وہ لمحہ مجھ کو ششدر کر گیا تھا
وہ لمحہ مجھ کو ششدر کر گیا تھا مرے اندر بھی لاوا بھر گیا تھا ہے دونوں سمت ویرانی کا عالم اسی رستے سے وہ لشکر گیا تھا گزاری تھی بھنور میں اس نے لیکن وہ مانجھی ساحلوں سے ڈر گیا تھا قلندر مطمئن تھا جھونپڑے میں عبث اس کے لیے محضر گیا تھا نہ جانے کیسی آہٹ تھی فضا میں وہ دن ڈھلتے ہی ...