شاعری

کوئی منزل تو راستہ ہی نہیں

کوئی منزل تو راستہ ہی نہیں ان سے اب کوئی سلسلہ ہی نہیں مدتوں سے گزر ہے خود سے ہی تیرے جیسا کوئی ملا ہی نہیں خواب رنگیں ہیں اس کی آنکھوں میں میرے غم سے وہ آشنا ہی نہیں مجھ کو منظور ہے یہ در بدری تو مرے ساتھ جب چلا ہی نہیں تیرے جانے کے بعد سے میں نے نام اپنا کبھی سنا ہی نہیں

مزید پڑھیے

کسی گلی کسی چھت پر ضرور نکلے گا

کسی گلی کسی چھت پر ضرور نکلے گا وہ چاند ابر سے باہر ضرور نکلے گا یہ حکمرانئ شب دیر تک نہیں ہوگی کہیں سے مہر منور ضرور نکلے گا اسی گرانیٔ شب کی دبیز چادر سے نمود صبح کا منظر ضرور نکلے گا خود اپنے آپ سے لڑنی پڑے گی جنگ ہمیں دلوں سے خوف کا لشکر ضرور نکلے گا یہ شہر شیشہ گراں ہے تو ...

مزید پڑھیے

تیرے پہلو میں ترے دل کے قریں رہنا ہے

تیرے پہلو میں ترے دل کے قریں رہنا ہے میری دنیا ہے یہی مجھ کو یہیں رہنا ہے کام جو عمر رواں کا ہے اسے کرنے دے میری آنکھوں میں سدا تجھ کو حسیں رہنا ہے دل کی جاگیر میں میرا بھی کوئی حصہ رکھ میں بھی تیرا ہوں مجھے بھی تو کہیں رہنا ہے آسماں سے کوئی اترا نہ صحیفہ نہ سہی تو مرا دیں ہے ...

مزید پڑھیے

ہنگام شب و روز میں الجھا ہوا کیوں ہوں

ہنگام شب و روز میں الجھا ہوا کیوں ہوں دریا ہوں تو پھر راہ میں ٹھہرا ہوا کیوں ہوں کیوں میری جڑیں جا کے زمیں سے نہیں ملتیں گملے کی طرح صحن میں رکھا ہوا کیوں ہوں اس گھر کے مکینوں کا رویہ بھی تو دیکھوں تزئین در و بام میں کھویا ہوا کیوں ہوں گرتی نہیں کیوں مجھ پہ کسی زخم کی شبنم میں ...

مزید پڑھیے

محبت اور محبت کا شجر باقی رہے گا

محبت اور محبت کا شجر باقی رہے گا چلے جائیں گے ہم لیکن سفر باقی رہے گا کسی دستک کی کانوں میں صدا آتی رہے گی کوئی نقش قدم دہلیز پر باقی رہے گا ابھی سے کیوں بجھا دیں اپنے دل کی ساری شمعیں سحر ہونے تک امکان سحر باقی رہے گا بڑھا آتا ہے سیل بے یقینی ہر طرف سے تو اس سیلاب میں کیا میرا ...

مزید پڑھیے

کہا کس نے مسلسل کام کرنے کے لیے ہے

کہا کس نے مسلسل کام کرنے کے لیے ہے یہ دنیا اصل میں آرام کرنے کے لیے ہے محبت اور پھر ایسی محبت جو ہے تجھ سے چھپائیں کیوں یہ خوشبو عام کرنے کے لیے ہے کرے گا کون تجھ کو تیری بے مہری کا قائل یہاں جو بھی ہے تجھ کو رام کرنے کے لیے ہے یہ کار عشق میں الجھی ہوئی بے نام دنیا حقیقت میں نمود ...

مزید پڑھیے

تمام رشتے اسی شاخ بے ثمر سے ہیں

تمام رشتے اسی شاخ بے ثمر سے ہیں تلاش انہی کو ہے گھر کی جو نکلے گھر سے ہیں شناخت کی یہ کہانی بس ایک نسل کی ہے پھر اس کے بعد فسانے ادھر ادھر سے ہیں ابھی خبر نہیں نو واردان ہجرت کو کہاں سے اٹھے ہیں بادل کہاں پہ برسے ہیں قدم اٹھے نہیں معلوم منزلوں کی طرف مگر اداس ہم اندیشۂ سفر سے ...

مزید پڑھیے

یہ دل بھی تو ڈوبے گا سمندر میں کسی کے

یہ دل بھی تو ڈوبے گا سمندر میں کسی کے ہم بھی تو لکھے ہوں گے مقدر میں کسی کے اس دل کے بہت پاس نہ اس دل سے بہت دور بیٹھے ہوئے ہم ہوں گے برابر میں کسی کے اب اس کے بنا یوں ہیں شب و روز ہمارے جیسے کوئی دروازہ نہ ہو گھر میں کسی کے شاید کہ کسی مصرعۂ خوش رنگ کی صورت ہم بھی نظر آ جائیں گے ...

مزید پڑھیے

مرے پاؤں کے نیچے بھی زمیں ہے

مرے پاؤں کے نیچے بھی زمیں ہے مجھے ہجرت کا کوئی دکھ نہیں ہے کبھی نا آشنا تجھے سارے رستے مگر ہر راستہ اب دل نشیں ہے کبھی سارے ہی موسم اجنبی تھے مگر اب دل میں ہر موسم مکیں ہے کبھی میرا بدن ہی تھا یہاں پر مگر اب دل کی دنیا بھی یہیں ہے کبھی ہر شام بے منظر یہاں تھی مگر ہر شام اب بے حد ...

مزید پڑھیے

محبت کس سے کب ہو جائے اندازہ نہیں ہوتا

محبت کس سے کب ہو جائے اندازہ نہیں ہوتا یہ وہ گھر ہے کہ جس کا کوئی دروازہ نہیں ہوتا دلوں کو درد کی تہذیب سے آباد رکھتی ہے محبت میں کسی کو کوئی خمیازہ نہیں ہوتا کہیں کوئی نہ کوئی اک کمی باقی ہی رہتی ہے مکمل زندگی کا کوئی شیرازہ نہیں ہوتا عجب بے گانگی و نا شناسائی کا عالم ہے تری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3941 سے 4657