صبح تلک افلاک پہ اک کیفیت طاری کرتا ہوں
صبح تلک افلاک پہ اک کیفیت طاری کرتا ہوں چاند کو اپنی نظم سنا کر شب بے داری کرتا ہوں چوکیدار ہوں لیکن میرا لمبا چوڑا کام نہیں ایک ہی پھول ہے باغ میں جس کی پہرے داری کرتا ہوں گھر سے نکل آتا ہوں اکثر صبح کے تڑکے وحشت میں جھیل میں پتھر پھینک کے دن بھر وقت گزاری کرتا ہوں رات گزر جاتی ...