زخم دل بھی دکھا کے دیکھ لیا
زخم دل بھی دکھا کے دیکھ لیا بس تمہیں آزما کے دیکھ لیا داغ دل سے بھی روشنی نہ ملی یہ دیا بھی جلا کے دیکھ لیا شکوہ مٹتے ہیں کیوں کر آپ سے آپ سامنے ان کے جا کے دیکھ لیا مژدہ اے حسرت دل پر شوق اس نے پھر مسکرا کے دیکھ لیا آبرو اور بھی ہوئی پانی اشک حسرت بہا کے دیکھ لیا ترک الفت کے سن ...