شاعری

یہ کس ادا سے چمن سے بہار گزری ہے

یہ کس ادا سے چمن سے بہار گزری ہے سلگ سلگ کے تمنا ہزار گزری ہے حیات دل کی جو اک شب شمار کر بھی لوں وہ ایک شب ہی بہت بے قرار گزری ہے اڑا کے لے جو گئی دل کی سسکیاں بلبل چمن چمن پہ قیامت ہزار گزری ہے صبا نے چھو جو لیا خوشبوؤں کے آنچل کو جبین گل پہ شکن ناگوار گزری ہے یہ کس مقام پہ ...

مزید پڑھیے

قیس صحرا نشیں سے لے آؤ

قیس صحرا نشیں سے لے آؤ عشق مجھ سا کہیں سے لے آؤ چاند کہتا تھا آسمانوں پر نور میرا زمیں سے لے آؤ ان کے نازک لبوں کو چھو جائے ایسا جھونکا کہیں سے لے آؤ رقص کرتا رہے جو ہونٹوں پر ایسا مصرعہ کہیں سے لے آؤ ہم منائیں تو مان جائیں گے ان کو جا کر کہیں سے لے آؤ خاک جن کی حیات کا ...

مزید پڑھیے

دور صحرا کی کڑی دھوپ میں چھاؤں جیسا

دور صحرا کی کڑی دھوپ میں چھاؤں جیسا وہ تو لگتا تھا مجھے میری دعاؤں جیسا اک ریاست تھی مرے پاس نوابوں جیسی اب ترے شہر میں پھرتا ہوں گداؤں جیسا اب اسے ڈھونڈھتا پھرتا ہوں بیابانوں میں جو مرے پاس سے گزرا تھا ہواؤں جیسا تو نہ تھا پاس تو روٹھی تھیں بہاریں مجھ سے جیسے موسم ہو مرے ساتھ ...

مزید پڑھیے

پلکوں پہ سج رہے ہیں جو موتی نہ رولیے

پلکوں پہ سج رہے ہیں جو موتی نہ رولیے جوہر ہیں غم کے غم کے ترازو میں تولیے شام غم فراق کے پہلو میں بیٹھ کر آئی کسی کی یاد تو چپکے سے رو لئے موندی گئیں جو آنکھیں تو آئے وہ دیکھنے آ کر بھی کہہ نہ پائے کہ آنکھیں تو کھولیے دیکھا جو قدر غم کی نہیں ہے جہان میں لے کر وہ بیج دل میں محبت سے ...

مزید پڑھیے

نقش جب بھی ترا ابھارا ہے

نقش جب بھی ترا ابھارا ہے خواب نے خواب کو سنوارا ہے تیری چاہت تری وفاؤں کا قرض ہم نے کہاں اتارا ہے میرے جیون کا آسماں ہے تو میری قسمت کا تو ستارا ہے میری ناؤ کی تو ہی منزل ہے میرے دریا کا تو کنارا ہے چل پڑیں گے اویسؔ جی ہم بھی بادباں کا اگر اشارہ ہے

مزید پڑھیے

شباب آیا تڑپنے اور تڑپانے کا وقت آیا

شباب آیا تڑپنے اور تڑپانے کا وقت آیا اگر سچ پوچھئے بے موت مر جانے کا وقت آیا ابھی جی بھر کے پی لو پھر نہ جانے کس پہ کیا گزرے قریب اب شیخ جی کے وعظ فرمانے کا وقت آیا انہیں پاس حیا ٹھہرا تو اپنے پاؤں لرزاں ہیں ہماری جرأتوں کا ان کے شرمانے کا وقت آیا گھٹا چھائی برسنے کو ہیں بوندیں ...

مزید پڑھیے

رات دن جوش جنوں سے کام ہونا چاہیے

رات دن جوش جنوں سے کام ہونا چاہیے عشق کی دنیا میں اپنا نام ہونا چاہیے مٹ نہ جائے اس جہاں سے عشق کا نام و نشاں کچھ تو پاس حسرت ناکام ہونا چاہیے گل رخوں کی بات چھوڑو وہ خزاں دیدہ ہیں پھول فصل گل کا ذکر صبح و شام ہونا چاہیے زندگی مٹتی ہے مٹ جائے ادائے فرض میں فرض کی تکمیل پر انجام ...

مزید پڑھیے

ہوش و حواس جب سے ہمارے چلے گئے

ہوش و حواس جب سے ہمارے چلے گئے جو یار غم گسار تھے سارے چلے گئے اے چارہ گر وہ دیکھ ترے در سے نا مراد بیمار عشق یاس کے مارے چلے گئے احسان ناخدا کا اٹھانا تھا ناگوار اس پار ہم خدا کے سہارے چلے گئے اس بے خودی کی خیر تری جستجو میں ہم اپنا ہی نام آپ پکارے چلے گئے دل میں لیے شکایت بے ...

مزید پڑھیے

ان کی نگاہ ناز کا مستانہ ہو گیا

ان کی نگاہ ناز کا مستانہ ہو گیا میں ہوش میں کچھ اور بھی دیوانہ ہو گیا زاہد کا خوف اور نہ کچھ محتسب کا ڈر اب تو مزاج شیخ بھی رندانہ ہو گیا مرنے کے بعد کھل گئیں ساری حقیقتیں جو زندگی میں راز تھا افسانہ ہو گیا یادیں گئیں وہ شوق وہ ارمان لٹ گئے آباد تھا جو دل کبھی ویرانہ ہو ...

مزید پڑھیے

وہ حسن کیا جو کسی دل کا مدعا نہ ہوا

وہ حسن کیا جو کسی دل کا مدعا نہ ہوا وہ عشق کیا جو محبت کی انتہا نہ ہوا بچے گا کیا کوئی ان کی نظر کے تیروں سے نشانہ ان کی نظر کا کبھی خطا نہ ہوا کوئی پیام نہ ہم نامہ بر کو دے پائے سلام کہتے ہی فی الفور وہ روانہ ہوا ہمارا ذکر پہنچتے ہی ان کی محفل میں زمانہ بھر کی زباں پر چڑھا فسانہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3824 سے 4657