شاعری

زمیں کی آنکھ سے منظر کوئی اتارتے ہیں

زمیں کی آنکھ سے منظر کوئی اتارتے ہیں ہوا کا عکس چلو ریت پر ابھارتے ہیں خود اپنے ہونے کا انکار کر چکے ہیں ہم ہماری زندگی اب دوسرے گزارتے ہیں تمہاری جیت کا تم کو یقین آ جائے سو ہم تمہارے لیے بار بار ہارتے ہیں تلاش ہے ہمیں کچھ گمشدہ بہاروں کی گزر چکے ہیں جو موسم انہیں پکارتے ...

مزید پڑھیے

معجزے کا در کھلا اور اک عصا روشن ہوا

معجزے کا در کھلا اور اک عصا روشن ہوا دور گہرے پانیوں میں راستہ روشن ہوا جانے کتنے سورجوں کا فیض حاصل ہے اسے اس مکمل روشنی سے جو ملا روشن ہوا آنکھ والوں نے چرا لی روشنی ساری تو پھر ایک اندھے کی ہتھیلی پر دیا روشن ہوا ایک وحشت دائرہ در دائرہ پھرتی رہی ایک صحرا سلسلہ در سلسلہ ...

مزید پڑھیے

میں دسترس سے تمہاری نکل بھی سکتا ہوں

میں دسترس سے تمہاری نکل بھی سکتا ہوں یہ سوچ لو کہ میں رستہ بدل بھی سکتا ہوں تمہارے بعد یہ جانا کہ میں جو پتھر تھا تمہارے بعد کسی دم پگھل بھی سکتا ہوں قلم ہے ہاتھ میں کردار بھی مرے بس میں اگر میں چاہوں کہانی بدل بھی سکتا ہوں مری سرشت میں ویسے تو خشک دریا ہے اگر پکار لے صحرا ابل ...

مزید پڑھیے

اس کی سوچیں اور اس کی گفتگو میری طرح

اس کی سوچیں اور اس کی گفتگو میری طرح وہ سنہرا آدمی تھا ہو بہ ہو میری طرح ایک برگ بے شجر اور اک صدائے بازگشت دونوں آوارہ پھرے ہیں کو بہ کو میری طرح چاند تارے اک دیا اور رات کا کومل بدن صبح دم بکھرے پڑے تھے چار سو میری طرح لطف آوے گا بہت اے ساکنان قصر ناز بے در و دیوار بھی رہیو ...

مزید پڑھیے

آنکھوں کے غم کدوں میں اجالے ہوئے تو ہیں

آنکھوں کے غم کدوں میں اجالے ہوئے تو ہیں بنیاد ایک خواب کی ڈالے ہوئے تو ہیں تلوار گر گئی ہے زمیں پر تو کیا ہوا دستار اپنے سر پہ سنبھالے ہوئے تو ہیں اب دیکھنا ہے آتے ہیں کس سمت سے جواب ہم نے کئی سوال اچھالے ہوئے تو ہیں زخمی ہوئی ہے روح تو کچھ غم نہیں ہمیں ہم اپنے دوستوں کے حوالے ...

مزید پڑھیے

میں اپنے گرد لکیریں بچھائے بیٹھا ہوں

میں اپنے گرد لکیریں بچھائے بیٹھا ہوں سرائے درد میں ڈیرا جمائے بیٹھا ہوں نبیلؔ ریت میں سکے تلاش کرتے ہوئے میں اپنی پوری جوانی گنوائے بیٹھا ہوں یہ شہر کیا ہے نکلتا نہیں کوئی گھر سے کئی دنوں سے تماشہ لگائے بیٹھا ہوں جو لوگ درد کے گاہک ہیں سامنے آئیں ہر ایک گھاؤ سے پردہ اٹھائے ...

مزید پڑھیے

حیات و کائنات پر کتاب لکھ رہے تھے ہم

حیات و کائنات پر کتاب لکھ رہے تھے ہم جہاں جہاں ثواب تھا عذاب لکھ رہے تھے ہم ہماری تشنگی کا غم رقم تھا موج موج پر سمندروں کے جسم پر سراب لکھ رہے تھے ہم سوال تھا کہ جستجو عظیم ہے کہ آرزو سو یوں ہوا کہ عمر بھر جواب لکھ رہے تھے ہم سلگتے دشت، ریت اور ببول تھے ہر ایک سو نگر نگر، گلی ...

مزید پڑھیے

آئیں گے نظر صبح کے آثار میں ہم لوگ

آئیں گے نظر صبح کے آثار میں ہم لوگ بیٹھے ہیں ابھی پردۂ اسرار میں ہم لوگ لائے گئے پہلے تو سر دشت اجازت مارے گئے پھر وادئ انکار میں ہم لوگ اک منظر حیرت میں فنا ہو گئیں آنکھیں آئے تھے کسی موسم دیدار میں ہم لوگ ہر رنگ ہمارا ہے، ہر اک رنگ میں ہم ہیں تصویر ہوئے وقت کی رفتار میں ہم ...

مزید پڑھیے

سنو مسافر! سرائے جاں کو تمہاری یادیں جلا چکی ہیں

سنو مسافر! سرائے جاں کو تمہاری یادیں جلا چکی ہیں محبتوں کی حکایتیں اب یہاں سے ڈیرا اٹھا چکی ہیں وہ شہر حیرت کا شاہزادہ گرفت ادراک میں نہیں ہے اس ایک چہرے کی حیرتوں میں ہزار آنکھیں سما چکی ہیں ہم اپنے سر پر گزشتہ دن کی تھکن اٹھائے بھٹک رہے ہیں دیار شب تیری خواب گاہیں تمام پردے ...

مزید پڑھیے

نہ جانے کیسی محرومی پس رفتار چلتی ہے

نہ جانے کیسی محرومی پس رفتار چلتی ہے ہمیشہ میرے آگے آگے اک دیوار چلتی ہے وہ اک حیرت کہ میں جس کا تعاقب روز کرتا ہوں وہ اک وحشت مرے ہم راہ جو ہر بار چلتی ہے نکل کر مجھ سے باہر لوٹ آتی ہے مری جانب مری دیوانگی اب صورت پرکار چلتی ہے عجب انداز ہم سفری ہے یہ بھی قافلے والو ہمارے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3785 سے 4657