شاعری

کانٹوں میں جو پھول کھلا ہے

کانٹوں میں جو پھول کھلا ہے جب دیکھو ہنستا رہتا ہے ڈالی پر اک پیلا پتہ جانے کیا گنتا رہتا ہے سنتے ہیں اک ہوا کا جھونکا اک خوشبو کو لے بھاگا ہے بہتے پانی پر دیوانا کس کو خط لکھتا رہتا ہے سونے چاندی کی جگ مگ نے سب کو اندھا کر رکھا ہے اک چڑیا کے آ جانے سے سارہ گھر آنگن چہکا ہے

مزید پڑھیے

آنکھوں میں طوفان بہت ہے

آنکھوں میں طوفان بہت ہے بارش کا امکان بہت ہے راہ وفا پر چلنے والے یہ رستہ ویران بہت ہے دل ہر ضد منوا لیتا ہے یہ بچہ شیطان بہت ہے ایک ذرا ایماں بک جائے پھر سب کچھ آسان بہت ہے دل کا عالم مہکانے کو تیری اک مسکان بہت ہے

مزید پڑھیے

وصل کی رات وہ تنہا ہوگا

وصل کی رات وہ تنہا ہوگا اس پہ حالات کا پہرہ ہوگا نیند کیوں ٹوٹ گئی آخر شب کون میرے لئے تڑپا ہوگا خوشبوئیں پھوٹ کے روئی ہوں گی گل ہواؤں میں جو بکھرا ہوگا وادئ ذہن سے اٹھتا ہے دھواں قافلہ یادوں کا ٹھہرا ہوگا جانے کس حال سے گزری ہوگی پھول جس شاخ پہ اترا ہوگا یاد آئیں گی ہماری ...

مزید پڑھیے

پیار میں تانا بانا چلتا رہتا ہے

پیار میں تانا بانا چلتا رہتا ہے روٹھنا اور منانا چلتا رہتا ہے وعدے اور ارادے ٹوٹے رہتے ہیں پینا اور پلانا چلتا رہتا ہے نئی نویلی کلیاں کھلتی رہتی ہیں پھولوں کا مرجھانا چلتا رہتا ہے پیار کے گیت سناتے رہتے ہیں بھونرے کلیوں کا شرمانا چلتا رہتا ہے پھولوں کی رنگت دو اک دن چل ...

مزید پڑھیے

توڑ کڑیاں ضمیر کہ انجمؔ

توڑ کڑیاں ضمیر کہ انجمؔ اور کچ دیر تو بھی جی انجمؔ ایک بھی گام چل نہ پائے گی ان اندھیروں میں روشنی انجمؔ زندگی تیز دھوپ کا دریا آدمی ناؤ موم کی انجمؔ جس گھٹا پر تھی آنکھ صحرا کہ وہ سمندر پہ مر مٹی انجمؔ جس پہ سورج کہ مہربانی ہو اس پہ کھلتی ہے چاندنی انجمؔ صبح کا خواب عمر بھر ...

مزید پڑھیے

ہم سا دیوانہ کہاں مل پائے گا اس دہر میں

ہم سا دیوانہ کہاں مل پائے گا اس دہر میں گھر کیا تعمیر جس نے دیمکوں کے شہر میں خودکشی کرنے میں بھی ناکام رہ جاتے ہیں ہم کون امرت گھول دیتا ہے ہمارے زہر میں کس کو ہے مرنے کی فرصت سب یہاں مصروف ہیں موت تو بے کار میں آئی ہے ایسے شہر میں ٹوٹی کشتی کی طرح ہیں وقت کے ساحل پہ ہم کیا ...

مزید پڑھیے

پل بھر اسے رلا کر دیکھ

پل بھر اسے رلا کر دیکھ سارا دن پچھتا کر دیکھ پتھر دل تھوڑا ہے وہ بانہیں تو پھیلا کر دیکھ ممکن ہے غم بہہ نکلے نینا نیر بہا کر دیکھ تجھ بن کتنا تنہا ہوں جانے والے آ کر دیکھ کیا سے کیا ہو جانا ہے پتہ خشک اٹھا کر دیکھ

مزید پڑھیے

عشق اس کو مجھ سے ہے یا تھا کبھی

عشق اس کو مجھ سے ہے یا تھا کبھی مر کے بھی میں جان نہ پایا کبھی فکر مجھ سے پوچھتی ہے رات دن نیند ہے پھر کیوں نہیں سوتا کبھی دائروں کے دائرے ہے سب جگہ دائرہ بھی خوش نہیں ہوگا کبھی کاٹنے پر سانپ کے کچھ نہ ہوا ڈانٹنے پر اس کے میں رویا کبھی وقت مجھ کو ہر دفعہ پکڑے رکھا وقت کو میں نہ ...

مزید پڑھیے

پتا مجھ کو ہے پہلے سے اسے انکار کرنا ہے

پتا مجھ کو ہے پہلے سے اسے انکار کرنا ہے تسلی کے لیے مجھ کو مگر اظہار کرنا ہے کوئی تعویذ مل جائے کہ یہ اچھا کرے پوری بہت وہ دور ہے لیکن مجھے دیدار کرنا ہے ارادہ کیا ہے میری جاں بہت نزدیک بیٹھی ہو قتل کرنا ہے یا ہم دو کو دو سے چار کرنا ہے نظر ان سے یہ سنڈے کو باغیچے میں ملی ایسی کہ ...

مزید پڑھیے

بڑا آزار جاں ہے وہ اگرچہ مہرباں ہے وہ

بڑا آزار جاں ہے وہ اگرچہ مہرباں ہے وہ اگرچہ مہرباں ہے وہ بڑا آزار جاں ہے وہ مثال آسماں ہے وہ مجھے زرخیز کرتا ہے مجھے زرخیز کرتا ہے مثال آسماں ہے وہ کریم و سائباں ہے وہ مجھے محفوظ رکھتا ہے مجھے محفوظ رکھتا ہے کریم و سائباں ہے وہ اگرچہ بے مکاں ہے وہ پناہیں مجھ کو دیتا ہے پناہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4101 سے 4657