شاعری

زخم دل بھی دکھا کے دیکھ لیا

زخم دل بھی دکھا کے دیکھ لیا بس تمہیں آزما کے دیکھ لیا داغ دل سے بھی روشنی نہ ملی یہ دیا بھی جلا کے دیکھ لیا شکوہ مٹتے ہیں کیوں کر آپ سے آپ سامنے ان کے جا کے دیکھ لیا مژدہ اے حسرت دل پر شوق اس نے پھر مسکرا کے دیکھ لیا آبرو اور بھی ہوئی پانی اشک حسرت بہا کے دیکھ لیا ترک الفت کے سن ...

مزید پڑھیے

پہلا سا وہ جنون محبت نہیں رہا (ردیف .. م)

پہلا سا وہ جنون محبت نہیں رہا کچھ کچھ سنبھل گئے ہیں تمہاری دعا سے ہم یوں مطمئن سے آئے ہیں کھا کر جگر پہ چوٹ جیسے وہاں گئے تھے اسی مدعا سے ہم آنے دو التفات میں کچھ اور بھی کمی مانوس ہو رہے ہیں تمہاری جفا سے ہم خوئے وفا ملی دل درد آشنا ملا کیا رہ گیا ہے اور جو مانگیں خدا سے ...

مزید پڑھیے

یقین محکم کا ہے سہارا یہی عمل کارگر ہے پیارے

یقین محکم کا ہے سہارا یہی عمل کارگر ہے پیارے علاج درج نہاں یہی ہے اسی دوا میں اثر ہے پیارے تری نگاہوں میں ہیں سمائے جمال ہستی جلال معنی نہ دیکھ تو اور کی نظر سے تری نظر معتبر ہے پیارے نہیں تری راہ راہ مشکل ہے رہبر راہ خود ترا دل ترے قدم میں ہے تیری منزل طویل بے شک سفر ہے ...

مزید پڑھیے

بگڑی ہوئی قسمت کو بدلتے نہیں دیکھا

بگڑی ہوئی قسمت کو بدلتے نہیں دیکھا آ جائے جو سر پر اسے ٹلتے نہیں دیکھا کیوں لوگ ہوا باندھتے ہیں ہمت دل کی ہم نے تو اسے گر کے سنبھلتے نہیں دیکھا ہم جور بھی سہہ لیں گے مگر ڈر ہے تو یہ ہے ظالم کو کبھی پھولتے پھلتے نہیں دیکھا احباب کی یہ شان حریفانہ سلامت دشمن کو بھی یوں زہر اگلتے ...

مزید پڑھیے

لطف ہی لطف ہے جو کچھ ہے عنایت کے سوا

لطف ہی لطف ہے جو کچھ ہے عنایت کے سوا ہے محبت سے سوا جو ہے محبت کے سوا دوستوں کے کرم خاص سے بچنے کے لئے کوئی گوشہ نہ ملا گوشۂ عزلت کے سوا مجھ سے شکوہ بھی جو کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کچھ بھی آتا نہیں کیا تجھ کو شکایت کے سوا آپ کے خط کو میں کس بات کا خمار کہوں اس میں سب کچھ ہے بس اک حرف ...

مزید پڑھیے

مائل ضبط بھی آمادۂ فریاد بھی ہے

مائل ضبط بھی آمادۂ فریاد بھی ہے دل گرفتار محبت بھی ہے آزاد بھی ہے داستان دل مایوس نہ پوچھ اے ہمدم یہ وہ بستی ہے جو آباد بھی برباد بھی ہے اے مرے ضبط کو کامل نہ سمجھنے والے قابل داد مری کوشش فریاد بھی ہے اڑ کے جاؤں بھی تو کیا اور نہ جاؤں بھی تو کیا منتظر برق بھی ہے تاک میں صیاد بھی ...

مزید پڑھیے

محبت سوز بھی ہے ساز بھی ہے

محبت سوز بھی ہے ساز بھی ہے خموشی بھی ہے یہ آواز بھی ہے نشیمن کے لیے بیتاب طائر وہاں پابندیٔ پرواز بھی ہے خموشی پر بھروسا کرنے والے خموشی درد کی غماز بھی ہے ہے معراج خرد بھی عرش اعظم جنوں کا فرش پا انداز بھی ہے دل بیگانہ خود دنیا میں تیرا کوئی ہم دم کوئی ہم راز بھی ہے کبھی ...

مزید پڑھیے

طرب کے مخمصے غم کے جھمیلے

طرب کے مخمصے غم کے جھمیلے دل ناداں نے لاکھوں کھیل کھیلے گئے اک ایک کر کے ہم سفر سب ہمیں زندہ ہیں مرنے کو اکیلے غم دوراں سے اتنی بار ہارے غم جاناں سے جتنی بار کھیلے دل آخر تاب لاتا بھی تو کب تک قیامت تھے تمناؤں کے ریلے یہ دنیا ختم ہو جائے گی آخر نہ ہوں گے ختم دنیا کے جھمیلے نہ ...

مزید پڑھیے

آگ ہی آگ ہے گلشن یہ کوئی کیا جانے

آگ ہی آگ ہے گلشن یہ کوئی کیا جانے کس نے پھونکا ہے نشیمن یہ کوئی کیا جانے نہ کہیں سوزن و رشتہ نہ کہیں بخیہ گری سر بسر چاک ہے دامن یہ کوئی کیا جانے دیکھتے پھرتے ہیں لوگ آئینے سیاروں کے دل کا گوشہ بھی ہے درپن یہ کوئی کیا جانے حسن ہر حال میں ہے حسن پراگندہ نقاب کوئی پردہ ہے نہ چلمن ...

مزید پڑھیے

اے یاس مرا گھر ترا مسکن تو نہیں ہے

اے یاس مرا گھر ترا مسکن تو نہیں ہے دل ہے یہ تمناؤں کا مدفن تو نہیں ہے کیا بات ہے گلزار ہے کیوں برق سے محفوظ بے برگ مری شاخ نشیمن تو نہیں ہے ہاں دیدۂ تحقیق سے اے ذوق سفر دیکھ رہبر جسے سمجھا ہے وہ رہزن تو نہیں ہے تکلیف اسیری کی شکایت نہ کر اے دل یہ کنج قفس کنج نشیمن تو نہیں ہے آؤ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3998 سے 4657