شاعری

نفرتیں دل سے مٹاؤ تو کوئی بات بنے

نفرتیں دل سے مٹاؤ تو کوئی بات بنے پیار کی شمعیں جلاؤ تو کوئی بات بنے آج انسان خدا خود کو سمجھ بیٹھا ہے اس کو انسان بناؤ تو کوئی بات بنے تیرگی بڑھنے لگی اپنی حدوں سے آگے مشعلیں دن میں جلاؤ تو کوئی بات بنے میکدے میں نظر آتے ہیں سبھی جام بدست مجھ کو آنکھوں سے پلاؤ تو کوئی بات ...

مزید پڑھیے

گلستان زندگی میں زندگی پیدا کرو

گلستان زندگی میں زندگی پیدا کرو مسکرا کر روح میں کچھ تازگی پیدا کرو مردنی چہرے بنا کر فائدہ جینے سے کیا کم سے کم اس زندگی میں زندگی پیدا کرو توڑ دو بڑھ کر اندھیری رات کے شڑینتر کو کچھ نہیں تو آرزوئے روشنی پیدا کرو وقت کے بے رحم ہاتھوں نے کچل ڈالا جنہیں ان خزاں دیدہ گلوں میں ...

مزید پڑھیے

درد کیسا بھی ہو کیا ہوتا ہے

درد کیسا بھی ہو کیا ہوتا ہے دل تو یہ مر کے بھی اب زندہ ہے ہے اگر دھوپ تو اب دھوپ سہی سر پہ میرے کوئی تو سایہ ہے کس نے پھر قتل کیا سورج کو ہے فضا نم تو یہ دن کالا ہے خود سے ملنے کو بھی تو وقت نہیں کون آئینوں سے اب ملتا ہے نوچ لی اس نے پھر آنکھیں اپنی زیست پر اس نے لکھا صحرا ہے

مزید پڑھیے

موت سے کب نجات ہے پیارے

موت سے کب نجات ہے پیارے زندگی کو یہ مات ہے پیارے جس نے سمجھا وہ میر ہو گیا ہے آئنہ کائنات ہے پیارے روز چہرے بدل کے خوش ہے تو یہ تو خود سے ہی گھات ہے پیارے تو جنہیں شورویر سمجھے ہے بزدلوں کی یہ ذات ہے پیارے اتنا آساں نہیں غزل کہنا میرؔ غالبؔ کی ذات ہے پیارے تیرا کردار آئنہ ہو ...

مزید پڑھیے

عشق کی انتہا نے لوٹ لیا

عشق کی انتہا نے لوٹ لیا کبھی حسن وفا نے لوٹ لیا کل تلک رہزنوں نے لوٹا ہمیں آج اک آشنا نے لوٹ لیا جو بدل دے مقدروں کا لکھا وقت کی اس ادا نے لوٹ لیا کبھی لوٹا جمال نے تیرے کبھی تیری وفا نے لوٹ لیا بچ گیا وقت کی عداوت سے تو مجھے نا خدا نے لوٹ لیا

مزید پڑھیے

کیسی یہ افسردگی ہے آج کل

کیسی یہ افسردگی ہے آج کل زندگی میں کچھ کمی ہے آج کل چاند کی آوارگی سے چاندنی سوگ میں ڈوبی ہوئی ہے آج کل چل بنائیں آشیاں اس پار ہم رات مجھ سے کہہ رہی ہے آج کل کیا سبب ہے دھوپ ہے سہمی ہوئی پتھروں پر بھی نمی ہے آج کل تڑپنوں میں ہیں غضب بے چینیاں دیتا اس حد تشنگی ہے آج کل جی رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

بجھتی آنکھوں کی روشنی تو دیکھ

بجھتی آنکھوں کی روشنی تو دیکھ چشم میں تیرتی نمی تو دیکھ آ کبھی تو قریب آ میرے زیست و جاں میں تری کمی تو دیکھ رات بھر جاگتی ہے کیوں یہ شب جاگتی شب کی بیکلی تو دیکھ عمر بھر پانیوں نے لکھی پیاس پانیوں کی یہ تشنگی تو دیکھ ساتھ رہ کر بھی دور دور ہے تو زندگی کی یہ دل لگی تو دیکھ میں ...

مزید پڑھیے

بات کچھ بھی نہ تھی کیوں خفا ہو گیا

بات کچھ بھی نہ تھی کیوں خفا ہو گیا جو تھا اپنا مرا غیر سا ہو گیا دھوپ شدت کی تھی چل پڑا راہ میں ماں کا آنچل مرا آسرا ہو گیا مجھ کو موج بلا سے کوئی ڈر نہیں جب سہارا مرا ناخدا ہو گیا اب تو آنکھوں سے آنسو بھی بہتے نہیں ظلم جب ان کا حد سے سوا ہو گیا دل میں اصغرؔ کے خوشیوں کی برسات ...

مزید پڑھیے

چین مجھ کو ملا کہاں اب تک

چین مجھ کو ملا کہاں اب تک لے رہا ہے وہ امتحاں اب تک حال مجھ سے نہ پوچھیے میرا اشک آنکھوں سے ہے رواں اب تک بجلیاں تو سکوں سے لوٹ گئیں جل رہا ہے یہ آشیاں اب تک گھر سے نکلا تلاش میں جس کی ڈھونڈ پایا نہ وہ مکاں اب تک شہر تو کب کا جل چکا اصغرؔ اٹھ رہا ہے مگر دھواں اب تک

مزید پڑھیے

کہاں کھو گئے میرے غم خوار اب

کہاں کھو گئے میرے غم خوار اب کہ تنہا ہوں چلنے کو تیار اب کہاں سر چھپائیں پتا ہی نہیں کہ گرنے لگی گھر کی دیوار اب تو منصف ہے اپنا قلم روک لے بچا لے گا میرا ہی کردار اب کہ آٹھوں پہر مجھ کو فرصت نہیں کہیں کھو گیا میرا اتوار اب مرے خوں میں رنگ وفا دیکھ لے مجھے لے کے چل تو سر دار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3943 سے 4657