ناؤ طوفان میں جب زیر و زبر ہوتی ہے
ناؤ طوفان میں جب زیر و زبر ہوتی ہے ناخدا پر کبھی موجوں پہ نظر ہوتی ہے دور ہے منزل مقصود سفر ہے درپیش سونے والوں کو جگا دو کہ سحر ہوتی ہے اور بڑھ جاتی ہے کچھ قوت احساس عمل جتنی دشوار مری راہگزر ہوتی ہے گھر کے چھٹنے کا اثر عالم غربت کا خیال کیفیت دل کی عجب وقت سفر ہوتی ہے کیا ...