اس آنکھ نہ اس دل سے نکالے ہوئے ہم ہیں
اس آنکھ نہ اس دل سے نکالے ہوئے ہم ہیں یوں ہے کہ ذرا خود کو سنبھالے ہوئے ہم ہیں اس بزم میں اک جشن چراغاں ہے انہی سے کچھ خواب جو پلکوں پہ اجالے ہوئے ہم ہیں کچھ اور چمکتا ہے یہ دل جیسا ستارا کن درد کی لہروں کے حوالے ہوئے ہم ہیں دل ہے کہ کوئی فیصلہ کر ہی نہیں پاتا اک موج تذبذب کے ...