نفرتیں دل سے مٹاؤ تو کوئی بات بنے
نفرتیں دل سے مٹاؤ تو کوئی بات بنے پیار کی شمعیں جلاؤ تو کوئی بات بنے آج انسان خدا خود کو سمجھ بیٹھا ہے اس کو انسان بناؤ تو کوئی بات بنے تیرگی بڑھنے لگی اپنی حدوں سے آگے مشعلیں دن میں جلاؤ تو کوئی بات بنے میکدے میں نظر آتے ہیں سبھی جام بدست مجھ کو آنکھوں سے پلاؤ تو کوئی بات ...