شاعری

جھپکی ذرا جو آنکھ جوانی گزر گئی

جھپکی ذرا جو آنکھ جوانی گزر گئی بدلی کی چھاؤں تھی ادھر آئی ادھر گئی مشاطۂ بہار عجب گل کتر گئی منہ بند جو کلی تھی کھلی اور سنور گئی پیش جمال یار کرن آفتاب کی شرما کے چاہتی تھی کہ پلٹے بکھر گئی مل کے بھبھوت چہرے پہ تاروں کی چھاؤں کا دھونی رمائے در پہ یہ کس کے سحر گئی کیا جانے ...

مزید پڑھیے

تقدیر ہو خراب تو تدبیر کیا کرے

تقدیر ہو خراب تو تدبیر کیا کرے ہاتھوں میں دم اگر نہیں شمشیر کیا کرے مجھ کو اندھیروں میں ہی بھٹکنا ہے عمر بھر جب آنکھ ہی نہیں ہے تو تنویر کیا کرے آزاد ہو گیا ہے وہ دنیا کی قید سے اس کا بلاوا آیا تو زنجیر کیا کرے دولت ہے میرے ہاتھ میں دل کو سکوں نہیں چین اور قرار کے لئے جاگیر کیا ...

مزید پڑھیے

دل کی بازی لگا کے دیکھ لیا

دل کی بازی لگا کے دیکھ لیا زندگی کو لٹا کے دیکھ لیا بے وفائی کا درد کیسا ہے ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا راہ آساں نہیں ہے الفت کی پاؤں ہم نے بڑھا کے دیکھ لیا ہے کسک کتنی دل لگانے میں دل کی دنیا بسا کے دیکھ لیا کیا حقیقت ہے زندگی کی ارونؔ ناز ان کے اٹھا کے دیکھ لیا

مزید پڑھیے

آنکھ ان سے مری ملی تھی کبھی

آنکھ ان سے مری ملی تھی کبھی دل میں اک آگ سی لگی تھی کبھی یاد ہے رات وہ حسیں اپنی آنکھوں آنکھوں میں جو ڈھلی تھی کبھی بارہا میرا آنا جانا تھا یہ مرے یار کی گلی تھی کبھی دل کے اس باغ میں گلاب کی وہ ایک تازہ کلی کھلی تھی کبھی اس کو اک دن تو گر ہی جانا تھا کچی دیوار جو بنی تھی ...

مزید پڑھیے

چوٹ دل پر لگے اور آہ زباں سے نکلے

چوٹ دل پر لگے اور آہ زباں سے نکلے درد اٹھے ہے کہاں اور کہاں سے نکلے پیار ہے اس کو اگر مجھ سے تو انجام یہ ہو گھر جلے میرا دھواں اس کے مکاں سے نکلے سی لیا ہم نے تو الفت میں لبوں کو اپنے اب کسی درد کی آواز کہاں سے نکلے مجھ کو مرنے کا نہیں خوف تمنا یہ ہے روح محبوب کی بانہوں میں یہاں سے ...

مزید پڑھیے

جو بجھ گئے تھے چراغ پھر سے جلا رہا ہے

جو بجھ گئے تھے چراغ پھر سے جلا رہا ہے یہ کون دل کے کواڑ پھر کھٹکھٹا رہا ہے مہیب قحط الرجال میں بھی خیال تیرا نئے مناظر نئے شگوفے کھلا رہا ہے وہ گیت جس میں تری کہانی سمٹ گئی تھی اسے نئی طرز میں کوئی گنگنا رہا ہے میں وسعتوں سے بچھڑ کے تنہا نہ جی سکوں گا مجھے نہ روکو مجھے سمندر بلا ...

مزید پڑھیے

یہاں تو روز نیا اک کمال ہوتا ہے

یہاں تو روز نیا اک کمال ہوتا ہے جواب جس کا نہیں وہ سوال ہوتا ہے کچھ اپنے آپ میں خوش ہیں کچھ اپنے آپ میں گم ملال یہ ہے کہ ہم کو ملال ہوتا ہے تمہاری بات سے سب متفق ہوں نا ممکن ہر ایک شخص کا اپنا خیال ہوتا ہے امیر شہر کو اب تک یہی ہے خوش فہمی غریب شہر کا ماضی نہ حال ہوتا ہے اثر ...

مزید پڑھیے

ہم اپنے آپ پہ قابو جو پا گئے ہوتے

ہم اپنے آپ پہ قابو جو پا گئے ہوتے جو پل رہی ہے وہ نفرت مٹا گئے ہوتے بڑے سلیقے سے بانٹا ہے ہم فقیہوں کو ہم ایک ہوتے تو دنیا پہ چھا گئے ہوتے یہ بھوک پیاس ہمارے گھروں کی رونق تھی جو یاد رکھتے تو ہم گھر میں آ گئے ہوتے کسی کی تلخ کلامی معاف کر دیتے لگی ہے آگ جو گھر میں بجھا گئے ...

مزید پڑھیے

کوئی چہرہ نگاہوں میں نہیں ہے

کوئی چہرہ نگاہوں میں نہیں ہے کہوں کیسے وہ آہوں میں نہیں ہے مری قسمت میں یہ کیسا سفر ہے کوئی سایہ بھی راہوں میں نہیں ہے اگر کردار اب تک ہے سلامت کشش کیوں خانقاہوں میں نہیں ہے غریبوں کو سر آنکھوں پہ بٹھائیں یہ جذبہ عالی جاہوں میں نہیں ہے اثرؔ تم بات جس کی کر رہے ہو تمہارے خیر ...

مزید پڑھیے

بزرگوں نے جو تہذیبی اثاثہ گھر پہ رکھا ہے

بزرگوں نے جو تہذیبی اثاثہ گھر پہ رکھا ہے لگایا ہے اسے آنکھوں سے میں نے سر پہ رکھا ہے یہاں کا عہدہ‌ و منصب تو مال و زر پہ رکھا ہے مگر انصاف ہم نے عرصۂ محشر پہ رکھا ہے تمہارے راستے میں تیرگی مائل نہیں ہوگی چلے آؤ دیا ہم نے جلا کے در پہ رکھا ہے مجھے احساس تنہائی نہیں مانا کہ تنہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3990 سے 4657