دھوپ ہو گئے سائے جل گئے شجر جیسے
دھوپ ہو گئے سائے جل گئے شجر جیسے جم گئی ہے دھرتی پر اب کے دوپہر جیسے زیست کے خرابے میں اک سیاہ گھر دل کا اور دل میں یاد اس کی روشنی کا در جیسے کیسے کیسے ہنگامے گھیرے رکھتے تھے دن رات لگ گئی نگاہوں کو اپنی ہی نظر جیسے یا تو آنے سے پہلے گھر کا پوچھتے احوال آ گئے تو اب کیجے ہو گزر ...