شاعری

کچھ دن سے زندگی مجھے پہچانتی نہیں

کچھ دن سے زندگی مجھے پہچانتی نہیں یوں دیکھتی ہے جیسے مجھے جانتی نہیں وہ بے وفا جو راہ میں ٹکرا گیا کہیں کہہ دوں گی میں بھی صاف کہ پہچانتی نہیں سمجھایا بارہا کہ بچو پیار ویار سے لیکن کوئی سہیلی کہا مانتی نہیں میں نے تجھے معاف کیا جا کہیں بھی جا میں بزدلوں پہ اپنی کماں تانتی ...

مزید پڑھیے

آگ بہتے ہوئے پانی میں لگانے آئی

آگ بہتے ہوئے پانی میں لگانے آئی تیرے خط آج میں دریا میں بہانے آئی پھر تری یاد نئے خواب دکھانے آئی چاندنی جھیل کے پانی میں نہانے آئی دن سہیلی کی طرح ساتھ رہا آنگن میں رات دشمن کی طرح جان جلانے آئی میں نے بھی دیکھ لیا آج اسے غیر کے ساتھ اب کہیں جا کے مری عقل ٹھکانے آئی زندگی تو ...

مزید پڑھیے

عدو تو کیا یہ فلک بھی اسے ستا نہ سکا

عدو تو کیا یہ فلک بھی اسے ستا نہ سکا خوشی ہنسا نہ سکی غم جسے رلا نہ سکا نہ پوچھ اس کی دل افسردگی کی کیفیت جو غم نصیب خوشی میں بھی مسکرا نہ سکا وہ پوچھ بیٹھے یکایک جو وجہ بے تابی کھجا کے رہ گیا سر بات کچھ بنا نہ سکا وہ دیکھ لیں نہ کہیں میری چشم پر نم کو گیا تو ملنے کو آنکھیں مگر ملا ...

مزید پڑھیے

واعظ کی کڑوی باتوں کو کب دھیان میں اپنے لاتے ہیں

واعظ کی کڑوی باتوں کو کب دھیان میں اپنے لاتے ہیں یہ رند بلا نوش ایسے ہیں سنتے ہیں اور پی جاتے ہیں ہم آپ سے جو کچھ کہتے ہیں وہ بالکل جھوٹ غلط اک دم اور آپ جو کچھ فرماتے ہیں بے شبہ بجا فرماتے ہیں دیوانہ سمجھ کر چھیڑ کے وہ سنتے ہیں ہماری باتوں کو ہم مطلب کی کہہ جاتے ہیں وہ سوچ کے کچھ ...

مزید پڑھیے

دل بھر آیا پھر بھی راز دل چھپانا ہی پڑا

دل بھر آیا پھر بھی راز دل چھپانا ہی پڑا سامنے اس بد گماں کے مسکرانا ہی پڑا وہ جو روٹھے میں نے بھی کھا لی نہ ملنے کی قسم پھر نہ دل مانا تو خود جا کر منانا ہی پڑا اف ری مجبوری مزاج یار میں ہو کر دخیل راز داں خود اپنے دشمن کو بنانا ہی پڑا مجھ کو فصل گل میں تیور دیکھ کر صیاد کے آشیانہ ...

مزید پڑھیے

نقاب الٹا ہے شمعوں نے ستارو تم تو سو جاؤ

نقاب الٹا ہے شمعوں نے ستارو تم تو سو جاؤ کریں گے رقص پروانے ستارو تم تو سو جاؤ نگاہوں میں نگہ ڈالے نشے میں چور متوالے پڑھیں گے دل کے افسانے ستارو تم تو سو جاؤ سجے گی محفل یاراں بدن سیمابی جھومیں گے کریں گے رقص پیمانے ستارو تم تو سو جاؤ بھٹکتے ہیں گلستاں میں بیابانوں میں صحرا ...

مزید پڑھیے

اک نئی سی ان سنی سی بات کر

اک نئی سی ان سنی سی بات کر جھوٹی سچی اٹپٹی سی بات کر جانتی ہوں قصہ گڑھ کر آئے ہو چل سنا پھر ان کہی سی بات کر قصے کو ترتیب دینا چھوڑ اب دیر مت کر سرسری سی بات کر جان جاتی ہے بھلانے میں مری چھوڑ اس کو تو بھلی سی بات کر سب یہاں کرنے لگیں گے واہ واہ ایک دو تو بیتے کی سی بات کر دیر سے ...

مزید پڑھیے

تمہارے شہر میں اتنے مکاں گرے کیسے

تمہارے شہر میں اتنے مکاں گرے کیسے مرے عزیز ٹھکانے دھواں ہوئے کیسے میں شہر جبر سے گزرا تو سرخ رو ہو کر انہیں یہ فکر لہو کا نشاں مٹے کیسے سنا رہا ہوں کہانی ہزار راتوں کی کہ شاہزادے کے سر سے سناں ہٹے کیسے حساب خوب رکھا تم نے اپنی لاگت کا مرے نصاب میں سود و زیاں چلے کیسے ہر ایک شخص ...

مزید پڑھیے

مجھ پہ ہر ظلم روا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

مجھ پہ ہر ظلم روا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں مجھ کو اپنے سے جدا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں میں کہ مصلوب ہوں دے مجھ کو بھی ظالم کا خطاب سنت عیسیٰ جلا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں میرے گھر میں ہے جو غاصب تو نکالوں کہ نہیں مجھ پہ الزام جفا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں تیرے مقتول پہ سرگرم ہیں سارے ...

مزید پڑھیے

مرا ہر تیر نشانے پہ نہ پہنچا آخر

مرا ہر تیر نشانے پہ نہ پہنچا آخر در سفر میں بھی ٹھکانے پہ نہ پہنچا آخر توتلی عمر میں جو بچہ ذرا مشفق تھا کچھ بڑا ہو کے دہانے پہ نہ پہنچا آخر جی کو سمجھاتا ہوں قسمت میں لکھا تھا سو ہوا کچھ سنبھل کر بھی بہانے پہ نہ پہنچا آخر ایک غم ہوتا تو سینے سے لگا لیتا کوئی غم کا انبار اٹھانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4098 سے 4657