شاعری

بہتا ہوا دریا ہوں کہیں پر تھا کہیں ہوں

بہتا ہوا دریا ہوں کہیں پر تھا کہیں ہوں میں لمحۂ موجود کا پابند نہیں ہوں وابستہ ہوں اک سلسلۂ عشق سے لیکن میں چاک گریباں ہوں نہ میں خاک نشیں ہوں اے دل زدہ گانوں کے مسیحا مجھے بتلاؤ کیا میں تری فہرست دل و جاں میں کہیں ہوں مخصوص ہے جو صرف ترے حسن نظر سے اس آنکھ سے دیکھے کوئی مجھ کو ...

مزید پڑھیے

کو بہ کو کب سے ہے اک صرصر غم آوارہ

کو بہ کو کب سے ہے اک صرصر غم آوارہ اب کدھر جائیں ترے شہر میں ہم آوارہ کیا فقیہان حرم کو یہ خبر ہے یارو ہم کو رکھتے ہیں غزالان حرم آوارہ سرخ رو عہد وفا سے نہ ہوا ہو فرہاد بوئے خوں ہے جو سر خلوت جم آوارہ ہم چلے آئے تو بت خانے پر کیا کیا گزری برہمن سر بہ گریباں ہے صنم آوارہ سرنگوں ...

مزید پڑھیے

گلشن گلشن شعلۂ گل کی زلف صبا کی بات چلی

گلشن گلشن شعلۂ گل کی زلف صبا کی بات چلی حرف جنوں کی بند گراں کی جرم و سزا کی بات چلی زنداں زنداں شور جنوں ہے موسم گل کے آنے سے محفل محفل اب کے برس ارباب وفا کی بات چلی عہد ستم ہے دیکھیں ہم آشفتہ سروں پہ کیا گزرے شہر میں اس کے بند قبا کی رنگ حنا کی بات چلی ایک ہوا دیوانہ اک نے سر ...

مزید پڑھیے

بہت خاموش رہ کر جو صدائیں مجھ کو دیتا تھا

بہت خاموش رہ کر جو صدائیں مجھ کو دیتا تھا بڑے سندر سے جذبوں کی قبائیں مجھ کو دیتا تھا کبھی جو درد کی آتش مجھے سلگانے لگتی تھی وہ اپنے سانس کی مہکی ہوائیں مجھ کو دیتا تھا وہ اس کی چاہتیں بھی تو زمانے سے انوکھی تھیں ریاضت خود وہ کرتا تھا جزائیں مجھ کو دیتا تھا مرے احساس کے صحراؤں ...

مزید پڑھیے

اس کو غرور عشق نے کیا کیا بنا دیا

اس کو غرور عشق نے کیا کیا بنا دیا پتھر بنا دیا کبھی شیشہ بنا دیا ہر زخم دل کو ہم نے سجایا ہے اس طرح جگنو بنا دیا کبھی تارا بنا دیا میں کس زباں سے شکر خدا کا ادا کروں جس نے مجھے فراق کا شیدا بنا دیا اب کس کے در پہ جاؤں میں انصاف کے لئے منصف نے قاتلوں کو مسیحا بنا دیا جب بھی ہمیں ...

مزید پڑھیے

منزل صدق و صفا کا راستہ اپنائیے

منزل صدق و صفا کا راستہ اپنائیے کاروان زندگی کے رہنما بن جائیے ہم نے مانا ہر طرف تیرہ شبی کا راج ہے آپ سورج ہیں اگر تو روشنی پھیلائیے آئنہ پتھر سے ٹکرانا ضروری تو نہیں بات جب ہے آئنے سے آئنہ ٹکرائیے آپ کو تیرہ شبی سے اس قدر کیوں خوف ہے ہو سکے تو ایک جگنو ہی مقابل لائیے یہ تو سچ ...

مزید پڑھیے

پلکوں پہ انتظار کا موسم سجا لیا

پلکوں پہ انتظار کا موسم سجا لیا اس سے بچھڑ کے روگ گلے سے لگا لیا کوئی تو ایسی بات تھی ہم کچھ نہ کر سکے سارے جہاں میں خود کو تماشہ بنا لیا اب یہ کسے بتائیں ہمیں کیا خوشی ملی جس دن ذرا سا بوجھ کسی کا اٹھا لیا میں عمر بھر نہ جانے بھٹکتا کہاں کہاں اچھا ہوا جو آپ نے اپنا بنا لیا کتنے ...

مزید پڑھیے

جو ضروری ہے کار کر پہلے

جو ضروری ہے کار کر پہلے شکر پروردگار کر پہلے غم کا ہر دم بیاں نہیں اچھا اپنی خوشیاں شمار کر پہلے عشق اک آگ کا سمندر ہے یہ سمندر تو پار کر پہلے مت اٹھا انگلیاں رقیبوں پر عیب اپنے شمار کر پہلے روشنی کی اگر تمنا ہے ظلمت شب پہ وار کر پہلے مات بھی اس میں جیت جیسی ہے عشق میں دیکھ، ...

مزید پڑھیے

شمع اخلاص و یقیں دل میں جلا کر چلئے

شمع اخلاص و یقیں دل میں جلا کر چلئے ظلمت یاس میں امید جگا کر چلئے ہم سے دیوانے کہاں زاد سفر رکھتے ہیں ساتھ چلنا ہے تو اسباب لٹا کر چلئے عشق کا راستہ آسان نہیں ہوتا ہے بازیٔ عشق میں جان اپنی لٹا کر چلئے رات اندھیری ہو تو جگنو کی چمک کافی ہے شرط اتنی ہے کہ احساس جگا کر چلئے نفرت ...

مزید پڑھیے

نیکی بدی کی اب کوئی میزان ہی نہیں

نیکی بدی کی اب کوئی میزان ہی نہیں ایماں کی بات یہ ہے کہ ایمان ہی نہیں اس دور بے ضمیر پہ کیا تبصرہ کروں لگتا ہے میرے عہد میں انسان ہی نہیں کیسے رفو کروں میں کہاں سے رفو کروں دل بھی ہے میرا چاک گریبان ہی نہیں روداد دل بھی ہے یہ غم کائنات بھی میری غزل نشاط کا سامان ہی نہیں برکت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3942 سے 4657