شاعری

اشک گل رنگ نثار غم جانانہ کریں

اشک گل رنگ نثار غم جانانہ کریں آج تیری ہی خوشی اے دل دیوانہ کریں درد مندوں سے یہ کہہ دو کہ با آئین نیاز دل کو ذوق کرم یار سے بیگانہ کریں تاکہ آسودۂ حرماں دل غم کوش نہ ہو دو گھڑی ذکر مے و ساقی و پیمانہ کریں بوئے خوش تیری نہیں جن کے مشام جاں میں رنگ و نکہت کا گلوں کو وہی پیمانہ ...

مزید پڑھیے

آخر کار یہی عذر جفا کا نکلا

آخر کار یہی عذر جفا کا نکلا جرم اور جرم بھی اک عمر وفا کا نکلا اوس میں ڈوب کے جس طرح نکھرتا ہے گلاب شرم سے اور سوا حسن ادا کا نکلا کیا کری ہے کہ جب در پہ ترے آ بیٹھا آستیں سے نہ کبھی ہاتھ گدا کا نکلا جو دعا مانگی ہے اوروں ہی کی خاطر مانگی حوصلہ آج مرے دست دعا کا نکلا شوق منزل ہی ...

مزید پڑھیے

تسکین دل کو اشک الم کیا بہاؤں میں

تسکین دل کو اشک الم کیا بہاؤں میں جو آگ خود لگائی ہے کیوں کر بجھاؤں میں برباد کر چکے وہ میں برباد ہو چکا اب کیا رہا ہے روؤں اور ان کو رلاؤں میں لاچک، نسیم صبح، پیام وصال دوست کب تک مثال شمع رگ جاں جلاؤں میں اے عشق کیا یہی ہے مکافات آرزو اپنی ہی خاک ہاتھ سے اپنے اڑاؤں میں رویا ...

مزید پڑھیے

مجھ کو ہر پھول سناتا تھا فسانہ تیرا (ردیف .. م)

مجھ کو ہر پھول سناتا تھا فسانہ تیرا تیرے دامن کی قسم اپنے گریباں کی قسم گونجتا رہتا تھا اک نغمہ مرے کانوں میں تپش آہنگیٔ مضراب رگ جاں کی قسم التفات نگہ ناز کا سودا تھا کبھی ختم وہ دور ہوا گردش دوراں کی قسم اب نہ وہ دل ہے نہ وہ ولولۂ عرض نیاز ہاتھ سے چھوٹے ہوئے گوشۂ داماں کی ...

مزید پڑھیے

عشق کی گرمئ بازار کہاں سے لاؤں

عشق کی گرمئ بازار کہاں سے لاؤں یوسف دل کا خریدار کہاں سے لاؤں سنتے ہی نغموں کی اک لہر رگوں میں دوڑے میں تری شوخئ گفتار کہاں سے لاؤں وہی شوریدہ سری ہے وہی ایذا طلبی عشق میں جادۂ ہموار کہاں سے لاؤں ہو گئیں آنکھوں سے وہ مست نگاہیں اوجھل عشرت خانۂ خمار کہاں سے لاؤں دل کی دھڑکن ...

مزید پڑھیے

کس طرح کھلتے ہیں نغموں کے چمن سمجھا تھا میں

کس طرح کھلتے ہیں نغموں کے چمن سمجھا تھا میں ساز ہستی پر تجھے جب زخمہ زن سمجھا تھا میں کیا خبر تھی ہم نوا ہو جائیں گے صیاد کے باغ کا اپنے جنہیں سرو و سمن سمجھا تھا میں قیدیٔ بے خانماں زنداں سے چھوٹے بھی اگر اور کچھ بڑھ جائیں گے رنج و محن سمجھا تھا میں تابع گردش ہیں کس کے انقلابات ...

مزید پڑھیے

آہ سے جب دل میں ڈوبے تیر ابھارے جائیں گے

آہ سے جب دل میں ڈوبے تیر ابھارے جائیں گے دیکھ لینا دور تک اڑ کر شرارے جائیں گے موج طوفاں کو جنہوں نے چیرنا سیکھا نہیں اس کنارے سے بھلا کیا اس کنارے جائیں گے اتنی ہی رنگین ہوتی جائے گی اپنی نظر جس قدر تیرے تصور کو سنوارے جائیں گے کچھ نہ کچھ ہو ہی رہے گا درد مندی کا مآل جان کے ...

مزید پڑھیے

نگہ شوق کو یوں آئنہ سامانی دے

نگہ شوق کو یوں آئنہ سامانی دے عشق کو حسن بنا حسن کو حیرانی دے دل نوازی میں بھی ایذا ہے محبت کی قسم تجھ کو فرصت جو کبھی شغل ستم رانی دے کچھ تری چشم سخن ساز کا ایما نہ کھلا لب مے نوش کو تکلیف گل افشانی دے پھول وہ ہے جو میسر چڑھے یہ سنتا تھا اب کھلا دل کی رہ عشق میں قربانی دے آئنہ ...

مزید پڑھیے

نوید وصل یار آئے نہ آئے

نوید وصل یار آئے نہ آئے برابر ہے بہار آئے نہ آئے تجھے کرنا ہے جو کچھ آج کر لے کہ پھر یہ روزگار آئے نہ آئے کئے جا درد دل اے نامرادی کسی کو اعتبار آئے نہ آئے کوئی پرساں نہ ہو جب حال بد کا تمنا سوگوار آئے نہ آئے جو وہ بالفرض ہو پرسش پہ مائل دل بسمل قرار آئے نہ آئے ستم سے جب تلافی ...

مزید پڑھیے

صحرا سے چلے ہیں سوئے گلشن

صحرا سے چلے ہیں سوئے گلشن خونیں جگران چاک دامن پیغام بہار دے رہی ہے داغوں کی جھلک دلوں کی الجھن رقصاں ہے نسیم برگ گل پر شبنم میں ہے گھنگھروؤں کی چھن چھن غنچوں کے بدن میں سنسنی ہے مستی میں چھوا صبا نے دامن دل کش نہ ہو کیوں کلام اثرؔ کا سیکھا ہے یہ اس نے میرؔ سے فن

مزید پڑھیے
صفحہ 3989 سے 4657