شاعری

اب گماں ہے نہ یقیں کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں

اب گماں ہے نہ یقیں کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں آسماں کچھ بھی نہیں اور زمیں کچھ بھی نہیں مٹ گیا دل سے عقیدت کا بھرم یعنی اب اس کا در کچھ بھی نہیں اپنی جبیں کچھ بھی نہیں کیوں نہ یک رنگئ حالات سے جی اکتائے اب کوئی بزم طرب دور حزیں کچھ بھی نہیں اب تو ہر حسن و نظر رنگ و مہک ساز و ...

مزید پڑھیے

اک فقط خود سے گلا باقی رہا

اک فقط خود سے گلا باقی رہا ورنہ اس دل میں تو کیا باقی رہا اک طرف تیری کمی کھلتی رہی اک طرف اپنا خلا باقی رہا راہ کی آسانیاں جاتی رہیں منزلوں کا مرحلہ باقی رہا زندگی در زندگی چلتی رہی مسئلہ در مسئلہ باقی رہا ہم حد ادراک سے مجبور تھے ہم سے جو تھا ماورا باقی رہا ہو رہیں گے ہم بھی ...

مزید پڑھیے

صبح دم ہے یہ طبیعت کیسی

صبح دم ہے یہ طبیعت کیسی خیر اداسی سے شکایت کیسی کیا کوئی خواب ابھی دیکھا تھا آنکھ ملتی ہے حقیقت کیسی دل نے اک وصل مسلسل پا کر تلخ کر لی ہے محبت کیسی بے دھڑک دل کو دکھایا کیجے اس عنایت کی اجازت کیسی یاد آتا ہے خدا پل پل پل ایسی حالت میں عبادت کیسی خود سے دو چار ہوا کرتے ہیں ہم ...

مزید پڑھیے

حال دل بد سے بد تر ہوا دیکھیے

حال دل بد سے بد تر ہوا دیکھیے آپ کا کام ہے دیکھنا دیکھیے وہ جو رکھا ہوا ہے جہاں کے لئے آپ خود بھی تو وہ آئنہ دیکھیے عقل والوں کی امداد کے واسطے جاں بکف ہے کوئی سر پھرا دیکھیے شہر جل بجھ گیا لوگ مر کب گئے صبح نو کل نیا حادثہ دیکھیے اس تماشائے اہل سیاست کو آپ دیکھ سکتے ہیں بس ...

مزید پڑھیے

جگمگاتی روشنی کے پار کیا تھا دیکھتے

جگمگاتی روشنی کے پار کیا تھا دیکھتے دھول کا طوفاں اندھیرے بو رہا تھا دیکھتے سبز ٹہنی پر مگن تھی فاختہ گاتی ہوئی ایک شکرہ پاس ہی بیٹھا ہوا تھا دیکھتے ہم اندھیرے ٹاپوؤں میں زندگی کرتے رہے چاندنی کے دیس میں کیا ہو رہا تھا دیکھتے جان دینے کا ہنر ہر شخص کو آتا نہیں سوہنی کے ہاتھ ...

مزید پڑھیے

گلاب تھا نہ کنول پھر بدن وہ کیسا تھا

گلاب تھا نہ کنول پھر بدن وہ کیسا تھا کہ جس کا لمس بہاروں میں رنگ بھرتا تھا جہاں پہ سادہ دلی کے مکیں تھے کچھ پیکر وہ جھونپڑا تھا مگر پر شکوہ کتنا تھا مشام جاں سے گزرتی رہی ہے تازہ ہوا ترا خیال کھلے آسمان جیسا تھا اسی کے ہاتھ میں تمغے ہیں کل جو میداں میں ہماری چھاؤں میں اپنا بچاؤ ...

مزید پڑھیے

گیلی مٹی ہاتھ میں لے کر بیٹھا ہوں

گیلی مٹی ہاتھ میں لے کر بیٹھا ہوں ذہن میں اک دھندلے پیکر سے الجھا ہوں پیس رہا ہے دل کو اک وزنی پتھر دوب کو بانہوں میں بھر کر میں ہنستا ہوں تیرے ہاتھوں نے مجھ میں سب رنگ بھرے لیکن ہر پل یہ احساس ادھورا ہوں دھوپ کبھی چمکے گی اس امید پہ میں برف کے دریا میں صدیوں سے لیٹا ہوں اس ...

مزید پڑھیے

مرے چہرے پہ جو آنسو گرا تھا

مرے چہرے پہ جو آنسو گرا تھا نہ جانے کتنے شعلوں میں جلا تھا ہمارے کان بہرے ہو گئے تھے ادھر وہ داستاں گو ہنس رہا تھا اندھیری رات سناٹے کا عالم ندی کے پار اک لپکا جگا تھا بہت آزار تھے رستے میں لیکن لہو میں پھول موسم ہنس رہا تھا ہوائے گرم یوں دل میں چلی تھی مری آنکھوں میں ساون بس ...

مزید پڑھیے

شب خواب کے جزیروں میں ہنس کر گزر گئی

شب خواب کے جزیروں میں ہنس کر گزر گئی آنکھوں میں وقت صبح مگر دھول بھر گئی پچھلی رتوں میں سارے شجر بارور تو تھے اب کے ہر ایک شاخ مگر بے ثمر گئی ہم بھی بڑھے تھے وادئ اظہار میں مگر لہجے کے انتشار سے آواز مر گئی تجھ پھول کے حصار میں اک لطف ہے عجب چھو کر جسے ہوائے طرب معتبر گئی دل میں ...

مزید پڑھیے

چہروں پہ زر پوش اندھیرے پھیلے ہیں

چہروں پہ زر پوش اندھیرے پھیلے ہیں اب جینے کے ڈھنگ بڑے ہی مہنگے ہیں ہاتھوں میں سورج لے کر کیوں پھرتے ہیں اس بستی میں اب دیدہ ور کتنے ہیں قدروں کی شب ریزی پر حیرانی کیوں ذہنوں میں اب کالے سورج پلتے ہیں ہر بھرے جنگل کٹ کر اب شہر ہوئے بنجارے کی آنکھوں میں سناٹے ہیں پھولوں والے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4196 سے 4657