شاعری

سات سروں کا بہتا دریا تیرے نام

سات سروں کا بہتا دریا تیرے نام ہر سر میں ہے رنگ دھنک کا تیرے نام جنگل جنگل اڑنے والے سب موسم اور ہوا ہے سبز دوپٹہ تیرے نام ہجر کی شام اکیلی رات کے خالی در صبح فراق کا زرد اجالا تیرے نام تیرے بنا جو عمر بتائی بیت گئی اب اس عمر کا باقی حصہ تیرے نام ان شاعر آنکھوں نے جتنے رنگ ...

مزید پڑھیے

طلسم اسم محبت ہے درپئے در دل

طلسم اسم محبت ہے درپئے در دل کوئی بتائے اب اس کا کرے تو کیا کرے دل فسون جنبش مژگاں نہ پوچھیے سر راہ پکارتے ہی رہے ہم ارے ارے ارے دل پھر اس کے بعد ہمیں یہ بھی تو نہیں رہا یاد نظر گری ہے کہاں کھو گیا کہاں زر دل قدم قدم پہ ترا غم ہے خیمہ زن مری جاں ہمک بھرے بھی تو آخر بتا کہاں بھرے ...

مزید پڑھیے

آنکھ کی دہلیز سے اترا تو صحرا ہو گیا

آنکھ کی دہلیز سے اترا تو صحرا ہو گیا قطرۂ خوں پانیوں کے ساتھ رسوا ہو گیا خاک کی چادر میں جسم و جاں سمٹتے ہی نہیں اور زمیں کا رنگ بھی اب دھوپ جیسا ہو گیا ایک اک کر کے مرے سب لفظ مٹی ہو گئے اور اس مٹی میں دھنس کر میں زمیں کا ہو گیا تجھ سے کیا بچھڑے کہ آنکھیں ریزہ ریزہ ہو گئیں آئنہ ...

مزید پڑھیے

آئنہ توڑ دے رہا کر دے

آئنہ توڑ دے رہا کر دے بے وفا اک یہی وفا کر دے رشتۂ درد توڑ دے دل سے رنگ کو پھول سے جدا کر دے زندگی بھر تجھی کو چاہا ہے قرض کچھ تو مرا ادا کر دے دے رہا ہے زکات حسن اگر مرے حق سے ذرا بڑھا کر دے مدتیں ہو گئیں تجھے دیکھے اب تو ملنے کا سلسلہ کر دے پھر کوئی گل کھلے سر مژگاں پھر در خواب ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی دن نہ کوئی رات انتظار کی ہے

نہ کوئی دن نہ کوئی رات انتظار کی ہے کہ یہ جدائی بھروسے کی اعتبار کی ہے جو خاک اڑی ہے مرے دکھ سمیٹ لیں گے اسے جو بچھ گئی سر منظر وہ رہ گزار کی ہے وہ وصل ہو کہ کھلے آئنے پہ عکس جمال یہ آرزو ہے مگر بات اختیار کی ہے اسی کا نام ہے وحشت سرائے جاں میں چراغ اسی کے لمس میں دھڑکن دل فگار کی ...

مزید پڑھیے

سوچوں میں لہو اچھالتے ہیں

سوچوں میں لہو اچھالتے ہیں ہم اپنی تہوں میں جھانکتے ہیں دنیا کی ہزار نعمتوں میں ہم ایک تجھی کو جانتے ہیں آنکھوں سے دکھوں کے رنگ آخر سارس کی اڑان اڑ گئے ہیں ساون کی طرح ہمیں بھگو کر بادل کی طرح گزر گئے ہیں یوں بھی ہے کہ پیار کے نشے میں کچھ سوچ کے لوگ رو پڑے ہیں وہ دکھ تو خوشی کے ...

مزید پڑھیے

بات یہ تیرے سوا اور بھلا کس سے کریں

بات یہ تیرے سوا اور بھلا کس سے کریں تو جفا کار ہوا ہے تو وفا کس سے کریں آئنہ سامنے رکھیں تو نظر تو آئے تجھ سے جو بات چھپانی ہو کہا کس سے کریں ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں اب بتا کون سے دھاگے کو جدا کس سے کریں زلف سے چشم و لب و رخ سے کہ تیرے غم سے بات یہ ہے کہ دل و جاں کو ...

مزید پڑھیے

گزر اوقات نہیں ہو پاتی

گزر اوقات نہیں ہو پاتی دن سے اب رات نہیں ہو پاتی ساری دنیا میں بس اک تم سے ہی اب ملاقات نہیں ہو پاتی جو دھڑکتی ہے مرے دل میں کہیں اب وہی بات نہیں ہو پاتی جمع کرتا ہوں سر چشم بہت پھر بھی برسات نہیں ہو پاتی لاکھ مضموں لب اظہار پہ ہیں اور مناجات نہیں ہو پاتی ہاتھ میں ہاتھ لیے ...

مزید پڑھیے

کوئی نہ دیکھے گونج ہوا کی

کوئی نہ دیکھے گونج ہوا کی نگراں ہے اک ذات خدا کی کھو گئیں چھوٹی چھوٹی اڑانیں پھیلتے شہروں میں چڑیا کی جتنے صحرا وہ سب میرے سونا ہے مٹی دنیا کی پہلے اپنی تہہ کو پا لے دیکھ روانی پھر دریا کی میں نے ان آنکھوں کی خاطر پھولوں جیسی ایک دعا کی ان پتھریلی آنکھوں میں ہے اک چپ چپ تصویر ...

مزید پڑھیے

اب تو آئے نظر میں جو بھی ہو

اب تو آئے نظر میں جو بھی ہو نیند کے بام و در میں جو بھی ہو جسم و جاں کا مکاں ہوا خالی ایسے تنہا سفر میں جو بھی ہو گونجتے ہیں فضا میں سناٹے ٹوٹنے کے اثر میں جو بھی ہو گم تو ہوگا ستارۂ شب دل کم ہے اس رات بھر میں جو بھی ہو دھوپ ہو ابر ہو کہ سایۂ گل اب تو اس رہ گزر میں جو بھی ہو خاورؔ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3829 سے 4657