شاعری

ہوا آشفتہ تر رکھتی ہے ہم آشفتہ حالوں کو

ہوا آشفتہ تر رکھتی ہے ہم آشفتہ حالوں کو برتنا چاہتی ہے دشت مجنوں کے حوالوں کو نہ آیا کچھ مگر ہم کشتگان شوق کو آیا ہوا کی زد میں آخر بے سپر رکھنا خیالوں کو خدا رکھے تجھے اے نقش دیوار صنم خانہ کہیں گے لوگ دیوار ابد تیری مثالوں کو اندھیری رات میں اک دشت وحشت زندگی نکلی چلا جاتا ...

مزید پڑھیے

آج مقابلہ ہے سخت میر سپاہ کے لئے

آج مقابلہ ہے سخت میر سپاہ کے لئے ہو گئے سر کئی قلم ایک کلاہ کے لئے تازہ رخیٔ کائنات ڈھونڈ رہی ہے آئنہ جستجو ہے ہزار میں ایک گواہ کے لئے کھل ہی گیا طلسم دوست عین وصال میں کہ تھی اک شب ہجر زندگی لذت آہ کے لئے اک شب خود نمائی میں عصمت بے مقام نے کتنے سوال کر لئے رمز گناہ کے ...

مزید پڑھیے

سب پیچ و تاب شوق کے طوفان تھم گئے

سب پیچ و تاب شوق کے طوفان تھم گئے وہ زلف کھل گئی تو ہواؤں کے خم گئے ساری فضا تھی وادئ مجنوں کی خواب ناک جو روشناس مرگ محبت تھے کم گئے وحشت سی ایک لالۂ خونیں کفن سے تھی اب کے بہار آئی تو سمجھو کہ ہم گئے اب جن کے غم کا تیرا تبسم ہے پردہ دار آخر وہ کون تھے کہ بہ مژگان نم گئے اے جادہ ...

مزید پڑھیے

نقشے اسی کے دل میں ہیں اب تک کھنچے ہوئے

نقشے اسی کے دل میں ہیں اب تک کھنچے ہوئے وہ دور عشق تھا کہ بڑے معرکے ہوئے اتنا تو تھا کہ وہ بھی مسافر نواز تھے مجنوں کے ساتھ تھے جو بگولے لگے ہوئے آئی ہے اس سے پچھلے پہر گفتگو کی یاد وہ خلوت وصال وہ پردے چھٹے ہوئے کیوں ہم نفس چلا ہے تو ان کے سراغ میں جس عشق بے غرض کے نشاں ہیں مٹے ...

مزید پڑھیے

جو دشمن ہے اسے ہمدم نہ سمجھو

جو دشمن ہے اسے ہمدم نہ سمجھو نمک کو زخم کا مرہم نہ سمجھو سکوں ملتا ہے دل سے دل کو لیکن ہر اک ساغر کو جام جم نہ سمجھو جو پی لو گے تو مٹ جانا پڑے گا یہ ہے زہراب غم زمزم نہ سمجھو تم اپنے دامن حرص و ہوس کو مثال دامن مریم نہ سمجھو نہ ہو اپنی خطاؤں پر جو نادم اسے ہم مشرب آدم نہ ...

مزید پڑھیے

تو اگر شمع محبت کو فروزاں کر دے

تو اگر شمع محبت کو فروزاں کر دے تیرگی ظلم کی چاک اپنا گریباں کر دے درد کیا شے ہے زمانے پہ نمایاں کر دے غم کی ہر موج سے ہنگامۂ طوفاں کر دے روشن اس طرح سے کر علم و عمل کی مشعل کم نگاہی کے اندھیرے میں چراغاں کر دے دیکھی جاتی نہیں بے کیف فضائے گلشن اٹھ نئے سر سے اسے خلد بداماں کر ...

مزید پڑھیے

اشکوں سے تپش سینے کی ہوتی ہے عیاں اور

اشکوں سے تپش سینے کی ہوتی ہے عیاں اور جب آگ بجھاتا ہوں تو ہوتا ہے دھواں اور ہیں ایک ہی گلشن میں مگر فرق تو دیکھو پھولوں کا جہاں اور ہے کانٹوں کا جہاں اور شاید یہ کرشمہ ہے مرے نقش وفا کا وہ جتنا مٹاتے ہیں ابھرتا ہے نشاں اور سر اپنا اٹھا لوں جو در یار سے ناصح سجدہ یہ محبت کا ادا ...

مزید پڑھیے

جیسے کوئی روتا ہے گلے پیار سے لگ کر

جیسے کوئی روتا ہے گلے پیار سے لگ کر کل رات میں رویا تری دیوار سے لگ کر ہر ایک کے چہرے پہ ہے تشویش نمایاں بیٹھے ہیں مسیحا ترے بیمار سے لگ کر پھولوں کی محبت نے سبق مجھ کو سکھایا زخمی جو ہوئے ہاتھ مرے خار سے لگ کر غمازئ خوشبو پہ کھلا راز چمن میں گزری ہے صبا گیسوئے دلدار سے لگ کر جب ...

مزید پڑھیے

تازہ ہوا بہار کی دل کا ملال لے گئی

تازہ ہوا بہار کی دل کا ملال لے گئی پائے جنوں سے حلقۂ گردش حال لے گئی جرأت شوق کے سوا خلوتیان خاص کو اک ترے غم کی آگہی تا بہ سوال لے گئی شعلۂ دل بجھا بجھا خاک زباں اڑی اڑی دشت ہزار دام سے موج خیال لے گئی رات کی رات بوئے گل کوزۂ گل میں بس گئی رنگ ہزار مے کدہ روح سفال لے گئی تیز ہوا ...

مزید پڑھیے

وہ ایک رو جو لب نکتہ چیں میں ہوتی ہے

وہ ایک رو جو لب نکتہ چیں میں ہوتی ہے سخن وہی دل اندوہ گیں میں ہوتی ہے کوئی وہ شک کا اندھیرا کہ جس کی جست کے بعد چمک سی سلسلہ ہائے یقیں میں ہوتی ہے بہار چاک گریباں میں ٹھہر جاتی ہے جنوں کی موج کوئی آستیں میں ہوتی ہے وہ خاک انجم و مہتاب کو نصیب نہیں جو موج مرگ و نمو کی زمیں میں ہوتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3780 سے 4657