شاعری

آپ رخ پر نقاب رکھتے ہیں

آپ رخ پر نقاب رکھتے ہیں ابر میں ماہتاب رکھتے ہیں تم کو سائے میں دھوپ لگتی ہے سر پہ ہم آفتاب رکھتے ہیں شوق سے کیجئے جفا ہم پر ہم کہاں اب حساب رکھتے ہیں تلخ لہجہ ہے آپ کا پھر بھی لب پہ ہم جی جناب رکھتے ہیں آپ پتھر اچھالیے بے شک ہاتھ میں ہم گلاب رکھتے ہیں شاعری آپ بھی کیا کیجے شوق ...

مزید پڑھیے

سب جسے ماہتاب کہتے ہیں (ردیف .. ے)

سب جسے ماہتاب کہتے ہیں تیرے رخ کا شباب کہتے ہیں برگ گل سی ہے نازکی ان کی ہم لبوں کو گلاب کہتے ہیں لوگ آنکھوں سے پی بہکتے ہیں چشم جام شراب کہتے ہیں گیسوؤں سے ٹپکتی بوندوں کو ابر سے گرتا آب کہتے ہیں تیری پازیب کی ہوئی رنجھن بج رہا جیوں رباب کہتے ہیں دور ہو کر بھی پاس لگتی ہو کیا ...

مزید پڑھیے

یاد تیری چراغوں سی جلتی رہی

یاد تیری چراغوں سی جلتی رہی رات بھر شمع سی میں پگھلتی رہی دل میں طوفان جذبات کا یوں اٹھا موج ساگر میں جیسے مچلتی رہی وصل کی آرزو یوں بدن میں چبھی سیج پر کروٹیں میں بدلتی رہی آنکھوں سے نیند کے سب پرندے اڑے میں ادھر سے ادھر ہی ٹہلتی رہی بہہ رہی پیار کی ایک مجھ میں ندی پیار کی آگ ...

مزید پڑھیے

اپنی جیب تھی خالی خالی کرتے کیا

اپنی جیب تھی خالی خالی کرتے کیا خوش پوشی کی لاج نبھا لی کرتے کیا کرنا تھا کچھ کام جناب عالی کو ہم ٹھہرے رتبوں سے خالی کرتے کیا خود کو سمجھا سب سے بڑھ کر کار گزار تھی یہ اپنی خام خیالی کرتے کیا تم تو سایہ دار شجر تھے بانٹتے چھاؤں ہم ٹھہرے اک سوکھی ڈالی کرتے کیا ذرہ ہو کر جان لیا ...

مزید پڑھیے

حور و غلماں کے طلب گار سے واقف میں ہوں

حور و غلماں کے طلب گار سے واقف میں ہوں صاحب جبہ و دستار سے واقف میں ہوں شہر میں آپ فرشتوں سے بھی بڑھ کر ٹھہرے ہاں مگر آپ کے کردار سے واقف میں ہوں حق نوائی کا سمجھتا ہوں اسے میں انعام قید و زنداں رسن و دار سے واقف میں ہوں وہ ہے مجبور طلب سے بھی سوا دینے پر خوبیٔ جرأت اظہار سے واقف ...

مزید پڑھیے

دھوپ چھاؤں ذہنوں کا آسرا نہیں رکھتے

دھوپ چھاؤں ذہنوں کا آسرا نہیں رکھتے ہم غرض کے بندوں سے واسطہ نہیں رکھتے زعم پارسائی میں کب خیال ہے ان کو طنز تو وہ کرتے ہیں آئنہ نہیں رکھتے سازشیں علامت تو پست ہمتی کی ہیں سازشیں جو کرتے ہیں حوصلہ نہیں رکھتے وہ غرور تقویٰ میں بس یہی سمجھتے ہیں جیسے ہے خدا ان کا ہم خدا نہیں ...

مزید پڑھیے

جو ذوق نظر ہو تو ترکی میں آ کر (ردیف .. و)

جو ذوق نظر ہو تو ترکی میں آ کر حیات عظیمہ کے آثار دیکھو لگا کر نئی چشمک زنی ہم سروں سے لقب جس کا تھا مرد بیمار دیکھو مٹانے پہ جس کے تلا تھا زمانہ ابھرتا ہے وہ ترک تاتار دیکھو بہ اظہار جرأت یہ زور صداقت ہوئے کس طرح زیر اغیار دیکھو بہ صد شان جاتا ہے انطاکیہ کو اتاترک کا خال جرار ...

مزید پڑھیے

اے دو جہاں کے مالک اعلیٰ ہے نام تیرا

اے دو جہاں کے مالک اعلیٰ ہے نام تیرا پر دل کی بستیوں میں دیکھا مقام تیرا موقوف کب ہے جن و انس و ملائکہ پر طائر بھی نام لیتے ہیں صبح و شام تیرا تخصیص نعمتوں میں ابرار کی نہیں کچھ اشرار پر بھی ہر دم ہے لطف عام تیرا حد ہو گئی کہ تیرے محبوب کی زباں سے ہم خاکیوں کو پہنچا یا رب پیام ...

مزید پڑھیے

وہ غنچہ ہوں جو بن کھلے مرجھائے چمن میں (ردیف .. ا)

وہ غنچہ ہوں جو بن کھلے مرجھائے چمن میں وہ اشک ہوں جو زینت داماں نہیں ہوتا زنداں میں بھی ٹکرائے ہیں زنجیر کے حلقے کب جوش جنوں دست و گریباں نہیں ہوتا کیوں خال سیہ عارض گلگوں پہ ہے مائل ہندو تو کوئی مائل قرآں نہیں ہوتا جوہر نہ ہوں تو تیغ ہے فولاد کا ٹکڑا انسان فقط کہنے سے انساں ...

مزید پڑھیے

بہائے شبنم نے اشک پیہم نسیم بھرتی ہے سرد آہیں (ردیف .. ا)

بہائے شبنم نے اشک پیہم نسیم بھرتی ہے سرد آہیں نہ صوت بلبل میں ہے ترنم ہر ایک نغمے کا تار بدلا نہ رند کو لطف مے کشی ہے نہ زاہدوں کو نماز کی دھن عذاب بدلا ثواب بدلا شراب بدلی خمار بدلا چمن کی دلچسپیاں کہاں ہیں نہ چہچہے ہیں نہ قہقہے ہیں قدم جمائے ہیں کیا خزاں نے کہ آج رنگ بہار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4087 سے 4657