بجھنے لگے نظر تو پھر اس پار دیکھنا
بجھنے لگے نظر تو پھر اس پار دیکھنا دریا چڑھے تو ناؤ کی رفتار دیکھنا اس آگہی کے آئینۂ خود مثال میں خود اپنی ذات کو سر پیکار دیکھنا آنکھوں سے رت جگوں کی حرارت نہیں گئی اے یاد یار تشنۂ آزار دیکھنا ہونٹوں پہ آ کے جم سی گئی خواہش وصال اس ان کہی پہ لذت انکار دیکھنا ہم وہ وفا پرست ...