مخملی خواب کا آنکھوں میں نہ منظر پھیلا
مخملی خواب کا آنکھوں میں نہ منظر پھیلا زہر ہی زہر مرے جسم کے اندر پھیلا سبز موسم میں بھی ہو جس کی شباہت پیلی اس چمن میں کہیں شعلے کہیں پتھر پھیلا خوفناکی اثر انداز ہوا کرتی ہے اس کو اخبار کی مانند نہ گھر گھر پھیلا ہو یہ ممکن تو مرے جسم کے اندر بھی اتر ریزہ ریزہ مجھے ہر سمت ...