ہزار حادثات غم رواں دواں لیے ہوئے
ہزار حادثات غم رواں دواں لیے ہوئے کہاں چلی ہے زندگی کشاں کشاں لیے ہوئے مرے نصیب کی یہ ظلمتیں نہ مٹ سکیں کبھی کوئی گزر گیا ہزار کہکشاں لیے ہوئے یہ زندگی بدلتے موسموں کا رنگ روپ ہے کبھی بہار کا سماں کبھی خزاں لیے ہوئے مرا یہ کرب ہے کہ میرا کارواں گزر گیا سمٹ کے رہ گیا ہوں گرد ...