لمحۂ تلخیٔ گفتار تلک لے آیا
لمحۂ تلخیٔ گفتار تلک لے آیا وہ مجھے اپنے ہی معیار تلک لے آیا کیا رکھے اس سے کوئی سلسلۂ گفت و شنید گھر کی باتوں کو جو بازار تلک لے آیا میں نے جو بات بھروسے پہ کہی تھی اس سے وہ اسے سرخیٔ اخبار تلک لے آیا گھر میں جب کچھ نہ بچا اس کی اعانت کے لیے میں اٹھا کر در و دیوار تلک لے ...