خدا بھی میری طرح با کمال ایسا تھا
خدا بھی میری طرح با کمال ایسا تھا تراشا اس کو جو میرے خیال ایسا تھا ہر ایک لمحہ یہی ڈر تھا کھو نہ جائے کہیں رہا وہ پاس مگر احتمال ایسا تھا تھا تتلیوں کے پروں سا لطیف اس کا بدن جو تاب لمس نہ رکھے جمال ایسا تھا پگھلتی چاندی تھا نصف النہار پر جب تھا بکھرتا سونا تھا سورج زوال ایسا ...