شاعری

آج پھر دھوپ کی شدت نے بڑا کام کیا

آج پھر دھوپ کی شدت نے بڑا کام کیا ہم نے اس دشت کو لمحوں میں کنول فام کیا میرے حجرے کو بھی تشہیر ملی اس کے سبب اور آندھی نے بھی اس بار بہت نام کیا روز ہم جلتی ہوئی ریت پہ چلتے ہی نہ تھے ہم نے سائے میں کجھوروں کے بھی آرام کیا دل کی بانہوں میں سجاتے رہے آہوں کی دھنک ذہن کو ہم نے رہ ...

مزید پڑھیے

اب قبیلے کی روایت ہے بکھرنے والی

اب قبیلے کی روایت ہے بکھرنے والی ہر نظر خود میں کوئی شہر ہے بھرنے والی خوش گمانی یہ ہوئی سوکھ گیا جب دریا ریت سے اب مری کشتی ہے ابھرنے والی خوشبوؤں کے نئے جھونکے ہیں ہر اک دھڑکن میں کون سی رت ہے مرے دل میں ٹھہرنے والی کچھ پرندے ہیں مگن موسمی پروازوں میں ایک آندھی ہے پر و بال ...

مزید پڑھیے

بریدہ بازوؤں میں وہ پرند لالہ بار تھا

بریدہ بازوؤں میں وہ پرند لالہ بار تھا شکاریوں کے غول میں عجیب انتشار تھا ہرے پھلوں کو توڑتی ہوئی ہوا گزر گئی بجھی بجھی فضا میں ہر درخت سوگوار تھا سفر کا آخری پڑاؤ آ گیا تھا اور میں جو ہم سفر بچھڑ رہے تھے ان پہ اشک بار تھا گئے تھے ہم بھی بحر کی تہوں میں جھومتے ہوئے ہر ایک سیپ کے ...

مزید پڑھیے

ہر طرف اس کے سنہرے لفظ ہیں پھیلے ہوئے

ہر طرف اس کے سنہرے لفظ ہیں پھیلے ہوئے اور ہم کاجل کی اک تحریر میں ڈوبے ہوئے چاندنی کے شہر میں ہم راہ تھا وہ بھی مگر دور تک خاموشیوں کے ساز تھے بجتے ہوئے ہنس رہا تھا وہ ہری رت کی سہانی چھاؤں میں دفعتاً ہر اک شجر کے پیرہن میلے ہوئے آج اک معصوم بچی کی زباں کھینچی گئی میری بستی میں ...

مزید پڑھیے

پھر تری یادوں کی پھنکاروں کے بیچ

پھر تری یادوں کی پھنکاروں کے بیچ نیم جاں ہے رات یلغاروں کے بیچ اونگھتا رہتا ہے اکثر ماہتاب رات بھر ہم چند بے داروں کے بیچ گونجتی رہتی ہے مجھ میں دم بہ دم چیخ جو ابھری نہ کہساروں کے بیچ دیکھتا آخر میں اس کو کس طرح روشنی کی تیز بوچھاروں کے بیچ کھو ہی جاتا ہوں ترے قصے میں ...

مزید پڑھیے

چلتے ہیں کہ اب صبر بھی اتنا نہیں رکھتے

چلتے ہیں کہ اب صبر بھی اتنا نہیں رکھتے اک اور نئے دکھ کا ارادہ نہیں رکھتے بس ریت سی اڑتی ہے اب اس راہ گزر پر جو پیڑ بھی ملتے ہیں وہ سایہ نہیں کرتے کس طور سے آخر انہیں تصویر کریں ہم جو خواب ازل سے کوئی چہرہ نہیں رکھتے اک بار بچھڑ جائیں تو ڈھونڈھے نہ ملیں گے ہم رہ میں کہیں نقش کف ...

مزید پڑھیے

سانس لیتے ہوئے ڈر لگتا ہے

سانس لیتے ہوئے ڈر لگتا ہے زہر آلود دھواں پھیلا ہے کس نے صحرا میں مری آنکھوں کے ایک دریا کو رواں رکھا ہے کوئی آواز نہ جنبش کوئی میرا ہونا بھی کوئی ہونا ہے بات کچھ بھی نہ کروں گا اب کے رو بہ رو اس کے فقط رونا ہے زخم دھوئے ہیں یہاں پر کس نے سارے دریا میں لہو پھیلا ہے اتنا گہرا ہے ...

مزید پڑھیے

سوالوں میں خود بھی ہے ڈوبی اداسی

سوالوں میں خود بھی ہے ڈوبی اداسی کہیں لے نہ ڈوبے مجھے بھی اداسی شب و روز چلتی ہے پہلو سے لگ کر گلے پڑ گئی ایک ضدی اداسی فضاؤں کی رنگت نکھرنے لگی ہے ہوئی شام پھر دل میں لوٹی اداسی ذرا چاند کیا آیا میری طرف کو ستاروں نے جل بھن کے اوڑھی اداسی شبستاں میں غم کی نہ شمعیں جلاؤ کہیں ...

مزید پڑھیے

خاک ہو کر بھی کب مٹوں گا میں

خاک ہو کر بھی کب مٹوں گا میں پھول بن کر یہیں کھلوں گا میں تجھ کو آواز بھی میں کیوں دوں گا تیرا رستہ بھی کیوں تکوں گا میں اک پرانے سے زخم پر اب کے کوئی مرہم نیا رکھوں گا میں گھیر لیں گی یہ تتلیاں مجھ کو خوشبوئیں جیوں رہا کروں گا میں خود سے باہر تو کم نکلتا ہوں جی میں آیا تو پھر ...

مزید پڑھیے

اک ادھوری سی کہانی میں سناتا کیسے

اک ادھوری سی کہانی میں سناتا کیسے یاد آتا بھی نہیں خواب وہ بکھرا کیسے کتنے سایوں سے بھری ہے یہ حویلی دل کی ایسی بھگدڑ میں کوئی شخص ٹھہرتا کیسے پھول زخموں کے یہاں اور بھی چن لوں لیکن اپنا دامن میں کروں اور کشادہ کیسے دکھ کے سیلاب میں ڈوبا تھا وہ خود ہی اتنا میری آنکھو تمہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4197 سے 4657