شاعری

مخملی خواب کا آنکھوں میں نہ منظر پھیلا

مخملی خواب کا آنکھوں میں نہ منظر پھیلا زہر ہی زہر مرے جسم کے اندر پھیلا سبز موسم میں بھی ہو جس کی شباہت پیلی اس چمن میں کہیں شعلے کہیں پتھر پھیلا خوفناکی اثر انداز ہوا کرتی ہے اس کو اخبار کی مانند نہ گھر گھر پھیلا ہو یہ ممکن تو مرے جسم کے اندر بھی اتر ریزہ ریزہ مجھے ہر سمت ...

مزید پڑھیے

خواب بکھریں گے تو ہم کو بھی بکھرنا ہوگا

خواب بکھریں گے تو ہم کو بھی بکھرنا ہوگا شب کی اک ایک اذیت سے گزرنا ہوگا وہ ہمارے ہی رگ و پے میں نہاں رہتا ہے اس کی تصدیق تو اک دن ہمیں کرنا ہوگا اپنے خاکستر تن کو لئے کوچہ کوچہ کیا ہواؤں کی طرح مجھ کو گزرنا ہوگا ہمیں احباب کی بے لوث رفاقت کے سبب وقت آئے گا تو بے موت بھی مرنا ...

مزید پڑھیے

گم کر دیں اک ذرا تجھے خوابوں کے شہر میں

گم کر دیں اک ذرا تجھے خوابوں کے شہر میں نکتے کچھ ایسے ڈھونڈ کتابوں کے شہر میں دیوانگی کی ایسی ملے گی کہاں مثال کانٹے خریدتا ہوں گلابوں کے شہر میں آئینے بولتے ہیں تو یہ بھی بتائیں گے کیا بے حجاب ہوں میں حجابوں کے شہر میں ناکامیوں کی آگ میں تپتی ہیں خواہشیں جلتی ہے میری روح ...

مزید پڑھیے

میری بستی میں جو سورج کبھی اترا ہوتا

میری بستی میں جو سورج کبھی اترا ہوتا میں بدن ہوتا ترا تو مرا سایہ ہوتا کس کی بے مہر ادا سے ہمیں شکوہ ہوتا ہم کسی کے نہ ہوئے کون ہمارا ہوتا جان پر کھیل کے میں راہ وفا طے کرتا اس کی جانب سے مگر کچھ تو اشارہ ہوتا دل کا احسان ہے جو بجھ گیا خود ہی ورنہ جانے میں کس کو کہاں ڈھونڈنے نکلا ...

مزید پڑھیے

قریب آ کہ خزانہ ہوں لعل و گوہر کا

قریب آ کہ خزانہ ہوں لعل و گوہر کا ہزار ریت سہی ریت ہوں سمندر کا کھلا ہے پھول بہت روز میں مقدر کا بس اب نہ بند ہو دروازہ تیرے مندر کا یہ راہے گاہے کا ملنا بھی کوئی ملنا ہے جو ہو سکے تو پتہ دیجئے کبھی گھر کا تمام شہر ہے ہنگامۂ نشاط میں گم مگر یہ کرب یہ سناٹا میرے اندر کا صدا کسی ...

مزید پڑھیے

چپ بیٹھا میں اکثر سوچتا رہتا ہوں

چپ بیٹھا میں اکثر سوچتا رہتا ہوں آخر میں کیوں اتنا تنہا تنہا ہوں پہروں جن کی جھیل میں کھویا رہتا تھا ان آنکھوں کی یاد میں ڈوبا رہتا ہوں تم جو باتیں بھول چکے ہو مدت سے میں تو ان میں اب بھی الجھا رہتا ہوں تم بدلو تو بدلو اپنی راہ مگر میں تو ایک ڈگر پر چلتا رہتا ہوں سادہ پن کچھ ...

مزید پڑھیے

یہ نرم ہاتھ مرے ہاتھ میں تھما دیجے

یہ نرم ہاتھ مرے ہاتھ میں تھما دیجے تھکا ہوا ہوں ذرا دل کو حوصلہ دیجے بس اب ملے ہیں تو کیجے نہ آس پاس کا خوف جو سنگ راہ ملے پاؤں سے ہٹا دیجے یہ اور دور ہے اور سب یہاں مجھی سے ہیں وہ کوہ کن کی حکایات اب بھلا دیجے نہیں ہے آپ کو فرصت اگر توجہ کی تو میں بھی لوٹتا ہوں گھر کو آگیا ...

مزید پڑھیے

کب لذتوں نے ذہن کا پیچھا نہیں کیا

کب لذتوں نے ذہن کا پیچھا نہیں کیا یہ میرا حوصلہ تھا کہ لب وا نہیں کیا تجدید ارتباط بھی ممکن تھی بعد میں میں نے ہی اس روش کو گوارا نہیں کیا پہلے تو اک جنون سا عرض طلب کا تھا جب وہ ملا تو دل نے تقاضا نہیں کیا سورج رہا جو دن میں مرے گھر سے دور دور پھر میں نے رات میں بھی اجالا نہیں ...

مزید پڑھیے

کیا روش رکھی ہے پھر آپ نے اوروں کے لئے

کیا روش رکھی ہے پھر آپ نے اوروں کے لئے گر یہی طرز ملاقات ہے اپنوں کے لئے رسم الفت بھی اگر آپ کے آداب میں ہے تو اٹھا رکھی ہے وہ کون سے وقتوں کے لئے جان کا روگ بنا لی جو محبت ہم نے اب وہ سنتے ہیں کہ تفریح ہے لوگوں کے لئے تیری باتیں یہ ترا حرف تسلی جیسے سامنے رکھ دے کھلونے کوئی بچوں ...

مزید پڑھیے

میری ہر سوچ میں پوشیدہ کہانی اس کی

میری ہر سوچ میں پوشیدہ کہانی اس کی سچ بتاؤں تو ہوں خود میں بھی نشانی اس کی اس کو اصرار کہ نزدیک نہ آؤں اس کے مجھ پہ کچھ ایسا فسوں ایک نہ مانی اس کی مجھ سے ملتا ہے تو یوں جیسے نہ ہو منہ میں زباں اور محفل میں کوئی دیکھے روانی اس کی گھر ترا لاکھ پرانا سہی لیکن انجمؔ دیکھ تصویر نہ ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4073 سے 4657