شاعری

دشت میں آگ لگانے کے لئے پانی ہے

دشت میں آگ لگانے کے لئے پانی ہے تو مری پیاس بڑھانے کے لئے پانی ہے مجھ کو اک عہد کی میت پہ گھڑا پھوڑنا ہے سو مرے پاس زمانے کے لئے پانی ہے تیری تصویر بنانے میں لہو سوکھ گیا تیری تصویر مٹانے کے لئے پانی ہے ہم یہ کہتے ہیں کہ انسانی بدن ہے مٹی سو اسے تاب میں لانے کے لئے پانی ہے تیری ...

مزید پڑھیے

رفتہ رفتہ آسماں اترا زمیں کے اس طرف

رفتہ رفتہ آسماں اترا زمیں کے اس طرف میں نے بویا تھا کبھی سبزہ زمیں کے اس طرف اس زمیں پر پیاس کی شدت ہوئی تھی کب عیاں کس نے سوچا تھا نہاں دریا زمیں کے اس طرف آسماں کے رنگ سارے حیرتوں کے عکس ہیں وہ ہے اک چہرہ پس پردہ زمیں کے اس طرف میرے ہونے کا گماں اس بھیڑ میں ہے مبتلا اور میں ...

مزید پڑھیے

جو چند سکوں کی چاہ میں کیں وہ ہجرتیں کیا شمار کرنا

جو چند سکوں کی چاہ میں کیں وہ ہجرتیں کیا شمار کرنا سفر میں اپنوں سے دوریوں کی اذیتیں کیا شمار کرنا جو میرے دل کی اجاڑ بستی میں ایک موسم ٹھہر گیا ہے بلا سے آئے بہار یا پھر خزاں رتیں کیا شمار کرنا جو روشنی کا نگر کبھی تھا وہ آج اندھیروں میں گم ہوا ہے اجاڑ اندھیری اداس ویراں ...

مزید پڑھیے

میں تجھ پر منکشف ہو جاؤں یہ مجھ پر گراں ہے

میں تجھ پر منکشف ہو جاؤں یہ مجھ پر گراں ہے خسارہ سا خسارہ تا بہ امکاں سب زیاں ہے یہ چشم نم کی خونابہ فشانی تھم رہے تو کھلے اشکوں کی طغیانی کا سر چشمہ کہاں ہے چراغ ایسے تہ فرش زمیں رکھے گئے تھے فلک کی مانگ میں اک جھلملاتی کہکشاں ہے تری آنکھوں سے لے کر ہے شکم تک بھوک رقصاں تو پھر ...

مزید پڑھیے

ساعت زیر و زبر کے درمیاں کوئی تو ہے

ساعت زیر و زبر کے درمیاں کوئی تو ہے سن پس ادراک پیش آسماں کوئی تو ہے میں خود اپنے باب میں رہتی ہوں محو جستجو ہم رکاب وحشت ریگ رواں کوئی تو ہے اجنبی ہیں ساری آوازیں سرائے دہر میں پھر بھی یوں لگتا ہے میرا ہم زباں کوئی تو ہے ہیں سبھی بنجر خیال و خواب کی زیبائیاں ہاں بس اتنا ہے کہ ...

مزید پڑھیے

پس یقیں کہیں ہم بھی ترے گمان میں ہیں

پس یقیں کہیں ہم بھی ترے گمان میں ہیں ترا نشاں ہیں یہ تارے جو آسمان میں ہیں حرم سرا تھا ترا دل سو چھوڑ آئے اسے وگرنہ کہنے کو اب بھی اسی مکان میں ہیں مرے نصیب کے خوش رنگ خواب اور سراب نہ اس جہان میں تھے اور نہ اس جہان میں ہیں میں اپنے واسطے ان میں سے خود ہی چن لوں گی وہ سانحے جو ...

مزید پڑھیے

ہر پل ترا خیال سرود خیال ہے

ہر پل ترا خیال سرود خیال ہے سو چشم تر بھی آئینۂ عکس یار ہے اس حیلہ جو کی یاد بھی اب رفتنی ہوئی اک ہجر رہ گیا ہے سو وہ بے شمار ہے بے خواب رت جگے کبھی اشکوں کے ہیں چراغ ہے رفتگاں کا سوگ دل بے قرار ہے ترک تعلقات کو گو مدتیں ہوئیں اب بھی دل تباہ مگر سوگوار ہے ہفت آسماں بھی لاکھ ترا ...

مزید پڑھیے

اترا جو التفات کا دریا نہ تھا کبھی

اترا جو التفات کا دریا نہ تھا کبھی دل اس قدر بھی ہجر کا مارا نہ تھا کبھی سرمایۂ حیات تھے فردا کے خواب سو لکھا بساط جاں پہ خسارا نہ تھا کبھی بکھرا وہ خاک ہو کے مری رہ گزار میں جو شخص آ کے خواب میں ملتا نہ تھا کبھی تنہائی خوف یہ شب دیجور یہ گھٹن گزرے گی ایسے قبر میں سوچا نہ تھا ...

مزید پڑھیے

عمر بھر اس کو رہی اک سرگرانی اور بس

عمر بھر اس کو رہی اک سرگرانی اور بس وہ تو کہیے تھی ہماری سخت جانی اور بس ایک مشت خاک بالآخر جو خاکستر ہوئی سو مآل زندگی ہے رائیگانی اور بس اک دیار بے اماں کی کج ادائی دم بدم اک شب ہجراں کی پیہم نوحہ خوانی اور بس ماہ و انجم حسن پرواز تخیل کے لیے رہ گزر کی دھول منزل کی نشانی اور ...

مزید پڑھیے

عذاب راتوں خزاں رتوں کی کہانی لکھوں

عذاب راتوں خزاں رتوں کی کہانی لکھوں میں تیری فرقت کی ساعتوں کو زبانی لکھوں بس ایک پاکیزہ ربط ہے روح و جاں کا تجھ سے تو پھر میں اس سارے واقعے کو گمانی لکھوں مجھے میسر ہیں سارے رشتے وہی نہیں ہے بھلا میں کس دل سے شوق کی رائیگانی لکھوں دعا سنا ہے فلک پہ جا کے اٹک گئی ہے سو تجھ کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4079 سے 4657