شاعری

وہ لمحہ مجھ کو ششدر کر گیا تھا

وہ لمحہ مجھ کو ششدر کر گیا تھا مرے اندر بھی لاوا بھر گیا تھا ہے دونوں سمت ویرانی کا عالم اسی رستے سے وہ لشکر گیا تھا گزاری تھی بھنور میں اس نے لیکن وہ مانجھی ساحلوں سے ڈر گیا تھا قلندر مطمئن تھا جھونپڑے میں عبث اس کے لیے محضر گیا تھا نہ جانے کیسی آہٹ تھی فضا میں وہ دن ڈھلتے ہی ...

مزید پڑھیے

ہنستے ہوئے چہرے میں کوئی شام چھپی تھی

ہنستے ہوئے چہرے میں کوئی شام چھپی تھی خوش لہجہ تخاطب کی کھنک نیم چڑھی تھی جلووں کی انا توڑ گئی ایک ہی پل میں کچنار سی بجلی میرے سینے میں اڑی تھی پیتا رہا دریا کے تموج کو شناور ہونٹوں پہ ندی کے بھی عجب تشنہ لبی تھی خوش رنگ معانی کے تعاقب میں رہا میں خط لب لعلیں کی ہر اک موج خفی ...

مزید پڑھیے

دروازہ وا کر کے روز نکلتا تھا

دروازہ وا کر کے روز نکلتا تھا صرف وہی اپنے گھر کا سرمایہ تھا کھڑے ہوئے تھے پیڑ جڑوں سے کٹ کر بھی تیز ہوا کا جھونکا آنے والا تھا اسی ندی میں اس کے بچے ڈوب گئے اسی ندی کا پانی اس کا پینا تھا سبز قبائیں روز لٹاتا تھا لیکن خود اس کے تن پر بوسیدہ کپڑا تھا باہر سارے میداں جیت چکا تھا ...

مزید پڑھیے

خود بھی صیاد امتحان میں ہے

خود بھی صیاد امتحان میں ہے ایک ہی تیر اب کمان میں ہے دھوپ اب آ گئی منڈیروں پر صبح کا شور میرے کان میں ہے دن مرا ڈھل گیا تو غم کیسا دھوپ اب بھی بہت سی لان میں ہے اس کو مجھ پر یقیں نہیں ہوتا جانے وہ کون سے گمان میں ہے آسماں کی طرف ہے اس کی نظر جو بھی اب عمر کی ڈھلان میں ہیں جو مکیں ...

مزید پڑھیے

سونے کی کوششیں تو بہت کی گئیں مگر

سونے کی کوششیں تو بہت کی گئیں مگر کیا کیجئے جو نیند سے جھگڑا ہو رات بھر میں نے خود اپنا سایہ ہی بانہوں میں بھر لیا اس کا خمار چھایا تھا مجھ پہ کچھ اس قدر آنکھوں میں چند خواب تھے اور دل میں کچھ امید جلتا رہا میں آگ کی مانند عمر بھر کیوں کوئی اس پے ڈالے نظر احترام کی کہلائے علم و ...

مزید پڑھیے

شہر کی ویراں سڑک پر جشن غم کرتے ہوئے

شہر کی ویراں سڑک پر جشن غم کرتے ہوئے جا رہا ہوں خشکئ مژگاں کو نم کرتے ہوئے زندگی تنہا سفر پر گامزن ہوتی ہوئی اور ہم یادوں کو پچھلی ہم قدم کرتے ہوئے بول اٹھتے ہیں کئی برسوں پرانے زخم بھی دل ہو جب مصروف اپنی چپ رقم کرتے ہوئے اس کا بھی کہنا یہی برباد ہو جاؤ گے تم اور ہم بھی ٹھیک ...

مزید پڑھیے

آج یوں ہی سر بہ سر دل بہت اداس ہے

آج یوں ہی سر بہ سر دل بہت اداس ہے بات کچھ نہیں مگر دل بہت اداس ہے جسم ہے تھکا ہوا حوصلہ نڈھال ہے اور سب سے پیشتر دل بہت اداس ہے شہر ممکنات میں ہو کے نہ امید میں پھر رہا ہوں در بہ در دل بہت اداس ہے پھر ہنسی کو دیکھ کر سب فریب کھا گئے ہے بھلا کسے خبر دل بہت اداس ہے پھر وہ قرب یار ہو ...

مزید پڑھیے

اس قدر بھی دل نہیں ٹوٹا ہوا

اس قدر بھی دل نہیں ٹوٹا ہوا کچھ سمٹ سکتا نہ ہو بکھرا ہوا کب تلک خود کو یہی کہتا رہوں دل پہ مت لے جو ہوا اچھا ہوا کون سے منظر پہ ٹھہرے آنکھ بھی سب نظر آتا ہے بس دیکھا ہوا ہم یقیں کر کے اسے پڑھتے رہے جو بھی تھا حرف گماں لکھا ہوا سب مراسم رکھ گیا دہلیز پر دل گرفتار انا ہوتا ...

مزید پڑھیے

تو گیا لیکن تری یادیں یہاں پر رہ گئیں

تو گیا لیکن تری یادیں یہاں پر رہ گئیں بعد تیرے بس تری باتیں زباں پر رہ گئیں پہلے تیری ذات کا پیکر کہیں پر گم ہوا اور نہ جانے پھر تری یادیں کہاں پر رہ گئیں آج پھر ایسا ہوا جب سوچ کر تجھ کو اے دوست آسماں تکتی نگاہیں آسماں پر رہ گئیں کیا ستم ہے کل تلک جو سامنے آنکھوں کے تھیں آج وہ ...

مزید پڑھیے

نشاط درد کا دریا اترنے والا ہے

نشاط درد کا دریا اترنے والا ہے میں اس سے اور وہ مجھ سے ابھرنے والا ہے میں اس کی نرم نگاہی سے ہو گیا مایوس وہ میری سادہ دلی سے مکرنے والا ہے وہ میرے عشق میں دیوانہ وار پھرنے لگے یہ معجزہ تو فقط فرض کرنے والا ہے مرے خیال کی پرواز سے جو واقف ہے وہ آشنا ہی مرے پر کترنے والا ہے ابھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4195 سے 4657