شاعری

ہمارے لہجے میں بہتر ہے انکساری ہو

ہمارے لہجے میں بہتر ہے انکساری ہو مگر زباں پہ جو بات آئے سب پہ بھاری ہو کسی کو ٹھیس نہ پہنچے یہ اپنی کوشش ہے مگر لگے جو کسی دل پہ ضرب کاری ہو رہ حیات میں شاید ہی وہ مقام آئے کہ نغمہ ہائے جنوں پر سکوت طاری ہو وفا کا ذکر اگر آئے اس کی محفل میں تو بات جو بھی ہو جیسی ہو بس ہماری ...

مزید پڑھیے

دل سے نکلی ہوئی ہر آہ کی تاثیر میں آ

دل سے نکلی ہوئی ہر آہ کی تاثیر میں آ مانگ لے رب سے مجھے اور مری تقدیر میں آ رابطہ مجھ سے دل و جاں کا اگر رکھنا ہے مجھ سے وابستہ کسی حلقۂ زنجیر میں آ میں بناتا ہوں تخیل کے قلم سے پیکر میری تحریر مرے درد کی تصویر میں آ یہ بھی ممکن ہے کثافت ہی دلوں کی دھل جائے میری آنکھوں سے جو بہتا ...

مزید پڑھیے

تخیل میں کبھی جب آپ کی تصویر ابھری ہے

تخیل میں کبھی جب آپ کی تصویر ابھری ہے تو کاغذ پر قلم کی نوک سے تحریر ہے مری قسمت کی کشتی بحر غم میں ڈوب سکتی تھی تری تقدیر سے شاید مری تقدیر ابھری ہے تری یادوں کا سورج مستقل گردش میں ہو جیسے کہیں پر دن نکل آیا کہیں تنویر ابھری ہے حنا کے پھول ہاتھوں پر سجا کے یہ کہا اس نے ہتھیلی ...

مزید پڑھیے

اپنے گھر سے تو چلا تھا میں شکایت لے کر

اپنے گھر سے تو چلا تھا میں شکایت لے کر اس کے گھر پہنچا مگر اس کی محبت لے کر ایک احساس جنوں مجھ کو لئے جاتا ہے لوٹ آئے گا نئی پھر کوئی وحشت لے کر ہجر کہتے ہیں کسے یہ مجھے معلوم نہیں کیا کروں گا میں تجھے اے شب فرقت لے کر دل میں رہتا ہے کوئی جذبۂ صادق کی طرح کوئی آئے تو دکھاوے کی ...

مزید پڑھیے

یہ دور محبت کا لہو چاٹ رہا ہے

یہ دور محبت کا لہو چاٹ رہا ہے انسان کا انسان گلا کاٹ رہا ہے دیکھو نہ ہمیں آج حقارت کہ نظر سے یارو کبھی اپنا بھی بڑا ٹھاٹ رہا ہے پہلے بھی میسر نہ تھا مزدور کو چھپر اب نام پہ دیوار کے اک ٹاٹ رہا ہے دیکھا ہے جسے آپ نے نفرت کی نظر سے نفرت کی خلیجوں کو وہی پاٹ رہا ہے حیران ہوں کیا ہو ...

مزید پڑھیے

جو کر رہے تھے زمانے سے گمرہی کا سفر

جو کر رہے تھے زمانے سے گمرہی کا سفر انہیں کے نام کیا حق نے بندگی کا سفر جہاں پہ لوگ اندھیرے سجائے بیٹھے تھے وہاں پہ آج بھی جاری ہے روشنی کا سفر ابھی ہے وقت سنبھل جاؤ اے جہاں والو کہیں تمام نہ ہو جائے آدمی کا سفر میں اپنی ذات کا حصہ جسے سمجھتا ہوں مرے خدا کی ہے بخشش وہ آگہی کا ...

مزید پڑھیے

اس کے آگے پیار کے جذبوں کی آرائش نہ کر

اس کے آگے پیار کے جذبوں کی آرائش نہ کر زرد ریگستان میں پھولوں کی افزائش نہ کر یہ تو ہو سکتا ہے کہ دونوں کی منزل ایک ہو پھر بھی اس کے ہم سفر ہونے کی فرمائش نہ کر منحصر اس پر بھی ہے وہ پاس آئے یا نہ آئے اے مرے دل قربتوں کی مجھ سے فرمائش نہ کر ہم نے مانا چاند سا روشن ترا محبوب ہے تو ...

مزید پڑھیے

بڑے سکون سے خود اپنے ہم سروں میں رہے

بڑے سکون سے خود اپنے ہم سروں میں رہے جب آئنہ صفت انسان پتھروں میں رہے بھلا وہ کیسے جرائم کے ہاتھ کاٹیں گے جو سہمے سمٹے سے خود اپنے بستروں میں رہے نفس نفس تھا بکھرنے کا سلسلہ جاری برائے نام ہی محفوظ ہم گھروں میں رہے ہماری نکتہ رسی اس قدر گراں گزری کہ بن کے خار ہمیشہ نظر وروں میں ...

مزید پڑھیے

احساس کی رگوں میں اترنے لگا ہے وہ

احساس کی رگوں میں اترنے لگا ہے وہ اب بوند بوند مجھ میں بکھرنے لگا ہے وہ گمنامیوں کی اندھی گپھائیں ہوں نوحہ خواں مانند آفتاب ابھرنے لگا ہے وہ کیسے کہوں کہ غم ہوا خوابوں کی بھیڑ میں زخموں کا اندمال تو کرنے لگا ہے وہ اک حرف آتشیں بھی نہیں اس کے ہونٹ پر لگتا ہے لحظہ لحظہ ٹھٹھرنے ...

مزید پڑھیے

محفوظ رہے گا کیا احساس کا آئینہ

محفوظ رہے گا کیا احساس کا آئینہ پتھر کے مقابل ہے الماس کا آئینہ اب چہرۂ ماضی بھی پہچانا نہیں جاتا یوں ٹوٹ کے بکھرا ہے اتہاس کا آئینہ مفہوم تو مبنی ہے قاری کی بصیرت پر الفاظ سے روشن ہے قرطاس کا آئینہ اس عہد میں رشتوں کی بے رنگ دکانوں میں ہیرے سے بھی مہنگا ہے وشواس کا آئینہ اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4072 سے 4657