شاعری

میں صحرا تھا جزیرہ ہو گیا ہوں

میں صحرا تھا جزیرہ ہو گیا ہوں سمندر دیکھ تیرا ہو گیا ہوں بجز اک نام کہتا ہوں نہ سنتا میں ایسا گونگا بہرا ہو گیا ہوں تری آنکھوں نے دھویا ہے مجھے یوں میں بالکل صاف ستھرا ہو گیا ہوں تو سورج ہے میں آئینے کا ٹکڑا کرن چھو کر سنہرا ہو گیا ہوں مجھے روشن کئے ہے عکس تیرا میں تیرا شوخ ...

مزید پڑھیے

دل پر یوں ہی چوٹ لگی تو کچھ دن خوب ملال کیا

دل پر یوں ہی چوٹ لگی تو کچھ دن خوب ملال کیا پختہ عمر کو بچوں جیسے رو رو کر بے حال کیا ہجر کے چھوٹے گاؤں سے ہم نے شہر وصل کو ہجرت کی شہر وصل نے نیند اڑا کر خوابوں کو پامال کیا اتھلے کنویں بھی کل تک پانی کی دولت سے جل تھل تھے اب کے بادل ایسے سوکھے ندی کو کنگال کیا سورج جب تک ڈھال رہا ...

مزید پڑھیے

اس شہر کے لوگ عجیب سے ہیں اب سب ہی تمہارے اسیر ہوئے

اس شہر کے لوگ عجیب سے ہیں اب سب ہی تمہارے اسیر ہوئے جب جاں پہ برستے تھے پتھر اس وقت ہمیں دلگیر ہوئے کچھ لوگ تمہاری آنکھوں سے کرتے ہیں طلب ہیرے موتی ہم صحرا صحرا ڈوب گئے اک آن میں جوگی فقیر ہوئے تم درد کی لذت کیا جانو کب تم نے چکھے ہیں زہر سبو ہم اپنے وجود کے شاہد ہیں سنگسار ہوئے ...

مزید پڑھیے

جس کو سمجھے تھے تونگر وہ گداگر نکلا

جس کو سمجھے تھے تونگر وہ گداگر نکلا ظرف میں کاسۂ درویش سمندر نکلا کبھی درویش کے تکیہ میں بھی آ کر دیکھو تنگ دستی میں بھی آرام میسر نکلا مشکلیں آتی ہیں آنے دو گزر جائیں گی لوگ یہ دیکھیں کہ کمزور دلاور نکلا جب گرفتوں سے بھی آگے ہو پہنچ مٹھی کی تب لگے گا کہ سمندر میں شناور ...

مزید پڑھیے

نام تیرا بھی رہے گا نہ ستم گر باقی

نام تیرا بھی رہے گا نہ ستم گر باقی جب ہے فرعون نہ چنگیز کا لشکر باقی اپنے چہروں کو سیاہی میں چھپانے والو نوک نیزہ پہ ہے سورج سا کوئی سر باقی تیرے ورثے پہ ہیں غاصب کی عقابی نظریں غفلتوں سے نہیں رہتے یہ جواہر باقی اک صدف سطح سمندر پہ بہا جاتا ہے اور ساحل پہ نہیں ایک شناور ...

مزید پڑھیے

پتھریلی سی شام میں تم نے ایسے یاد کیا جانم

پتھریلی سی شام میں تم نے ایسے یاد کیا جانم ساری رات تمہاری خاطر میں نے زہر پیا جانم سورج کی مانند بنا ہوں ریزہ ریزہ بکھرا ہوں اب جیون کا سر چشمہ ہوں ویسے خوب جلا جانم تم نے مجھ میں جو کچھ کھویا اس کی قیمت تم جانو میں نے تم سے جو کچھ پایا ہے وہ بیش بہا جانم تم کو بھی پہچان نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

عظمتوں کا دیار بن کے رہو

عظمتوں کا دیار بن کے رہو شہر میں شہر یار بن کے رہو خاک بن کر بلندیاں چھو لو راستے کا غبار بن کے رہو میں تمہارے لئے پریشاں ہوں تم مرے غم گسار بن کے رہو ہار جاؤ تو ہار مت سمجھو جیت جاؤ تو ہار بن کے رہو زندگانی ہے جنگ کا میدان بس یہاں آر پار بن کے رہو بے قراروں کو کچھ قرار آئے کچھ ...

مزید پڑھیے

عمر بھر چلتا رہوں یہ حادثہ رہنے دیا

عمر بھر چلتا رہوں یہ حادثہ رہنے دیا اس نے منزل چھین لی اور راستہ رہنے دیا اس طرح اس نے کیا بیماریٔ غم کا علاج اچھا ہونے پر بھی محتاج دوا رہنے دیا جب گئے تھے میری راہوں میں جلا کر تم چراغ آندھیوں کو کس لئے مجھ سے خفا رہنے دیا چاہے جھوٹا ہی سہی اس نے دلاسہ تو دیا کم سے کم جینے کا ...

مزید پڑھیے

جسے بھی دیکھیے ساحل سے آ کے پیار کرے

جسے بھی دیکھیے ساحل سے آ کے پیار کرے سوال یہ ہے کہ دریا کو کون پار کرے وہ آ بھی جائے تو رہتا ہے انتظار اس کا اب ایسے شخص کا کیا کوئی انتظار کرے جو جانتے ہی نہیں اک قطار میں اڑنا نگاہ ایسے پرندوں کو کیا شمار کرے لباس جس کا ہے اجلا فقط مرے دم سے مری قمیص کے دھبے کو وہ شمار ...

مزید پڑھیے

جن کے قبضے میں پل نہیں ہوتے

جن کے قبضے میں پل نہیں ہوتے ان کے حصے میں کل نہیں ہوتے پھینک دے ہاتھ سے یہ تلواریں مسئلے ایسے حل نہیں ہوتے سوچ کر تھک چکا ہر ایک غریب جھوپڑے کیوں محل نہیں ہوتے زہر ہوتا ہے اس کے سینے میں جس کے ماتھے پہ بل نہیں ہوتے ٹھوکروں سے وفا ضروری ہے راستے یہ سرل نہیں ہوتے

مزید پڑھیے
صفحہ 4099 سے 4657