شاعری

ہزار حادثات غم رواں دواں لیے ہوئے

ہزار حادثات غم رواں دواں لیے ہوئے کہاں چلی ہے زندگی کشاں کشاں لیے ہوئے مرے نصیب کی یہ ظلمتیں نہ مٹ سکیں کبھی کوئی گزر گیا ہزار کہکشاں لیے ہوئے یہ زندگی بدلتے موسموں کا رنگ روپ ہے کبھی بہار کا سماں کبھی خزاں لیے ہوئے مرا یہ کرب ہے کہ میرا کارواں گزر گیا سمٹ کے رہ گیا ہوں گرد ...

مزید پڑھیے

غم ماضی غم حاضر غم فردا کے سوا

غم ماضی غم حاضر غم فردا کے سوا زندگی کچھ بھی نہیں خون تمنا کے سوا دیکھتے دیکھتے ہی ناؤ کہاں ڈوب گئی کس کو معلوم ہے طغیانیٔ دریا کے سوا ان سے روداد ستم کہئے تو کیوں کر کہئے جن کو کچھ یاد نہیں شکوۂ بے جا کے سوا میرے اس حال پریشاں کی خبر کس کو نہیں سب پہ ظاہر ہے حقیقت یہ مسیحا کے ...

مزید پڑھیے

دل مضطر سے نالاں ہیں ادھر وہ بھی ادھر ہم بھی

دل مضطر سے نالاں ہیں ادھر وہ بھی ادھر ہم بھی محبت میں پریشاں ہیں ادھر وہ بھی ادھر ہم بھی کسے فرصت ہے ماضی کی پرانی داستاں چھیڑے غم حاضر میں غلطاں ہیں ادھر وہ بھی ادھر ہم بھی بظاہر کوئی حیرانی نہیں ترک محبت پر مگر دل میں پشیماں ہیں ادھر وہ بھی ادھر ہم بھی خزاں کے جور پیہم کی ...

مزید پڑھیے

مستیٔ بادۂ گلفام سے وابستہ رہی

مستیٔ بادۂ گلفام سے وابستہ رہی زندگی رقص مے و جام سے وابستہ رہی لوگ کہتے ہیں کہ کچھ اس میں مرا ذکر بھی تھا وہ حکایت جو ترے نام سے وابستہ رہی دل جو گھبرایا تو مے خانے میں ہم جا بیٹھے ہر خلش بادۂ گلفام سے وابستہ رہی اس کی مجبورئ پیہم پہ ذرا غور کریں جو تمنا دل ناکام سے وابستہ ...

مزید پڑھیے

کون سا وہ زخم دل تھا جو تر و تازہ نہ تھا

کون سا وہ زخم دل تھا جو تر و تازہ نہ تھا زندگی میں اتنے غم تھے جن کا اندازہ نہ تھا ہم نکل سکتے بھی تو کیوں کر حصار ذات سے صرف دیواریں ہی دیواریں تھیں دروازہ نہ تھا اس کی آنکھوں سے نمایاں تھی محبت کی چمک اس کے چہرے پر نئی تہذیب کا غازہ نہ تھا اتنی شدت سے کبھی آیا نہ تھا اس کا ...

مزید پڑھیے

ان سے اظہار شکایات کروں یا نہ کروں

ان سے اظہار شکایات کروں یا نہ کروں لب پہ لرزاں سی ہے اک بات کروں یا نہ کروں کھینچ لائے نہ کہیں پھر یہ محبت کی کشش جرأت‌ ترک ملاقات کروں یا نہ کروں میری خاموشیٔ پیہم کا انہیں شکوہ ہے ذکر بے دردیٔ حالات کروں یا نہ کروں ہے غم حال میں انسان پریشاں خاطر فکر فردا کی کوئی بات کروں یا ...

مزید پڑھیے

اک لفظ آ گیا تھا جو میری زبان پر

اک لفظ آ گیا تھا جو میری زبان پر چھایا رہا نہ جانے وہ کس کس کے دھیان پر مجھ کو تلاش کرتے ہو اوروں کے درمیاں حیران ہو رہا ہوں تمہارے گمان پر محفل میں دوستوں کی وہی نغمہ بن گیا شب خون کا جو شور تھا میرے مکان پر بے شک زمیں ہنوز ہے اپنے مدار میں لیکن دماغ اس کا تو ہے آسمان پر شاید ...

مزید پڑھیے

زمانہ کچھ بھی کہے تیری آرزو کر لوں

زمانہ کچھ بھی کہے تیری آرزو کر لوں شب سیاہ میں سورج کی جستجو کر لوں مرے خدا مجھے توفیق سرکشی دیدے خزاں ہے سامنے کچھ ذکر رنگ و بو کر لوں اگر ہو مجھ کو میسر کہیں سے کوئی کرن تو شب دریدہ ہے جو کچھ اسے رفو کر لوں جو آنکھ کھول دوں سن کر ضمیر کی دستک تو خود کو اپنی نظر میں میں سرخ رو کر ...

مزید پڑھیے

سمندر سے کسی لمحے بھی طغیانی نہیں جاتی

سمندر سے کسی لمحے بھی طغیانی نہیں جاتی مگر ساحل کو غم ہے خشک دامانی نہیں جاتی غنیمت ہے مری آنکھوں کی یہ سیال آتش بھی اسی سے میرے ذہن و دل کی تابانی نہیں جاتی سوا نیزے پہ سورج دیر تک رکنے نہیں پاتا مگر کیا ہے کہ تیری شعلہ افشانی نہیں جاتی صدائے خامشی دیتی ہے اب دستک در دل پر نہ ...

مزید پڑھیے

اے دل ترے طفیل جو مجھ پر ستم ہوئے

اے دل ترے طفیل جو مجھ پر ستم ہوئے پوچھے جو مجھ سے کوئی تو کہہ دوں کہ کم ہوئے میرے چراغ ذہن کو وہ گل نہ کر سکے حالانکہ سب اندھیرے مرے دل میں ضم ہوئے حرف غضب سے بھی ہمیں محروم کر دیا یوں بے نیاز ہم سے ہمارے صنم ہوئے ان کی زمین دل کا تو قصہ ہی اور ہے ورنہ ان آنسوؤں سے تو صحرا بھی نم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4015 سے 4657