شاعری

بجھنے لگے نظر تو پھر اس پار دیکھنا

بجھنے لگے نظر تو پھر اس پار دیکھنا دریا چڑھے تو ناؤ کی رفتار دیکھنا اس آگہی کے آئینۂ خود مثال میں خود اپنی ذات کو سر پیکار دیکھنا آنکھوں سے رت جگوں کی حرارت نہیں گئی اے یاد یار تشنۂ آزار دیکھنا ہونٹوں پہ آ کے جم سی گئی خواہش وصال اس ان کہی پہ لذت انکار دیکھنا ہم وہ وفا پرست ...

مزید پڑھیے

آنکھ میں خواب نہیں خواب کا ثانی بھی نہیں

آنکھ میں خواب نہیں خواب کا ثانی بھی نہیں کنج لب میں کوئی پہلی سی کہانی بھی نہیں ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اک شہر تخیل میں تجھے اور مرے پاس ترے گھر کی نشانی بھی نہیں بات جو دل میں دھڑکتی ہے محبت کی طرح اس سے کہنی بھی نہیں اس سے چھپانی بھی نہیں آنکھ بھر نیند میں کیا خواب سمیٹیں کہ ...

مزید پڑھیے

سفر میں فاصلوں کے ساتھ بادبان کھو دیا

سفر میں فاصلوں کے ساتھ بادبان کھو دیا اتر کے پانیوں میں ہم نے آسمان کھو دیا یہی کہ ان نفس غبار ساعتوں کے درمیاں ہوا نے گیت رہگزر نے ساربان کھو دیا یہ کون ساونوں میں خواب دیکھتا ہے دھوپ کے یہ کس نے اعتبار غم پس گمان کھو دیا بس ایک حرف کا گداز اس پہ قرض تھا سو وہ بچھڑتے وقت خامشی ...

مزید پڑھیے

اس قدر غم ہے کہ اظہار نہیں کر سکتے

اس قدر غم ہے کہ اظہار نہیں کر سکتے یہ وہ دریا ہے جسے پار نہیں کر سکتے آپ چاہیں تو کریں درد کو دل سے مشروط ہم تو اس طرح کا بیوپار نہیں کر سکتے جان جاتی ہے تو جائے مگر اے دشمن جاں ہم کبھی تجھ پہ کوئی وار نہیں کر سکتے جتنی رسوائی ملی آپ کی نسبت سے ملی آپ اس بات سے انکار نہیں کر ...

مزید پڑھیے

لہروں میں بدن اچھالتے ہیں

لہروں میں بدن اچھالتے ہیں آؤ کہ فلک میں ڈوبتے ہیں دنیا کی ہزار نعمتوں میں ہم ایک تجھی کو جانتے ہیں آنکھوں سے دکھوں کے سارے منظر سارس کی اڑان اڑ گئے ہیں ہنستے ہوئے بے غبار چہرے بے وجہ اداس ہو رہے ہیں کچھ دکھ تو خوشی کے باب میں تھے باقی بھی نشان پا چکے ہیں یوں بھی ہے کہ پیار کے ...

مزید پڑھیے

آ جائے نہ رات کشتیوں میں

آ جائے نہ رات کشتیوں میں پھینکو نہ چراغ پانیوں میں اک چادر غم بدن پہ لے کر در در پھرا ہوں سردیوں میں دھاگوں کی طرح الجھ گیا ہے اک شخص مری برائیوں میں اس شخص سے یوں ملا ہوں جیسے گر جائے ندی سمندروں میں لوہار کی بھٹی ہے یہ دنیا بندے ہیں عذاب کی رتوں میں اب ان کے سرے کہاں ملیں ...

مزید پڑھیے

حریم حسن سے آنکھوں کے رابطے رکھنا

حریم حسن سے آنکھوں کے رابطے رکھنا تمام عمر تحیر کے در کھلے رکھنا حصار آئینہ و خواب سے نکلنے تک شکست ذات کا منظر سنبھال کے رکھنا یہ بارگاہ محبت ہے میری خلوت ہے مرے حریف قدم احتیاط سے رکھنا فراز کوہ شب غم سے دیکھنا ہے اسے مرے خدا مری قسمت میں رت جگے رکھنا گرا دیا جسے اک بار اپنی ...

مزید پڑھیے

حرماں کے دائرے سے نکل جانا چاہئے

حرماں کے دائرے سے نکل جانا چاہئے جو بجھ گیا چراغ وہ جل جانا چاہئے آؤ کہ لب پہ شعلۂ حرف نوا سہی یہ رات کا حصار پگھل جانا چاہئے اٹھنے لگا نوشتۂ دیوار سے دھواں اس وقت آدمی کو سنبھل جانا چاہئے شہر انا میں پھر کوئی پتھر اچھال دوں اس بار پھر حریف کو جل جانا چاہئے حالات کے سبو میں جو ...

مزید پڑھیے

پھر وہی تجدید موسم ہو گئی

پھر وہی تجدید موسم ہو گئی وہ لہو برسا زمیں نم ہو گئی برگ و گل کے جسم نیلے پڑ گئے باغ کی تازہ ہوا سم ہو گئی کیا کہا موج ہوا نے شام سے لو چراغوں کی جو مدھم ہو گئی کیا خبر کس سوچ میں ڈوبا ہے چاند بام و در کی روشنی کم ہو گئی عشق کا میدان خالی ہو گیا شوق کی تلوار بے دم ہو گئی آسماں سے ...

مزید پڑھیے

ہم تصور میں ان کے ابھرنے لگے

ہم تصور میں ان کے ابھرنے لگے چشم آہو میں منظر سنورنے لگے قاعدہ کلیہ ہم نہیں جانتے سجدہ کرنا تھا بس سجدہ کرنے لگے اے گناہو بتاؤ کہاں ٹھہرو گے آسماں سے صحیفے اترنے لگے جب بھی روشن ہوا ہے الاؤ کوئی ہم تری راہ گزر سے گزرنے لگے پارسائی کی ہے دھوم اب کے مچی دیکھو جوہرؔ بھی اب تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3830 سے 4657