سوزش غم کے سوا کاہش فرقت کے سوا
سوزش غم کے سوا کاہش فرقت کے سوا عشق میں کچھ بھی نہیں درد کی لذت کے سوا دل میں اب کچھ بھی نہیں ان کی محبت کے سوا سب فسانے ہیں حقیقت میں حقیقت کے سوا کون کہہ سکتا ہے یہ اہل طریقت کے سوا سارے جھگڑے ہیں جہاں میں تری نسبت کے سوا کتنے چہروں نے مجھے دعوت جلوہ بخشی کوئی صورت نہ ملی آپ کی ...