شاعری

''خشک پتا ہے تو ہوا سے ڈر'' (ردیف .. ر)

''خشک پتا ہے تو ہوا سے ڈر'' زرد موسم کی بد دعا سے ڈر ہر عمل کا محاسبہ کر لے پاس آتی ہوئی قضا سے ڈر نیک کاروں میں نام ہو تیرا اپنے ہر کاج میں ریا سے ڈر سر پہ دستار جب سلامت ہے دل میں آتی ہوئی انا سے ڈر شہر ویران ہو گیا اصغرؔ سنسناتی ہوئی ہوا سے ڈر

مزید پڑھیے

زیست کے پیکر میں جب مربوط ہو جاتا ہوں میں

زیست کے پیکر میں جب مربوط ہو جاتا ہوں میں بن کے دشت لا مکاں لاہوت ہو جاتا ہوں میں میرے بننے کا تماشہ دیکھیے کہ کس طرح ٹوٹتا ہوں ٹوٹ کر مضبوط ہو جاتا ہوں میں جانے کیا پڑھ کر وہ مجھ پر پھونکتا ہے زور سے دیکھتے ہی دیکھتے یاقوت ہو جاتا ہوں میں آسماں سے جب اترتا ہوں میں بن کے ...

مزید پڑھیے

فلک سے چاندنی پھر جھانکتی ہے

فلک سے چاندنی پھر جھانکتی ہے زمیں پر تیرگی جب ناچتی ہے ستارا جب بھی ٹوٹا آسماں سے وہی خواہش دوبارا جاگتی ہے بنا لیتی ہے زنجیروں سے پائل محبت رقص کرنا جانتی ہے پتہ ہے کہ وہاں پانی نہیں ہے مگر امید صحرا چھانتی ہے قضا پوری ہو کرنی پھر کسی کی زمیں محور پہ ایسے بھاگتی ہے میں راز ...

مزید پڑھیے

دل مرا رقصاں ہے جب سے عقل اس شورش میں ہے

دل مرا رقصاں ہے جب سے عقل اس شورش میں ہے لرزش پا آسماں یا یہ جہاں لرزش میں ہے آج سے پہلے زمیں کی چال تو ایسی نہ تھی تم ذرا رفتار دیکھو کس قدر گردش میں ہے ٹھیک ہے تجھ کو ملا ہے مجھ کو بھٹکانے کا کام یہ مگر کیا تو تو ہر دم دعوت لغزش میں ہے کس قدر پھر ایک ہو جاویں زمین و آسماں ہم زمین ...

مزید پڑھیے

جانے کیوں برباد ہونا چاہتا ہے

جانے کیوں برباد ہونا چاہتا ہے صورت فرہاد ہونا چاہتا ہے ذہن سے آخر میں اب تھک ہار کر میرا دل آباد ہونا چاہتا ہے آسماں والے یہ سن کر ہنس پڑے آدمی آزاد ہونا چاہتا ہے ہر جگہ تعمیر کر کے اک ارم ہر کوئی شداد ہونا چاہتا ہے سانحہ یہ ہے کہ اک بلبل کا دل دامن صیاد ہونا چاہتا ہے ہو کے ...

مزید پڑھیے

کہہ رہا ابلیس اب شیطان سے

کہہ رہا ابلیس اب شیطان سے فکر فردا چھین اس انسان سے کیا ہمارا نام اس میں درج ہے آپ نے پوچھا کبھی رضوان سے میل کا پتھر کوئی لا دے کہ میں تھک گیا یاقوت اور مرجان سے جان پاتے کیسے ہم راز حیات راز کن نکلا نہیں جزدان سے جانے کب اس رات کی ہوگی سحر کب کوئی اٹھے گا اس ایوان سے

مزید پڑھیے

شور کیسا ہے مرے دل کے خرابے سے اٹھا

شور کیسا ہے مرے دل کے خرابے سے اٹھا شہر جیسے کہ کوئی اپنے ہی ملبے سے اٹھا یا اٹھا دشت میں دیوانے سے بار فرقت یا ترے شہر میں اک چاہنے والے سے اٹھا یا مری خاک کو مل جانے دے اس مٹی میں یا مجھے خون کی للکار پہ کوچے سے اٹھا تو مرے پاس نہیں ہوتا یہ سچ ہے لیکن تری آواز پر ہر صبح میں سوتے ...

مزید پڑھیے

کیا قدر انا ہوگی جبیں جان رہی ہے

کیا قدر انا ہوگی جبیں جان رہی ہے جس شہر میں سجدوں کی ہی پہچان رہی ہے کچھ ہم نے بھی دنیا کو ستایا ہے بہر حال کچھ اپنی طبیعت سے بھی ہلکان رہی ہے مضبوط رہا حسن نظر سے مرا رشتہ جب تک وہ مرے شہر میں مہمان رہی ہے مئے نے بھی دیا ہے مری وحشت کو بڑھاوا دو چار دنوں وہ بھی نگہبان رہی ہے اس ...

مزید پڑھیے

شہر میں چھائی ہوئی دیوار تا دیوار تھی

شہر میں چھائی ہوئی دیوار تا دیوار تھی ایک پتھریلی خموشی پیکر گفتار تھی بادلوں کی چٹھیاں کیا آئیں دریاؤں کے نام ہر طرف پانی کی اک چلتی ہوئی دیوار تھی انکشاف شہر نامعلوم تھا ہر شعر میں تجربے کی تازہ کاری صورت اشعار تھی آرزو تھی سامنے بیٹھے رہیں باتیں کریں آرزو لیکن بچاری کس ...

مزید پڑھیے

ہے کون جس سے کہ وعدہ خطا نہیں ہوتا

ہے کون جس سے کہ وعدہ خطا نہیں ہوتا مگر کسی کا ارادہ خطا نہیں ہوتا جہاں بساط پہ گھر جائے شاہ نرغے میں وہاں کبھی بھی پیادہ خطا نہیں ہوتا وہ دشمنوں میں اگر ہو تو بچ بھی جاؤں میں اسی کا وار مبادا خطا نہیں ہوتا جو سر بچے بھی تو دستار بچ نہیں سکتی نشانہ اس کا زیادہ خطا نہیں ہوتا کسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3944 سے 4657