شاعری

یہ اور بات ہے تجھ سے گلا نہیں کرتے

یہ اور بات ہے تجھ سے گلا نہیں کرتے جو زخم تو نے دیے ہیں بھرا نہیں کرتے ہزار جال لیے گھومتی پھرے دنیا ترے اسیر کسی کے ہوا نہیں کرتے یہ آئنوں کی طرح دیکھ بھال چاہتے ہیں کہ دل بھی ٹوٹیں تو پھر سے جڑا نہیں کرتے وفا کی آنچ سخن کا تپاک دو ان کو دلوں کے چاک رفو سے سلا نہیں کرتے جہاں ہو ...

مزید پڑھیے

تو نہیں تیرا استعارا نہیں

تو نہیں تیرا استعارا نہیں آسماں پر کوئی ستارا نہیں وہ مرے سامنے سے گزرا تھا پھر بھی میں چپ رہا پکارا نہیں وہ نہیں ملتا ایک بار ہمیں اور یہ زندگی دوبارا نہیں ہر سمندر کا ایک ساحل ہے ہجر کی رات کا کنارا نہیں ہو سکے تو نگاہ کر لینا تم پہ کچھ زور تو ہمارا نہیں

مزید پڑھیے

تمہارا ہاتھ جب میرے لرزتے ہاتھ سے چھوٹا خزاں کے آخری دن تھے

تمہارا ہاتھ جب میرے لرزتے ہاتھ سے چھوٹا خزاں کے آخری دن تھے وہ محکم بے لچک وعدہ کھلونے کی طرح ٹوٹا خزاں کے آخری دن تھے بہار آئی نہ تھی لیکن ہواؤں میں نئے موسم کی خوشبو رقص کرتی تھی اچانک جب کہا تم نے مرے منہ پر مجھے جھوٹا خزاں کے آخری دن تھے وہ کیا دن تھے یہیں ہم نے بہاروں کی دعا ...

مزید پڑھیے

کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا

کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں دل بے خبر مری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا میں تو گم تھا تیرے ہی دھیان میں تری آس تیرے گمان میں صبا کہہ گئی مرے کان میں مرے ساتھ آ اسے ...

مزید پڑھیے

کمال حسن ہے حسن کمال سے باہر

کمال حسن ہے حسن کمال سے باہر ازل کا رنگ ہے جیسے مثال سے باہر تو پھر وہ کون ہے جو ماورا ہے ہر شے سے نہیں ہے کچھ بھی یہاں گر خیال سے باہر یہ کائنات سراپا جواب ہے جس کا وہ اک سوال ہے پھر بھی سوال سے باہر ہے یاد اہل وطن یوں کہ ریگ ساحل پر گری ہوئی کوئی مچھلی ہو جال سے باہر عجیب سلسلۂ ...

مزید پڑھیے

دام خوشبو میں گرفتار صبا ہے کب سے

دام خوشبو میں گرفتار صبا ہے کب سے لفظ اظہار کی الجھن میں پڑا ہے کب سے اے کڑی چپ کے در و بام سجانے والے منتظر کوئی سر کوہ ندا ہے کب سے چاند بھی میری طرح حسن شناسا نکلا اس کی دیوار پہ حیران کھڑا ہے کب سے بات کرتا ہوں تو لفظوں سے مہک آتی ہے کوئی انفاس کے پردے میں چھپا ہے کب سے شعبدہ ...

مزید پڑھیے

سینکڑوں ہی رہنما ہیں راستہ کوئی نہیں

سینکڑوں ہی رہنما ہیں راستہ کوئی نہیں آئنے چاروں طرف ہیں دیکھتا کوئی نہیں سب کے سب ہیں اپنے اپنے دائرے کی قید میں دائروں کی حد سے باہر سوچتا کوئی نہیں صرف ماتم اور زاری سے ہی جس کا حل ملے اس طرح کا تو کہیں بھی مسئلہ کوئی نہیں یہ جو سائے سے بھٹکتے ہیں ہمارے ارد گرد چھو کے ان کو ...

مزید پڑھیے

اگرچہ کوئی بھی اندھا نہیں تھا

اگرچہ کوئی بھی اندھا نہیں تھا لکھا دیوار کا پڑھتا نہیں تھا کچھ ایسی برف تھی اس کی نظر میں گزرنے کے لئے رستہ نہیں تھا تمہی نے کون سی اچھائی کی ہے چلو مانا کہ میں اچھا نہیں تھا کھلی آنکھوں سے ساری عمر دیکھا اک ایسا خواب جو اپنا نہیں تھا میں اس کی انجمن میں تھا اکیلا کسی نے بھی ...

مزید پڑھیے

نکل کے حلقۂ شام و سحر سے جائیں کہیں

نکل کے حلقۂ شام و سحر سے جائیں کہیں زمیں کے ساتھ نہ مل جائیں یہ خلائیں کہیں سفر کی رات ہے پچھلی کہانیاں نہ کہو رتوں کے ساتھ پلٹتی ہیں کب ہوائیں کہیں فضا میں تیرتے رہتے ہیں نقش سے کیا کیا مجھے تلاش نہ کرتی ہوں یہ بلائیں کہیں ہوا ہے تیز چراغ وفا کا ذکر تو کیا طنابیں خیمۂ جاں کی نہ ...

مزید پڑھیے

در کائنات جو وا کرے اسی آگہی کی تلاش ہے

در کائنات جو وا کرے اسی آگہی کی تلاش ہے مجھے روشنی کی تلاش تھی مجھے روشنی کی تلاش ہے غم زندگی کے فشار میں تری آرزو کے غبار میں اسی بے حسی کے حصار میں مجھے زندگی کی تلاش ہے یہ جو سرسری سی نشاط ہے یہ تو چند لمحوں کی بات ہے مری روح تک جو اتر سکے مجھے اس خوشی کی تلاش ہے یہ جو آگ سی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4125 سے 4657