شاعری

گزرنے والی ہوا کو بتا دیا گیا ہے

گزرنے والی ہوا کو بتا دیا گیا ہے کہ خوشبوؤں کا جزیرہ جلا دیا گیا ہے زمیں کی آنکھ کا نقشہ بنا دیا گیا ہے اور ایک تیر فضا میں چلا دیا گیا ہے اسی کے دم سے تھا روشن سپاہ شب کا علم وہ چاند جس کو زمیں میں دبا دیا گیا ہے وہ ایک راز! جو مدت سے راز تھا ہی نہیں اس ایک راز سے پردہ اٹھا دیا گیا ...

مزید پڑھیے

پرندے جھیل پر اک ربط روحانی میں آئے ہیں

پرندے جھیل پر اک ربط روحانی میں آئے ہیں کسی بچھڑے ہوئے موسم کی حیرانی میں آئے ہیں مسلسل دھند ہلکی روشنی بھیگے ہوئے منظر یہ کن برسی ہوئی آنکھوں کی نگرانی میں آئے ہیں کئی ساحل یہاں ڈوبے ہیں اور گرداب ٹوٹے ہیں کئی طوفان اس ٹھہرے ہوئے پانی میں آئے ہیں میں جن لمحوں کے سائے میں ...

مزید پڑھیے

یہ کس مقام پہ لایا گیا خدایا مجھے

یہ کس مقام پہ لایا گیا خدایا مجھے کہ آج روند کے گزرا ہے میرا سایہ مجھے میں جیسے وقت کے ہاتھوں میں اک خزانہ تھا کسی نے کھو دیا مجھ کو کسی نے پایا مجھے نہ جانے کون ہوں کس لمحۂ طلب میں ہوں نبیلؔ چین سے جینا کبھی نہ آیا مجھے میں ایک لمحہ تھا اور نیند کے حصار میں تھا پھر ایک روز کسی ...

مزید پڑھیے

صبح سویرے خوشبو پنگھٹ جائے گی

صبح سویرے خوشبو پنگھٹ جائے گی ہر جانب قدموں کی آہٹ جائے گی سارے سپنے باندھ رکھے ہیں گٹھری میں یہ گٹھری بھی اوروں میں بٹ جائے گی کیا ہوگا جب سال نیا اک آئے گا؟ جیون ریکھا اور ذرا گھٹ جائے گی اور بھلا کیا حاصل ہوگا صحرا سے دھول مری پیشانی پر اٹ جائے گی کتنے آنسو جذب کرے گی چھاتی ...

مزید پڑھیے

مرا سوال ہے اے قاتلان شب تم سے

مرا سوال ہے اے قاتلان شب تم سے کہ یہ زمین منور ہوئی ہے کب تم سے چراغ بخشے گئے شہر بے بصارت کو یہ کار خیر بھی سرزد ہوا عجب تم سے وہ ایک عشق جو، اب تک ہے تشنۂ تکمیل وہ ایک داغ جو روشن ہے روز و شب تم سے مری نمود میں وحشت ہے، میری سوچ میں شور بہت الگ ہے مری زندگی کا ڈھب تم سے مرے خطاب ...

مزید پڑھیے

کچے دھاگے پہ نہ جا اس کا بھروسا کیا ہے

کچے دھاگے پہ نہ جا اس کا بھروسا کیا ہے ناصحا رند بلا نوش کی توبہ کیا ہے چین لینے نہیں دیتی تو کسی بھی صورت زندگی کچھ تو بتا دے ترا منشا کیا ہے حال تیرا بھی یہی ہوگا سن اے غنچۂ نو دیکھ کر پھول کے انجام کو ہنستا کیا ہے اور ہوں گے غم و آلام سے ڈرنے والے تو نے اے گردش دوراں ہمیں ...

مزید پڑھیے

آس دل میں ترے آنے کی لگائے رکھوں

آس دل میں ترے آنے کی لگائے رکھوں اک دیا روز سر شام جلائے رکھوں چھوٹا جائے ہے مرے ہاتھ سے اب دامن ضبط کب تک اشکوں کو تبسم میں چھپائے رکھوں بس اسی طرح مری عمر بسر ہو جائے میں تجھے یاد رکھوں خود کو بھلائے رکھوں اک نہ اک دن تو یہ سر تن سے جدا ہونا ہے کیوں نہ پھر سر کو ہتھیلی پہ ...

مزید پڑھیے

نظر جب ہم پہ کوئی بار بار ڈالے گا

نظر جب ہم پہ کوئی بار بار ڈالے گا یہ التفات تو بے موت مار ڈالے گا مرے لیے کسی خنجر کی کیا ضرورت ہے مجھے تو خود مرا احساس مار ڈالے گا نہیں ہے وقت صداقت کی بات مت کیجئے زمانہ دار و رسن سے گزار ڈالے گا جو اصلیت ہے چھپانے سے چھپ نہیں سکتی تو آئینہ پہ کہاں تک غبار ڈالے گا ہے وقت اس ...

مزید پڑھیے

آگ بھڑکی کہاں تھی کدھر لگ گئی

آگ بھڑکی کہاں تھی کدھر لگ گئی تھی خطا کس کی اور کس کے سر لگ گئی دل دھڑکنے لگا مسکراتے ہوئے میری خوشیوں کو کس کی نظر لگ گئی اس چمن کے مقدر میں ہی آگ ہے آج ادھر لگ گئی کل ادھر لگ گئی بات تو آپ کے اور مرے بیچ تھی پھر زمانے کو کیسے خبر لگ گئی آپ اب جو بھی چاہیں وہ عنوان دیں میری تصویر ...

مزید پڑھیے

چھوڑ دے مانگنے کی ادا چھوڑ دے

چھوڑ دے مانگنے کی ادا چھوڑ دے اپنا حق چھین لے التجا چھوڑ دے چھوڑ دے اب مرا تذکرہ چھوڑ دے کچھ دنوں کو مجھے لاپتہ چھوڑ دے ناخداؤں کا اب آسرا چھوڑ دے اپنی کشتی بہ نام خدا چھوڑ دے عشق میں قرب ہی عشق کی موت ہے قربتوں میں بھی کچھ فاصلہ چھوڑ دے یہ بھی ممکن نہیں وہ بھی ممکن نہیں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3786 سے 4657