رہا تھا کہیں اک شرر ...

مزید پڑھیے

بجھتی آنکھوں میں ترے خواب کا بوسہ رکھا

بجھتی آنکھوں میں ترے خواب کا بوسہ رکھا رات پھر ہم نے اندھیروں میں اجالا رکھا زخم سینہ میں تو آنکھوں میں سمندر ٹھہرا درد کو میں نے مجھے درد نے زندہ رکھا ساتھ رہتا تھا مگر ساتھ نہیں تھا میرے اس کی قربت نے بھی اکثر مجھے تنہا رکھا وقت کے ساتھ تجھے بھول ہی جاتا لیکن اک ہرے خط نے مرے ...

مزید پڑھیے

جانے کس بات سے دکھا ہے بہت

جانے کس بات سے دکھا ہے بہت دل کئی روز سے خفا ہے بہت سب ستارے دلاسہ دیتے ہیں چاند راتوں کو چیختا ہے بہت پھر وہی رات مجھ میں ٹھہری ہے پھر سماعت میں شور سا ہے بہت تم زمانے کی بات کرتے ہو میرا مجھ سے بھی فاصلہ ہے بہت اس کی دکھتی نسیں نہ پھٹ جائیں دل مسلسل یہ سوچتا ہے بہت واسطہ کچھ ...

مزید پڑھیے

ہر اک شجر پہ پرندے سمٹ کے بیٹھے ہیں

ہر اک شجر پہ پرندے سمٹ کے بیٹھے ہیں ہوائے سرد کے جھونکے بہت نکیلے ہیں کہاں سنبھلتا ہے جلدی کسی کی موت سے دل ہاں ٹھیک ٹھاک ہیں پہلے سے تھوڑے اچھے ہیں دھواں دھواں سی ہے فہرست رفتگاں لیکن دو ایک چہرے ہیں ویسے ہی جگمگاتے ہیں تجھے خبر بھی ہے اے دوست تیرے مرہم سے کچھ ایک زخم جو اندر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4201 سے 4657