ہوا آشفتہ تر رکھتی ہے ہم آشفتہ حالوں کو
ہوا آشفتہ تر رکھتی ہے ہم آشفتہ حالوں کو برتنا چاہتی ہے دشت مجنوں کے حوالوں کو نہ آیا کچھ مگر ہم کشتگان شوق کو آیا ہوا کی زد میں آخر بے سپر رکھنا خیالوں کو خدا رکھے تجھے اے نقش دیوار صنم خانہ کہیں گے لوگ دیوار ابد تیری مثالوں کو اندھیری رات میں اک دشت وحشت زندگی نکلی چلا جاتا ...