شاعری

دوریاں سمٹنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے

دوریاں سمٹنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے رنجشوں کے مٹنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے ہجر کے دوراہے پر ایک پل نہ ٹھہرا وہ راستے بدلنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے آنکھ سے نہ ہٹنا تم آنکھ کے جھپکنے تک آنکھ کے جھپکنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے حادثہ بھی ہونے میں وقت کچھ تو لیتا ہے بخت کے بگڑنے میں دیر ...

مزید پڑھیے

زندگانی جاودانی بھی نہیں

زندگانی جاودانی بھی نہیں لیکن اس کا کوئی ثانی بھی نہیں ہے سوا نیزے پہ سورج کا علم تیرے غم کی سائبانی بھی نہیں منزلیں ہی منزلیں ہیں ہر طرف راستے کی اک نشانی بھی نہیں آئنے کی آنکھ میں اب کے برس کوئی عکس مہربانی بھی نہیں آنکھ بھی اپنی سراب آلود ہے اور اس دریا میں پانی بھی ...

مزید پڑھیے

بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا

بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا سب سے چھپ کر وہ کسی کا دیکھنا اچھا لگا سرمئی آنکھوں کے نیچے پھول سے کھلنے لگے کہتے کہتے کچھ کسی کا سوچنا اچھا لگا بات تو کچھ بھی نہیں تھیں لیکن اس کا ایک دم ہاتھ کو ہونٹوں پہ رکھ کر روکنا اچھا لگا چائے میں چینی ملانا اس گھڑی بھایا بہت زیر لب ...

مزید پڑھیے

ہوا ہی لو کو گھٹاتی وہی بڑھاتی ہے

ہوا ہی لو کو گھٹاتی وہی بڑھاتی ہے یہ کس گمان میں دنیا دیے جلاتی ہے بھٹکنے والوں کو کیا فرق اس سے پڑتا ہے سفر میں کون سڑک کس طرف کو جاتی ہے عجیب خوف کا گنبد ہے میرے چار طرف مری صدا مرے کانوں میں لوٹ آتی ہے وہ جس بھی راہ سے گزرے جہاں قیام کرے زمیں وہاں کی ستاروں سے بھرتی جاتی ...

مزید پڑھیے

بے پردہ ہو کے جب وہ لب بام آ گیا

بے پردہ ہو کے جب وہ لب بام آ گیا آنکھوں پہ میری دید کا الزام آ گیا تا صبح کروٹیں ہی بدلتے رہیں گے ہم ان کا اگر خیال سر شام آ گیا بیباکیوں پہ ان کی کسی نے نظر نہ کی میری نگاہ شوق پہ الزام آ گیا اس دور میں بہت ہی غنیمت کہو اسے دکھ میں اگر کسی کے کوئی کام آ گیا کتنی ہماری عمر محبت ...

مزید پڑھیے

چھائی جو ہر سو بدلی کالی آنکھ میں آنسو آئے

چھائی جو ہر سو بدلی کالی آنکھ میں آنسو آئے دیکھ سکے نہ پنچھی ڈالی آنکھ میں آنسو آئے میرے دیس کی جنت جیسی دھرتی اجڑی اجڑی ہر جا دیکھی جب بد حالی آنکھ میں آنسو آئے خیموں کی بستی میں وہ جو زندہ لاشیں ہیں دیکھ کے ان کی آنکھ سوالی آنکھ میں آنسو آئے ٹھنڈا سینہ دھرتی کا ہے بھوک کے ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسی چل رہی تھی ہوا دل نہیں لگا

کچھ ایسی چل رہی تھی ہوا دل نہیں لگا میلے میں زندگی کے ذرا دل نہیں لگا تنہائیوں نے مجھ کو نوازا تمام عمر محفل کے شور میں بخدا دل نہیں لگا دنیائے کاروبار میں اے تاجر عظیم سارا متاع و مال لگا دل نہیں لگا میں رونقوں سے شہر کی مایوس جب ہوا اہل خرد نے مجھ سے کہا دل نہیں لگا بے زاریوں ...

مزید پڑھیے

جب بھی دیس کو واپس جاؤں آنکھ میں آنسو آئے

جب بھی دیس کو واپس جاؤں آنکھ میں آنسو آئے ذہن میں ماضی کو لوٹاؤں آنکھ میں آنسو آئے اپنے شہر کے گونگے بہرے لوگوں کو میں اپنے جب بھی دل کی بات سناؤں آنکھ میں آنسو آئے قدم قدم پر دھوکے باز ہیں پیار جتاتے ہیں ان کے راز سمجھ نہ پاؤں آنکھ میں آنسو آئے یہ مسکانیں جھوٹی خوشیاں کب تک ...

مزید پڑھیے

کچھ ہے جو یہ گمان نہ ہوتا تو ٹھیک تھا

کچھ ہے جو یہ گمان نہ ہوتا تو ٹھیک تھا سر پر یہ آسمان نہ ہوتا تو ٹھیک تھا اچھا تھا گر زمین نہ ہوتی جہان میں یا پھر کوئی جہان نہ ہوتا تو ٹھیک تھا انسان میہمان ہے دو چار روز کا اس پر یہ امتحان نہ ہوتا تو ٹھیک تھا اپنی تلاش میں تو نہ پھرتا ادھرادھر اتنا بڑا مکان نہ ہوتا تو ٹھیک ...

مزید پڑھیے

میرے جیسا اس دنیا میں ہو سکتا ہے کون

میرے جیسا اس دنیا میں ہو سکتا ہے کون جیسے میں نے خود کو ڈھویا ڈھو سکتا ہے کون دھل جاتے ہیں اک دن آخر جیسے بھی ہوں داغ من کا میل اور میلی چادر دھو سکتا ہے کون پورا چاند اور جگمگ تارے یادوں کی بارات اس موسم میں مخمل پر بھی سو سکتا ہے کون خوابوں کی اک بستی جس میں سب ہوں خوش اوقات اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4126 سے 4657