شیشۂ دل میں ترے واسطے بال آیا کیوں
شیشۂ دل میں ترے واسطے بال آیا کیوں یہ مجھے تجھ سے نہ ملنے کا خیال آیا کیوں میں تو خوش تھا کہ ترا مان رکھا ہے میں نے تیرے چہرے پہ مگر عکس ملال آیا کیوں اور بھی غم تھے مگر ایک نیا غم یہ ہے میں ترے سامنے یوں غم سے نڈھال آیا کیوں کیسے اس دل کو مرے چین ملا اول شب درد کی سرمئی شاموں پہ ...