شاعری

جس نے دیکھا وہ ہو گیا اس کا

جس نے دیکھا وہ ہو گیا اس کا کون بتلائے اب پتہ اس کا زندگی بھر یہ جستجو ہی رہی کون تھا اپنا کون تھا اس کا ہو گیا بوڑھا وہ غریب آخر آج تک گھر نہ بن سکا اس کا اس کی تھانے میں جیب خالی تھی بس یہی ایک جرم تھا اس کا طے کرے ہے سفر وہ اوروں کا کون روکے گا راستہ اس کا جانے کیا اس نے لکھ ...

مزید پڑھیے

چلنا آساں نہیں یہاں پیارے

چلنا آساں نہیں یہاں پیارے ہر قدم پر ہے امتحاں پیارے اپنا چہرہ ہی کہہ اٹھا سب کچھ اب رہا کون رازداں پیارے کس کے پیچھے یہاں چلے کوئی ہیں سبھی میرے کارواں پیارے جا کے پوچھو غریب بچوں سے کیسی ہوتی ہیں روٹیاں پیارے تیرے کہنے سے جو بجائی جائیں کیا کروں ایسی تالیاں پیارے یوں تو ...

مزید پڑھیے

تفکیر کو حروف کے سانچے میں ڈھال کے

تفکیر کو حروف کے سانچے میں ڈھال کے الفاظ کو تو بخش عناصر جمال کے تعریف تیری ایڑ ہو تنقید ہو لگام صحرائے فکر میں اڑا گھوڑے خیال کے بہر حیات میں ہیں حقیقت کے جو صدف اشعار میں پرو تو یہ موتی نکال کے ہے تیری جائیداد یہ حریت کلام کر صرف اس متاع کو نہ رکھ سنبھال کے شیرینیٔ حیات اور ...

مزید پڑھیے

رنگ اس موسم میں بھرنا چاہئے

رنگ اس موسم میں بھرنا چاہئے سوچتی ہوں پیار کرنا چاہئے زندگی کو زندگی کے واسطے روز جینا روز مرنا چاہئے دوستی سے تجربہ یہ ہو گیا دشمنوں سے پیار کرنا چاہئے پیار کا اقرار دل میں ہو مگر کوئی پوچھے تو مکرنا چاہئے

مزید پڑھیے

خود سے ملنا ملانا بھول گئے

خود سے ملنا ملانا بھول گئے لوگ اپنا ٹھکانا بھول گئے رنگ ہی سے فریب کھاتے رہیں خوشبوئیں آزمانا بھول گئے تیرے جاتے ہی یہ ہوا محسوس آئنے جگمگانا بھول گئے جانے کس حال میں ہیں کیسے ہیں ہم جنہیں یاد آنا بھول گئے پار اتر تو گئے سبھی لیکن ساحلوں پر خزانہ بھول گئے دوستی بندگی وفا و ...

مزید پڑھیے

ہزاروں سال چلنے کہ سزا ہے

ہزاروں سال چلنے کہ سزا ہے بتا اے وقت تیرا جرم کیا ہے اجالا کام پر ہے پو پھٹے سے اندھیرا چین سے سویا ہوا ہے ہوا سے لڑ رہے بجھتے دیے نے ہمارا ذہن روشن کر دیا ہے وہ سورج کے گھرانے سے ہے لیکن فلک سے چاندنی برسا رہا ہے بدن پر روشنی اوڑھی ہے سب نے اندھیرا روح تک پھیلا ہوا ہے سنا ہے ...

مزید پڑھیے

اک جھلک تیری جو پائی ہوگی

اک جھلک تیری جو پائی ہوگی چاند نے عید منائی ہوگی صبح دم اس کو رلا آیا ہوں سارا دن خود سے لڑائی ہوگی اس نے دریا کو لگا کر ٹھوکر پیاس کی عمر بڑھائی ہوگی کیس جگنو پہ چلے گا انجمؔ بستی اوروں نے جلائی ہوگی

مزید پڑھیے

کھویا کھویا رہتا ہے

کھویا کھویا رہتا ہے جانے کیا کر بیٹھا ہے بستی میں اک پھول کھلا محلوں محلوں چرچا ہے رفتہ رفتہ اترے گا چڑھتی عمر کا دریا ہے اڑتی گھٹا کو کیا معلوم صحرا کتنا پیاسا ہے آج کے انساں کی منزل عورت شہرت پیسہ ہے بٹیا بھی سسرال گئی طوطا بھی چپ رہتا ہے چل انجمؔ گھر لوٹ چلیں صحرا میں ...

مزید پڑھیے

جانے کس کی آہٹ کا انتظار کرتا ہے

جانے کس کی آہٹ کا انتظار کرتا ہے ٹوٹ تو چکا ہے وہ دیکھو کب بکھرتا ہے زخم چاہے جیسا ہو ایک دن تو بھرتا ہے آپ سوئے ہوتے ہیں وقت کام کرتا ہے روز چھپ کے تکتا ہے پیاسی پیاسی نظروں سے اس کے گھر کے آگے سے دریا جب گزرتا ہے دل کا کیا کروں یارو مانتا نہیں میری اپنے دل کی سنتا ہے اپنے من کی ...

مزید پڑھیے

وہ جب اپنے لب کھولیں

وہ جب اپنے لب کھولیں شہد فضاؤں میں گھولیں آپ کے بھی ہو جائیں گے ہم پہلے اپنے تو ہو لیں دنیا سے کٹ جائیں ہم اتنا سچ ہی کیوں بولیں جب جب خود کو قتل کریں خنجر گنگا میں دھو لیں اڑنا ہم سکھلا دیں گے آپ ذرا سے پر کھولیں کچھ دن ہلکے گزریں گے آج کی شب کھل کر رو لیں دن بھر سورج ڈھویا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4100 سے 4657