اشک گل رنگ نثار غم جانانہ کریں
اشک گل رنگ نثار غم جانانہ کریں آج تیری ہی خوشی اے دل دیوانہ کریں درد مندوں سے یہ کہہ دو کہ با آئین نیاز دل کو ذوق کرم یار سے بیگانہ کریں تاکہ آسودۂ حرماں دل غم کوش نہ ہو دو گھڑی ذکر مے و ساقی و پیمانہ کریں بوئے خوش تیری نہیں جن کے مشام جاں میں رنگ و نکہت کا گلوں کو وہی پیمانہ ...