شاعری

بندھا ہے عہد جنوں چشم اعتبار کے ساتھ

بندھا ہے عہد جنوں چشم اعتبار کے ساتھ اسے کہو کہ جئے عزم استوار کے ساتھ نہ ہو سکی کبھی توفیق درگزر کی اسے نہ چل سکے کبھی ہم خود بھی اقتدار کے ساتھ فقیہ شہر سے کہنا کہ دل کشادہ رکھے ملا ہے منصب اعلیٰ جو اختیار کے ساتھ نشان‌ ناقۂ لیلےٰ پہنچ سے دور نہیں کبھی چلو تو سہی دو قدم غبار ...

مزید پڑھیے

غم کی گرمی سے دل پگھلتے رہے

غم کی گرمی سے دل پگھلتے رہے تجربے آنسوؤں میں ڈھلتے رہے ایک لمحے کو تم ملے تھے مگر عمر بھر دل کو ہم مسلتے رہے صبح کے ڈر سے آنکھ لگ نہ سکی رات بھر کروٹیں بدلتے رہے زہر تھا زندگی کے کوزے میں جانتے تھے مگر نگلتے رہے دل رہا سر خوشی سے بیگانہ گرچہ ارماں بہت نکلتے رہے اپنا عزم سفر نہ ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں کہیں اس کے بھی طوفاں تو نہیں تھا

آنکھوں میں کہیں اس کے بھی طوفاں تو نہیں تھا وہ مجھ سے جدا ہو کے پشیماں تو نہیں تھا کیوں مجھ سے نہ کی اس نے سر بزم کوئی بات میں سنگ ملامت سے گریزاں تو نہیں تھا ہاں حرف تسلی کے لیے تھا میں پریشاں پہلو میں مرے دل تھا کہستاں تو نہیں تھا کیوں راستہ دیکھا کیا اس کا میں سر شام بے درد کا ...

مزید پڑھیے

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا زہر وفا ہے گھر کی فضا میں گھلا ہوا خود اس کے پاس جاؤں نہ اس کو بلاؤں پاس پایا ہے وہ مزاج کہ جینا بلا ہوا اس پر غلط ہے عشق میں الزام دشمنی قاتل ہے میرے حجلۂ‌‌ جاں میں چھپا ہوا ہیں جسم و جاں بہم یہ مگر کس کو ہے خبر کس کس جگہ سے دامن دل ہے سلا ہوا ہے ...

مزید پڑھیے

پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑ

پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑ مطربہ طرز عاشقانہ چھیڑ ساز دل سے اٹھا تھا جو اک بار پھر وہی راگ والہانہ چھیڑ گھر ہے تاریک یورش غم سے آج اک آتشیں ترانہ چھیڑ پھر جہاں دل کشی سے ہے محروم زلف ہستی کو مثل شانہ چھیڑ بزم خوف فنا سے ہے بے دم کچھ بہ انداز جاودانہ چھیڑ آج ہر شے سے بد گماں ہیں ...

مزید پڑھیے

سنگ در اس کا ہر اک در پہ لگا ملتا ہے

سنگ در اس کا ہر اک در پہ لگا ملتا ہے دل کو آوارہ مزاجی کا مزا ملتا ہے جو بھی گل ہے وہ کسی پیرہن گل پر ہے جو بھی کانٹا ہے کسی دل میں چبھا ملتا ہے شوق وہ دام کہ جو رخصت پرواز نہ دے دل وہ طائر کہ اسے یوں بھی مزا ملتا ہے وہ جو بیٹھے ہیں بنے ناصح مشفق سر پر کوئی پوچھے تو بھلا آپ کو کیا ...

مزید پڑھیے

دل خوں ہے دل کا حال رقم ہو تو کس طرح

دل خوں ہے دل کا حال رقم ہو تو کس طرح دل سے قلم کا فاصلہ کم ہو تو کس طرح دل ہے کہیں دماغ کہیں اور ہم کہیں شیرازۂ حیات بہم ہو تو کس طرح کیوں کہیں کہ درد نہیں حاصل حیات پیش نظر جو ہے وہ عدم ہو تو کس طرح دل سے زباں زباں سے چھنی طاقت سخن مائل ادھر مزاج صنم ہو تو کس طرح دل کش بہت ہے ترک ...

مزید پڑھیے

وہ جو اب دل کی رہ گزر میں نہیں

وہ جو اب دل کی رہ گزر میں نہیں وقت کہتا ہے میں سفر میں نہیں میری دیوانگی بھی ختم ہوئی تیرے جلوے بھی اب نظر میں نہیں کیا غم یار کیا خیال بہار آج سودا بھی کوئی سر میں نہیں ہم سا کیا ہوگا کوئی بے ساماں ہائے نام خدا بھی گھر میں نہیں وجہ رسوائی ہے یہاں ہر بات عیب میں کیا ہے جو ہنر ...

مزید پڑھیے

وقت کا جھونکا جو سب پتے اڑا کر لے گیا

وقت کا جھونکا جو سب پتے اڑا کر لے گیا کیوں نہ مجھ کو بھی ترے در سے اٹھا کر لے گیا رات اپنے چاہنے والوں پہ تھا وہ مہرباں میں نہ جاتا تھا مگر وہ مجھ کو آ کر لے گیا ایک سیل بے اماں جو عاصیوں کو تھا سزا نیک لوگوں کے گھروں کو بھی بہا کر لے گیا میں نے دروازہ نہ رکھا تھا کہ ڈرتا تھا ...

مزید پڑھیے

گلشن کا ثنا خواں ہوں بیاباں میں پڑا ہوں

گلشن کا ثنا خواں ہوں بیاباں میں پڑا ہوں طائر ہوں مگر گوشۂ زنداں میں پڑا ہوں ہوں منتظر قافلۂ مصر تمنا یوسف ہوں ابھی چاہ بیاباں میں پڑا ہوں ملتا نہیں بازار سے پیراہن یوسف یعقوب ہوں تاریکئ کنعاں میں پڑا ہوں آنکھوں پہ ہے اک منظر کم دیدہ کا پردہ میں کب سے تری یاد کے زنداں میں پڑا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4011 سے 4657