خیالات رنگیں نہیں بولتے اس کو جیوں باس پھولوں کے رنگوں میں رہیے
خیالات رنگیں نہیں بولتے اس کو جیوں باس پھولوں کے رنگوں میں رہیے دو رنگی سوں جانا گزر دل سوں اول بزاں جا کے واں ایک رنگوں میں رہیے وہ وحشت کے جنگل میں ہو کر پریشاں پہاڑوں سے غم کے نہ ہو سنگ ہرگز شرر ہو کے چھڑ سنگ تنکے سوں جلدی سکل روح ہو برق رنگوں میں رہیے نہیں موج دریا کی دہشت ...