شاعری

جنوں کی حدوں سے گزرنا نہیں ہے

جنوں کی حدوں سے گزرنا نہیں ہے محبت میں جینا ہے مرنا نہیں ہے ہمارے مقدر میں جب تم نہیں تو کسی کے لئے اب سنورنا نہیں ہے مجھے صرف تم دیکھ سکتے ہو لیکن گناہوں کی تہہ میں اترنا نہیں ہے مجھے تم کھلونا سمجھتے ہو سمجھو مجھے ٹوٹ کر اب بکھرنا نہیں ہے یہ طے کر لیا ہے کسی حال میں ...

مزید پڑھیے

ہر ستم سہہ کے مسکرا دینا

ہر ستم سہہ کے مسکرا دینا میں نے سیکھا ہے غم بھلا دینا انگلیاں جو اٹھاتے ہیں سب پر آئنہ ان کو بھی دکھا دینا ہے محبت کی آرزو جن کو ان کو میرا پتا بتا دینا ان کو آتا ہے کیا سوا اس کے حال دل سننا مسکرا دینا اے اناؔ ہے یہی مرا شیوہ اپنے دشمن کو بھی دعا دینا

مزید پڑھیے

جب کبھی حسن کی پاکیزہ کہانی لکھنا

جب کبھی حسن کی پاکیزہ کہانی لکھنا شیام کے عشق میں میرا کو دوانی لکھنا تم کسی پھول کو مرجھاتے ہوئے دیکھنا جب اس گھڑی بیٹھ کے انجام جوانی لکھنا زندگی جس کے تصور سے سنور جاتی ہے میرے حصے میں وہی شام سہانی لکھنا اپنے مقصد کے لئے اہل سیاست نے یہاں کس طرح کھوئی بزرگوں کی نشانی ...

مزید پڑھیے

نہ یہ پوچھئے مجھ سے کیا چاہتی ہوں

نہ یہ پوچھئے مجھ سے کیا چاہتی ہوں میں اک بے وفا سے وفا چاہتی ہوں نظر صاف آئے نہ تصویر جس میں میں وہ آئنہ توڑنا چاہتی ہوں جو تنقید کرتے ہیں میری وفا پر میں ان سے ثبوت وفا چاہتی ہوں کہیں ساتھ تو چھوڑ دیں گے نہ میرا میں یہ آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں زمانے کو ہے چاند تاروں کی خواہش مگر ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے زمانے کے لئے زندہ ہوں

کون کہتا ہے زمانے کے لئے زندہ ہوں میں تو بس آپ کو پانے کے لئے زندہ ہوں آپ فرمائیں ستم شوق سے پھر بھی میں تو آپ کے ناز اٹھانے کے لئے زندہ ہوں کون اس دور میں ہوتا ہے کسی کا ساتھی زندگی تجھ کو نبھانے کے لئے زندہ ہوں جو ترے پیار کا صدیوں سے ہے واجب مجھ پر ہاں وہی قرض چکانے کے لئے زندہ ...

مزید پڑھیے

میں اصولوں سے بغاوت نہیں کرنے والی

میں اصولوں سے بغاوت نہیں کرنے والی کبھی توہین محبت نہیں کرنے والی مجھ کو نذرانۂ دل پیش نہ کیجے صاحب ہر کسی سے میں محبت نہیں کرنے والی جو شرافت کی حدوں میں کبھی رہتے ہی نہیں ایسے لوگوں کی میں عزت نہیں کرنے والی تو نے دل توڑ دیا کر دیا محروم وفا پھر بھی میں تیری شکایت نہیں کرنے ...

مزید پڑھیے

پہلے جو تھی دلوں میں محبت نہیں رہی

پہلے جو تھی دلوں میں محبت نہیں رہی افسوس اب جہاں میں شرافت نہیں رہی اک مہرباں کی چشم کرم مجھ پہ ہو گئی دنیا ترے کرم کی ضرورت نہیں رہی تم نے نگاہ پھیری تو احساس یہ ہوا دنیا میں کچھ خلوص کی قیمت نہیں رہی یہ اور بات میں نے ہی تجھ کو بھلا دیا ہم راہ میرے کب تری رحمت نہیں رہی کیوں آپ ...

مزید پڑھیے

خوشی سے ربط نہ رکھ غم سے سلسلہ نہ ملا

خوشی سے ربط نہ رکھ غم سے سلسلہ نہ ملا دوا میں زہر ملا زہر میں دوا نہ ملا میں اپنا پیار بھرا دل کسی کو کیا دیتی تمہارے جیسا حسیں کوئی دوسرا نہ ملا بہت تلاش کیا ہم نے شہر و صحرا میں خدا کے چاہنے والے ملے خدا نہ ملا جمی تھی گرد ہوس دوستوں کے چہروں پر بقدر ظرف نظر کوئی آشنا نہ ...

مزید پڑھیے

کب سے ہم لوگ اس بھنور میں ہیں

کب سے ہم لوگ اس بھنور میں ہیں اپنے گھر میں ہیں یا سفر میں ہیں یوں تو اڑنے کو آسماں ہیں بہت ہم ہی آشوب بال و پر میں ہیں زندگی کے تمام تر رستے موت ہی کے عظیم ڈر میں ہیں اتنے خدشے نہیں ہیں رستوں میں جس قدر خواہش سفر میں ہیں سیپ اور جوہری کے سب رشتے شعر اور شعر کے ہنر میں ہیں سایۂ ...

مزید پڑھیے

چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن

چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن رازوں کی طرح اترو مرے دل میں کسی شب دستک پہ مرے ہاتھ کی کھل جاؤ کسی دن پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہا لوں بادل کی طرح جھوم کے گھر آؤ کسی دن خوشبو کی طرح گزرو مری دل کی گلی سے پھولوں کی طرح مجھ پہ بکھر جاؤ کسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4127 سے 4657