شاعری

خیالات رنگیں نہیں بولتے اس کو جیوں باس پھولوں کے رنگوں میں رہیے

خیالات رنگیں نہیں بولتے اس کو جیوں باس پھولوں کے رنگوں میں رہیے دو رنگی سوں جانا گزر دل سوں اول بزاں جا کے واں ایک رنگوں میں رہیے وہ وحشت کے جنگل میں ہو کر پریشاں پہاڑوں سے غم کے نہ ہو سنگ ہرگز شرر ہو کے چھڑ سنگ تنکے سوں جلدی سکل روح ہو برق رنگوں میں رہیے نہیں موج دریا کی دہشت ...

مزید پڑھیے

نکو نصیحت کرو عزیزاں نگا ہے ہمنا مہن سوں میتا

نکو نصیحت کرو عزیزاں نگا ہے ہمنا مہن سوں میتا تجا ہوں میں ریت سب جہاں کی جدھاں پیا سوں پریت کیتا صنم کی الفت میں دل اپس کا رکھا تھا کر چاک چاک جوں گل کہو رفو گر جہاں میں ایسا کہاں جو دل کا یہ چاک سیتا جہاں کے صیاد کے شکاراں تمام مر کر شکار ہوتے جو دام الفت میں آ گرا سو موا نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

پیتم کے دیکھنے کے تماشا کو جائیں چل

پیتم کے دیکھنے کے تماشا کو جائیں چل اپنے پیا کو عشق سوں اپنے رجھائیں چل جلسہ کیا ہے یار محل میں جلی کے آج خلوت میں اب خفی کے پیا کو بلائیں چل پروا نہیں پیا کو کسی کے وصال سوں فن سوں اسی کے اس کو اپس میں رجھائیں چل دم کا سرود کر کے ارادے کا تار باندھ ستری صدا کا صور بجا کر سنائیں ...

مزید پڑھیے

عجب چنچل ملا ہے یار ہمنا

عجب چنچل ملا ہے یار ہمنا کیا اک بارگی سرشار ہمنا تدھاں سوں دیکھ کر کچھ یوں سمجھتے دو عالم صاحب اسرار ہمنا گل بستان ہے گویا خار صحرا وسا جب حسن کا گلزار ہمنا زمیں سوں تا فلک سارے حجابات ہوئے ہیں مطلع الانوار ہمنا ہوا دل سرخ رو آیا نظر جب شگفتہ چہرۂ گل نار ہمنا نوازش اور تلطف ...

مزید پڑھیے

آیا ہے مگر عشق میں دل دار ہمارا

آیا ہے مگر عشق میں دل دار ہمارا ہر تن میں ہوا جان ہر اک جسم کا نیارا بے مثل اس کے حسن کو کہتے ہیں دو عالم دستا ہے ہر اک خلق کو اپنے سوں پیارا من کان نہ ہو یار کے درسن کو نہ جانے آیا نہیں کوئی پھر کے جہاں بیچ دوبارا اس شمع درخشاں کو اپس ساتھ تو لے جا ور نہیں تو قبر بیچ ہے ظلمات ...

مزید پڑھیے

تیزی ترے مژگاں کی یہ نشتر سے کہوں گا

تیزی ترے مژگاں کی یہ نشتر سے کہوں گا ابرو کی شکایت دم خنجر سے کہوں گا ہم رنگ شمع عشق میں تیرے ہوں ولیکن یہ سوز جگر آتش مجمر سے کہوں گا دیکھا ہوں میں جس روز سے تجھ حسن کا جھلکا ہے دل میں کبھی جامۂ انور سے کہوں گا تنگی جو ترے پستہ دہن کی ہے سراسر سربستہ سخن غنچۂ جوہر سے کہوں ...

مزید پڑھیے

یار کے درسن کے خاطر جان اور تن بھول جا

یار کے درسن کے خاطر جان اور تن بھول جا مکھ منور دیکھ اس کا رنگ گلشن بھول جا چڑھ کے تازی عشق کا نت 'مَن عَرَف' کا سیر کر 'قد عرف' کا پہنچ اے دل محل و مسکن بھول جا ترک دے اسلام کو اور کفر سارا دور کر چھوڑ دے حرص و ہوا فرزند اور زن بھول جا آرسی میں دل کے ہر دم دیکھ مکھڑا روح کا جام کو ...

مزید پڑھیے

جینا محال ہو گیا دانائیوں کے ساتھ

جینا محال ہو گیا دانائیوں کے ساتھ آیا خیال یار بھی رسوائیوں کے ساتھ آنکھوں سے اشک پھسلے تو دامن بھگو گئے یادوں کا قافلہ بھی تھا شہنائیوں کے ساتھ رہتے ہیں ہم کہاں یہ پتہ ہم سے پوچھئے یادوں کی اس حویلی میں پرچھائیوں کے ساتھ اک داستاں رقم ہے ان آنکھوں میں ضبط کی اترے تو کوئی فکر ...

مزید پڑھیے

جو چھاؤں دیتا ہے مجھ کو گھنا شجر بن کر

جو چھاؤں دیتا ہے مجھ کو گھنا شجر بن کر میں اس کا ساتھ نبھاتی ہوں اس کا گھر بن کر فضائے علم و ہنر راس آ گئی ہے مجھے خدا کرے کہ رہوں حرف معتبر بن کر تو چاند ہے تو دعا ہے کبھی غروب نہ ہو افق میں میں بھی رہوں مطلع سحر بن کر غلط سمجھتی تھی میں اس کو راز داں اپنا جو ایک سایہ سا ابھرا تھا ...

مزید پڑھیے

ہو رنگ شفق جیسے رخ شام میں اترا

ہو رنگ شفق جیسے رخ شام میں اترا وہ میری نگاہوں کے در و بام میں اترا وا ہونے لگے سارے امیدوں کے دریچے جب تیرا تصور دل نا کام میں اترا جب خون جگر گھول دیا ہم نے سخن میں تب جا کے کہیں ہے رگ ہنگام میں اترا جب جذبۂ دل صفحۂ قرطاس پہ آیا تب عکس دروں شیشۂ پیغام میں اترا جب سارا سفر کٹ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4200 سے 4657